50

BBCUrdu.com | پاکستان | ممبئی حملے، پاکستان پر امریکی موقف


 

 

بعض ماہرین کے خیال میں امریکہ پاکستان پر سخت موقف اپنا سکتا ہے


امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اسلام آباد کے اپنے ایک اور مختصر دورے میں پاکستانی قیادت کے لئے کافی واضح اور سخت پیغام دے
کر چلی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کافی خفیہ معلومات دستیاب ہیں، لہذا پاکستان کو اب اگر کچھ کرنا ہے تو بس مشتبہ افراد کے خلاف
کارروائی ہی کرنی ہے۔

وزیر خارجہ رائس محض پانچ گھنٹے کے قیام کے دوران اپنی اور بھارت کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بال پاکستانی کورٹ میں چھوڑ کر چلی
گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کی صورت میں دو ممالک کا یہ پاکستان مخالف اتحاد
کیا کر سکتا ہے۔

ویسے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی وجہ سے شاید نہ امریکہ اور نہ ہی بھارت کے پاس
زیادہ ’آپشن‘ موجود ہیں۔ اکثر تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے میں نہ تو کسی حملے اور نہ ہی کسی جنگ کا امکان موجود ہے۔ مبصرین اسے
پاکستان کے خلاف تیار کیے جانے والے کیس کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

اگر کوئی خطرہ ہے تو پاکستان پر مسلسل دباؤ کا جس کا مقابلہ موجودہ حکمرانوں نے اب تک کوئی زیادہ اچھے انداز میں نہیں کیا ہے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ کو تحقیقات کے لئے ’بھجوانے‘ سے لے کر صدر آصف علی زرداری کا خود اعتراف کہ ممبئی حملوں میں حکومت یا اس
کا کوئی ادارہ ملوث نہیں تاہم یہ ’نان سٹیٹ‘ یا غیر ریاستی عناصر ہوسکتے ہیں حکومت کے لئے آگے چل کر مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ غیرریاستی عناصر کے ’بھونڈے موقف‘ پر بھی اپنی پوزیشن واضح کرچکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عناصر حکومت
سے یقینا باہر ہوتے ہیں لیکن ان سے نمٹنا حکومت وقت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان کا مطلب درست ہے کہ پھر یہ کیسی ریاست ہے جہاں
سے دوسرے ممالک پر مبینہ حملے ہوں اور آپ خاموشی سے انہیں دیکھتے رہیں۔

سابق سفارتکار طیب صدیقی کا کہنا ہے کہ غیر ریاستی عناصر والا مفروضہ کوئی بھی نہیں خرید رہا۔ ’آپ تو یہ کہہ کر مان رہے ہیں کہ
حملے شاید اسی علاقے سے ہوئے ہوں۔ یہ راگ الاپنا پرگز ملک کے مفاد میں نہیں۔‘

پاکستان کے بھارت سے مطالبے کہ مشتبہ افراد کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کیے جائیں، کونڈولیزا رائیس نے اس کو بھی بےمعنی قرار دے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں جو ہوا اس کے بارے میں بہت معلومات دستیاب ہیں۔ لہذا شواہد کے تبادلے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے
یعنی صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ معلومات بہت ہیں اصل مسئلہ اس کی بنیاد پر کارروائی کا ہے۔

کئی تجزیہ نگار اسے امریکہ کی جانب سے ڈھکی چھپی تنبیہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا
تو ماہرین کے خیال میں یہ تاثر درست نہیں کہ امریکہ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔

طیب صدیقی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان پر دباؤ کی خاطر اقتصادی امداد کم یا بند کرسکتا ہے۔ ’وہ پاکستان کو دہشت گرد ممالک کی فہرست
میں شامل کرسکتا ہے۔ امریکہ کے ترکش میں کئی تیر ہیں، یہ نہ سمجھیں کہ وہ یہاں صرف بات کرکے چلی گئیں۔‘

اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کے دونوں ہمسایہ ممالک کے دورے کے دوران ان کے رویے سے بھی تعلقات کی نوعیت سے متعلق اشارے ملتے
ہیں۔ بھارت میں تو وزیر خارجہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مشترکہ پریس کانفرنس منقعد کی لیکن اسلام آباد میں انہوں نے ایسا کرنا
مناسب نہیں سمجھا۔ پاکستان میں بلکہ صدر نے اس نازک موقع پر سنجیدہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ اس کو اپنی بیٹی کے ساتھ مشترکہ تصویر
کا نادر موقع سمجھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھایا۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے ساتھ یہ سب سلوک محض اور محض اس کی جوہری صلاحیت ہے۔ طیب صدیقی بھی مانتے ہیں کہ جوہری ہتھیار
جوکہ پاکستان کے لئے سکیورٹی نکتہ نظر سے باعث اطمینان ہونا چاہیے تھا وہی اس کے لئے باعث مشکل بنائی جا رہی ہے۔

اس بابت ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گزشتہ دنوں ’دنیا خطرے میں‘ کے عنوان سے امریکی کانگریس کی اس رپورٹ میں اس خدشے
ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد آئندہ تین سے پانچ برس میں نیوکلیائی یا حیاتیاتی ہتھیار حاصل کرسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس طرح کے
حملوں کا منبع پاکستان ہو۔

ماہرین کے مطابق ملک کے اس اہم اور نازک موڑ پر ضرورت ’ایک ٹیلیفون‘ کی بنیاد پر قومی پالیسی کی تیاری کی بجائے قومی سطح پر بحث
کی ضرورت ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply