25

BBCUrdu.com | پاکستان | ’پاکستان، اوبامہ کا بدترین بھیانک خواب‘


 

 

پاکستان کی جانب اوبامہ کی اپنی پالیسی واضح نہیں ہے

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے نیوکلیئر اسلحہ تک انتہاپسندوں کی رسائی روکنے کے لیے جتنے اربوں ڈالر
خرچ کر رہا ہے اتنے وہ افغانستان اور عراق میں دہشتگردوں کو ختم کرنے پر بھی نہیں کر رہا ہے۔

اخبار کے مطابق ’امریکہ کےنزدیک عراق اور افغانستان کو مستحکم کرنے سے زیادہ پاکستان کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے اس کا سب کچھ
داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ پاکستان کے ٹوٹ جانے سے اس کا نیوکلیئر اسلحہ القاعدہ اور دوسری اسلامی شدت پسند تنظمیوں کے ہاتھ لگ
سکتا ہے-‘

یہ باتیں بااثر امریکی اخبار نے اپنے اتوار کے شمارے کے ساتھ آنیوالے ’نیویارک ٹائمز میگزین‘ میں ایک جامع تحقیقی رپورٹ میں
کہی ہیں- اس تحقیقی رپورٹ کا موضوع ہے ’پاکستان، اوبامہ کا بدترین بھیانک خواب۔‘

یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز کے واشنگٹن میں نامہ نگار ڈیوِڈ ای سینيگر کی آئندہ ماہ آنیوالی کتاب ’اوبامہ کو درپیش دنیا اور امریکی
طاقت‘ کے عنوان سے لیے گئے اقتباسات پر مبنی ہے۔ یہ کتاب اگلے ماہ شائع ہو رہی ہے۔

مصنف نے راولپنڈی میں چکلالہ کے فضائی اڈے کے قریب پاکستانی فوج اور انٹیلیجلنس ایجنسیوں کے گيریزن، اور سکیورٹی میں گھرے ہوئے
پاکستان کے جوہری اسلحہ کے پروگرام کے کنٹرول اور کمان کے انچارج خالد قدوائي سمیت کئي امریکی انٹیلیجنس اور نیوکلیئر سائنس اور
سیاست کے ماہرین سے کیے گئےانٹرويوز کے کئي حوالے بھی دیے ہیں-

 اخبار نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی کمان اور کنٹرول کے سربراہ خالد قدوائی کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی قیادت ناکام
بھی ہوجائے تب بھی پاکستان کے نیوکليئر پروگرام کی قومی کمان اور اسلحے پر کنٹرول فوجی اور سول قیادت سمیت ایسے ہاتھوں میں ہے
جن تک شدت پسندوں کی رسائي ناممکن ہے-

 

مضمون میں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے کمان اور کنٹرول کے دفاتر اور چکلالہ کی فوجی چھاؤنی کی ہاتھ سے بنی ہوئی رنگین نیم
خیالی تصویر بھی دی گئي ہے-

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نیوکلیئر کمان اینڈ کنٹرول کے ادارے کا اہم کام پاکستان کی نیوکلیائي تنصیبات کو بھارت،
مغربی ممالک اور غصیلے امریکیوں سے بھی بچانا ہے-

اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو سب سے بڑ ا خطرہ پاکستان کے سرحدی علاقے کے جہادیوں کے ہاتھوں میں آنے کا نہیں بلکہ پاکستان
کے نیوکلیائي اسلحہ کا ’غلط ہاتھوں‘ میں چلے جانے کا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ عراق اور افغانستان میں اپنی جانوں اور کروڑوں ڈالروں کے ضیاع سے زیادہ امریکہ اربوں ڈالر پاکستان کے نیوکلیائي
اسلحے کی حفاظت اور اسے شدت پسندوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھنے پر خرچ کر چکا ہے-

رپورٹ میں نیوکلیئر امور کے ماہر اور ہارورڈ یونیوورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب دہشتگردی اور وسیع
تباہی کے ہتھیاروں کے حوالے سے بات آتی ہے تو تمام راستے پاکستان کی طرف جاتے ہیں۔

’اگرچہ پاکستان کی نیوکلیئر سیکورٹی اب پہلے سے کہیں بہتر ہے لیکن (اگر پاکستان کے مستقبل) پر نظر ڈالی جائے تو جب قیادت ناکام
ہوجاتی ہے تو پھر کوئي وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ نیوکلیئر تنصیبات، اسلحہ اور تجربہ گاہیں کس کے کنٹرول اور کس کے ہاتھ لگتی ہیں-‘

لیکن اخبار نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی کمان اور کنٹرول کے سربراہ خالد قدوائی کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی قیادت
ناکام بھی ہوجائے تب بھی پاکستان کے نیوکليئر پروگرام کی قومی کمان اور اسلحے پر کنٹرول فوجی اور سول قیادت سمیت ایسے ہاتھوں
میں ہے جن تک شدت پسندوں کی رسائي ناممکن ہے-

 اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نیوکلیائي ڈھانچے یا انفرا اسٹکچر میں ستر ہزار لوگ کام کرتے ہیں جن میں سات ہزار سے آٹھ ہزار تک
سائنسدان ہیں اور ان میں دو ہزار لوگ انتہائي حساس قسم کی معلومات رکھتے ہیں- رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی نیوکلیئر انفرا اسٹرکچر
میں کام کرنے والے ان ملازمین کا ایک فی صد حصہ بھی انتہا پسندوں سے ہمدردی رکھتا ہو تو یہ امریکہ کے لیے انتہائی تشویشناک بات
ہے۔

 

خالد قدوائی امریکہ کی طرف سے پاکستان کے نیوکلیائي پروگرام پر انتہا پسندوں کے قبضے کے خدشات پر امریکہ کو یاد دلاتے ہیں کہ دو
ہزار تین میں خود امریکی انٹیلیجنس ادارے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی کھوج لگانے میں کتنا کامیاب ہوگئے تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نیوکلیائي ڈھانچے یا انفرا سٹرکچر میں ستر ہزار لوگ کام کرتے ہیں جن میں سات ہزار سے آٹھ ہزار تک
سائنسدان ہیں اور ان میں دو ہزار لوگ انتہائي حساس قسم کی معلومات رکھتے ہیں- رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی نیوکلیئر انفرا اسٹرکچر
میں کام کرنے والے ان ملازمین کا ایک فی صد حصہ بھی انتہا پسندوں سے ہمدردی رکھتا ہو تو یہ امریکہ کے لیے انتہائی تشویشناک بات
ہے۔

لیکن خالد قدوائی کے حوالے سے اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان میں نیوکلیائي کمان اور کنٹرول نے نیوکلیئر انفرا سٹرکچر کے ملازمین اور
سائنسدانوں کی ذاتی جانچ پڑتال کا ایسا نظام وضع کیا ہے کہ ان کے بینک کھاتوں، غیرملکی دوروں اور سماجی میل جول پر بھی چوکسی رکھی
جاتی ہے-

اخبـار نے بش انتظامیہ میں ایک اعلی عملدار کے خدشات کے حوالےسے بتایا ہے کہ فکر اس وقت ہوتی ہے جب پاکستانی نیوکلیئر عملہ ہتھیار
ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے اور اس وقت نیوکلیئر ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھوں چھینے جانے کے خدشے کو نظر انداز نہیں
کیا جاسکتا-

امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ انتہا پسندوں کے حمایتی عناصر پاکستان کی توجہ دہشتگردی اور نیوکلیئر ہتھیاروں سے ہٹانے کے لیے پاکستان
بھارت کے درمیاں جنگ کو ہوا دے رہے ہیں-

نیویارک ٹائمز نے اس رپورٹ میں گِنوایا ہے کہ پاکستان میں نیوکليئر اسلحے کی ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منقتلی اور انہیں الگ الگ
کرکے مقفل رکھنے کی خفیہ تربیت پر امریکہ ایک سو ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

 اخبار لکھتا ہے کہ گزشتہ برس پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا امریکی دورہ ایک تباہی تھا- صدر بش سے ان کی ملاقات کے دوران
پاکستان کے فوجی آپریشنز کے متعلق اتنا پتہ وزیر اعظم گیلانی کو نہیں تھا جتنا امریکی صدر جارج بش اور نیشنل سکیورٹی کے مشیر اسٹفین
ہیڈلے کو تھا-

 

تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان کو امریکہ کی طرف سے اس کے نیوکلیائي پروگرام کی حفاظت میں مدد کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا
ہے اور پاکستان کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد پاکستان کے نیوکلیئر اسلحہ کو چھین کر لے جانا ہے- اسی لیے پاکستان زیادہ سے
زیادہ نیوکلیئر ہتھیار بنانا چاہتا ہے- اور امریکی عملداروں کو پاکستان پر یقین نہیں ہے کہ وہ کتنے نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے
بارے میں امریکہ کو بتاتا ہے اور کتنی تعداد خفیہ رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ اسے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں اگر بحران پیدا ہوتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ وہاں کوئي بھی امریکی
صدر کو یہ بتانے کے قابل ہوگا کہ پاکستان کے تمام نیوکلیائي ہتھیار کہاں ہیں یا یہ کہ وہ اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں چلے
گئے ہیں-

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سی آئی اے کے دو سینیئر عملداروں نے پاکستان کا دورہ
کیا تھا اور تب فوجی حکمران صدر مشرف کو خبردار کیا تھا کہ انتہا پسندوں کا دوسرا اقدام حکومت پر قبضہ کرنا ہے-

اخبار لکھتا ہے کہ گزشتہ برس پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا امریکی دورہ ایک تباہی تھا- صدر بش سے ان کی ملاقات کے دوران
پاکستان کے فوجی آپریشنز کے متعلق اپنی معلومات وزیر اعظم گیلانی کو نہیں تھی جتنی کہ امریکی صدر جارج بش اور نیشنل سکیورٹی کے
مشیر اسٹفین ہیڈلے کو-

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ کو صدر بش کے بعد ترکے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اصل
میں غیرفعال تعلقات ملیں گے۔ واشنگٹن میں کوئي بھی اس کا اعتراف نہیں کرے گا کہ باراک اوبامہ کو پاکستان اور افغساتان کے متعلق
انٹیلیجنس نے جو وسیع ترین بریفنگز دی ہیں اس میں انہیں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے نزدیک افغانستان اور عراق کے استحکام سے زیادہ
پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانا زیادہ ضروری ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply