21

BBCUrdu.com | پاکستان | نیا سوات: ایک سال بعد سوات میں کیا دیکھا


 

 

ٹی این ایس ایم کارکن
مولانا صوفی محمد کے امن مارچ کے دوران بازاروں میں پولیس یا سکیورٹی فورسز کی بجائے سارا انتظام ٹی این ایس ایم کے کارکن چلاتے
رہے

جنگ سے متاثرہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں گزشتہ ایک سال کے دوران ویسے تو کئی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن جس چیز سے زیادہ حیرانگی ہوئی
وہ سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں مقامی طالبان کے طاقت میں اضافہ اور وادی پر ان کا بڑھتا ہوا کنٹرول ہے جس سے بظاہر سارا ضلع
ان کے قبضہ میں آچکا ہے۔

ایک سال پہلے جب میں سوات آیا تھا تو ان دنوں شورش صرف سوات کے بالائی علاقوں مٹہ، خوازہ خیلہ اور کبل تحصیل تک محدود تھی جبکہ
صدر مقام مینگورہ میں حالات قدرے اچھے تھے۔

ان دنوں یہ باتیں عام تھی کہ سوات میں جاری آپریشن ’ڈرامہ‘ ہے اور یہ سب کچھ سابق صدر پرویز مشرف ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جواز
ڈھونڈنے کے لیے کر رہے ہیں۔

جب ریاست باغی نظر آئے

 مٹہ کی حدود میں ایک وقت ایسا بھی محسوس ہوا کہ جیسے طالبان ریاست ہوں اور سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا ہوا
ہوں

 

بہرحال جو کچھ بھی تھا وہ اپنی جگہ لیکن اب یہ ایک حقیقت بن گئی ہے کہ سوات میں ایک سال کے دوران عسکریت پسندوں کے اثر رسوخ میں
بے پناہ اضافہ ہوا اور ایک لحاظ سے پورا ضلع ان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔

دو دن پہلے جب میں پشاور سے مینگورہ پہنچا تو شہر کے علاقے قمبر میں مسلح عسکریت پسند جی ٹی روڈ پر اسلحہ سے لیس نظر آئے جنہوں
نے چہروں پر نقاب لگائے ہوئے تھے۔ مینگورہ شہر کے اندر طالبان کو دیکھ کر انتہائی حیرت اور خوف محسوس ہوا۔

قمبر سے سوات کانٹینٹل ہوٹل تک شہر کے کسی حصے میں پولیس یا سکیورٹی اہلکار دکھائی نہیں دیا۔ مینگورہ میں رہ کر شہر کے انتظام
کو خود اپنا آپ چلتا دیکھا کیونکہ کوئی سرکاری مشینری تو تھی نہیں۔

مولانا صوفی محمد کے امن مارچ کے دوران بازاروں میں پولیس یا سکیورٹی فورسز کی بجائے سارا انتظام ٹی این ایس ایم کے کارکن چلاتے
رہے۔

صرف سرکٹ ہاؤس مینگورہ اور کچہری کے علاقے میں فوجی اور پولیس اہلکار دکھائی دیئے لیکن وہ بھی صرف وہاں قائم چیک پوسٹوں تک محدود
رہے۔
سرکٹ ہاؤس کے پاس تعینات ایک ایف سی اہلکار نے گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ کئی ماہ کے بعد کچہری کے عمارت سے باہر نکل کر سڑک کے
قریب ڈیوٹی دے رہے ہیں ورنہ اس سے پہلے تو وہ پوسٹوں میں مورچہ زن ہوتے تھے۔

ہر کوئی ناراض

 ہر کوئی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کے کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا۔ ہر ایک کے زبان پر مکانات پر مارٹر گولوں کے حملوں اور اس
میں شہریوں کی ہلاکت کی بات تھی۔ ان کی باتوں میں درد ، خوف اور انتہائی غصہ بھی تھا۔ ان میں کلین شیو افراد بھی تھے اور داڑھیوں
والے بھی

 

یہاں کھڑے سکیورٹی اہلکاروں کے چہروں پر خوشی کے آثار بھی نمایاں تھے۔

مینگورہ پولیس تھانے کو دیکھا تواس کا سارا نقشہ ہی تبدیل پایا۔ تھانے کے مرکزی دروازے پر پتھروں اور اینٹوں سے ایک مضبوط دیوار
بنائی گئی ہے اور اردگرد نہ تو پولیس اہلکار دکھائی دیا اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ پولیس اسٹیشن کا دروازہ کس طرف ہے۔

مینگورہ سے باہر طالبان کا گڑھ کہلانے والے علاقے تحصیل مٹہ کی طرف جانے کا اتفاق ہوا تو کئی علاقوں میں مسلح افراد گروپوں کی
شکل میں نظر آئے۔ کانجو سے وینے پل تک سکیورٹی فورسز کی بھی کئی چیک پوسٹیں قائم ہیں تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ان
سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔

مٹہ کی حدود میں ایک وقت ایسا بھی محسوس ہوا کہ جیسے طالبان ریاست ہوں اور سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا ہوا
ہوں۔

مٹہ میں مولانا صوفی محمد کا جلسہ ختم ہونے کے بعد لوگوں سے بات چیت کی تو ہر کوئی آپریشن اور سکیورٹی فورسز کے کارروائیوں پر
تنقید کرتا رہا۔ ہر ایک کے زبان پر مکانات پر مارٹر گولوں کے حملوں اور اس میں شہریوں کی ہلاکت کی بات تھی۔ ان کی باتوں میں درد
، خوف اور انتہائی غصہ بھی تھا۔ ان میں کلین شیو افراد بھی تھے اور داڑھیوں والے بھی۔

وہ سب یہ دلیل دیتے رہے کہ ’ آیئے ہم اپ کو گاؤں کا چکر لگا آتے ہیں، اپ کو مٹہ گاؤں میں ایک بھی ایسا مکان نہیں ملے گا جسے مارٹر
حملوں میں نشانہ نہ بنایا گیا ہواور ہر ہر گھر میں لوگ نہ مرے ہوں، آخر ہمارا قصور کیا تھا، ہمیں کس لیے نشانہ بنایا گیا، کیا
سارا مٹہ گاؤں طالبان تھے۔‘

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply