27

BBCUrdu.com | پاکستان | فوری فیصلہ مگر فوری انصاف نہیں


 

 

سنہ انیس سو چورانوے میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلٰی آفتاب شیرپاؤ نے نظام عدل شرعی 1994 ریگولیشن نافذ
کیا۔


نظام عدل ریگولیشن سترہ پاٹا ریگولیشن سنہ دو ہزار آٹھ کا تسلسل ہے جس میں عدالت کی طرف سے کسی بھی شخص کو تین سہولتیں مہیا ہوتی
تھیں۔ یعنی وہ مقدمے کا فیصلہ رواج کے مطابق چاہتا ہے، شریعت کے مطابق یا پھر سول کورٹ میں جانا چاہتا ہے۔

سنہ 1989 میں جب تحریک نفاذ شریعت محمدی قیام میں آئی تو اس کا مطالبہ تھا کہ چونکہ سترہ پاٹا ریگولیشن شرعی نہیں ہے اس لیے اس
کو ایک نظام عدل چاہیے جو کہ شرعی قوانین کے مطابق ہو۔ اس مطالبے کے حصول کے لیے تحریک نفاذ شریعت محمدی نے مسلح اور سیاسی جدوجہد
کی۔

انیس سو چورانوے میں وکلاء نے انسانی حقوق کو بنیاد بناتے ہوئے سترہ پاٹا ریگولیشن کو چیلنج کردیا۔ یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں گیا
اور پھر سپریم کورٹ نے اس پر فیصلہ سنایا۔

سنہ انیس سو چورانوے میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلٰی آفتاب شیرپاؤ نے نظام عدل شرعی 1994 ریگولیشن نافذ
کیا۔ اس ریگولیشن میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی سول جج کے ساتھ ایک معاون قاضی بیٹھے گا۔ معاون قاضی علمِ دین کے ماہر ہوں گے اور
وہ سول جج کو سول اور فوجداری مقدموں میں شریعت کے مطابق مشورہ دیں گے لیکن سول جج پر لازم نہیں ہو گا کہ وہ یہ مشورہ مانیں۔

نظام عدل شرعی 1994 ریگولیشن میں دوسری بات یہ تھی کہ اس میں کسی معیاد کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ کتنے وقت میں
کیا جائے۔ لیکن اس ریگولیشن میں فیصلے جلد ہی ہونے تھے کیونکہ وکالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا تھا یعنی کہ فریقین ہوتے تھے، ان کی
شہادتیں ہوتی تھیں لیکن وکلاء اور ان کے دلائل اور جرح نہیں ہوتی تھی۔

تاہم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے قائد مولانا صوفی محمد کو 1994 ریگولیشن پر اعتراض یہ تھا کہ معاون قاضی یا تو ان کی جماعت سے
لیے جائیں یا پھر ان کی سفارش پر لیے جائیں۔ ان کا دوسرا اعتراض تھا کہ معاون قاضی کا مشورہ سول جج پر لازم قرار دیا جائے۔

سنہ انیس سو ننانوے میں ترمیم شدہ 1994 ریگولیشن نافذ کیا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ معاون قاضی کا مشورہ سول جج پر لازم ہوگا۔
لیکن جہاں تک معاون قاضی کی اہلیت کا تعلق تھا اس پر حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز کردہ اہلیت کے مطابق قاضی کی تقرری
کی بات کی۔

اس کے بعد سے تحریک نفاذ شریعت محمدی کا مطالبہ یہ رہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام ہو۔ شرعی نظام کا مطلب اس کے نزدیک یہ
تھا کہ ایک قاضی ہو جو کہ جلدی انصاف مہیا کرے۔ جلدی انصاف سے ان کا مطلب تھا ’فوری فیصلہ‘ یعنی انصاف ہو یا نہ ہو لیکن مقدمے
کا فیصلہ جلد کیا جائے۔

سوالات

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مالاکنڈ کی حد تک تو نوے روز میں فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن کیا ایسا کوئی قانون وفاقی شریعت کورٹ میں موجود
ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جلدی فیصلے کرنے سے ’فوری انصاف‘ مہیا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ مقدمے میں دلائل
اور جرح کے نہ ہونے سے کیا انصاف مل جائے گا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا نظام عدل شرعی 2008 ریگولیشن میں خیال نہیں رکھا گیا۔

 

نظام عدل شرعی 2008 ریگولیشن میں طریقہ کار میں ترامیم کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نوے روز کے اندر مقدمے کا فیصلہ ہو جانا
چاہیے۔ اس طرح انسی سو چورانوے سے جو عدالتی نظام چلا آ رہا ہے وہ اپنی جگہ رہے گا اور 2008 ریگولیشن میں تبدیلی یہ ہے کہ مقدمے
کا فیصلہ نوے روز میں کیا جائے گا اور اگلے نوے روز کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکے گی۔

علاوہ ازیں اس فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں نہیں بلکہ وفاقی شریعت کورٹ میں کی جائے گی۔ اور وفاقی شریعت کورٹ بھی نوے روز
کے اندر ہی فیصلہ کرے گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مالاکنڈ کی حد تک تو نوے روز میں فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن کیا ایسا کوئی قانون وفاقی شریعت کورٹ میں موجود
ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جلدی فیصلے کرنے سے ’فوری انصاف‘ مہیا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ مقدمے میں دلائل
اور جرح کے نہ ہونے سے انصاف مل جائے گا؟ یہ سوال وہ ہیں جن کا نظام عدل شرعی 2008 ریگولیشن میں خیال نہیں رکھا گیا۔

مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا فوری انصاف کے حوالے سے ایک تجربہ رہا ہے۔ جو بھی مدعی مقدمہ دائر کرتا تھا، جس کے خلاف کرتا تھا، جرگے
میں موجود لوگ اس کو اور ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ان کو جھگڑے کی تاریخ بھی معلوم ہوتی تھی۔

مقدمات کے فیصلے ان کے رواج کے مطابق ہوتے تھے اور وہ فیصلے سب کو قبول ہوتے تھے۔ لیکن نظام عدل شرعی 2008 ریگولیشن نہ تو رواج
ہے اور نہ ہی ریگولر قانون۔ اور اس ریگولیشن سے فوری فیصلے تو مل سکتے ہیں لیکن فوری انصاف نہیں۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اگر عوام کو انصاف نہ ملا تو ان کا رد عمل کیا ہو گا؟ کیا پھر سے ایک اور نظام لایا جائے گا؟
کیا ایک اور تحریک چلائی جائے گی؟ کیا ایک اور مولانا فضل اللہ اور مولانا صوفی محمد آگے آئیں گے؟

مئی سنہ دو ہزار آٹھ میں سرحد کی حکومت نے مولانا فضل اللہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کو مولانا فضل اللہ نے بعد میں توڑ دیا۔
اس معاہدے سے قبل سرحد حکومت نے مولانا صوفی محمد کو رہا کیا اور مولانا فضل اللہ کو عندیہ دیا کہ حکومت امن چاہتی ہے اور بات
چیت کرنا چاہتی ہے اور جو مطالبات ہیں ماننے کے لیے تیار ہے۔

صوبائی حکومت کا مفروضہ ہے کہ حکومت مولانا فضل اللہ کو بیت اللہ محسود سے علیحدہ کردیں گے

اس وقت بات چیت بھی ہوئی اور معاہدہ بھی ہوا لیکن معاہدہ بعد میں ٹوٹ گیا۔ مولانا صوفی محمد اس معاہدے کے حق میں تھے اوراگروہ
اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے اور یہ معاہدہ نافذ رہتا تو شاید یہ خون خرابہ نہ ہوتا۔

اس معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد سرحد حکومت کو اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بیت اللہ محسود اس معاہدے کے حق میں نہیں تھے۔ اس سے یہ معلوم
ہوتا ہے کہ مولانا فضل اللہ پر مولانا صوفی محمد سے زیادہ بیت اللہ محسود کا اثر تھا۔

اس وقت بھی صوبائی حکومت کا مفروضہ یہ تھا کہ حکومت مولانا فضل اللہ کو بیت اللہ محسود سے علیحدہ کر دے گی اور جب مولانا فضل اللہ
پورے نیٹ ورک سے کٹ جائیں گے تو ان کے ساتھ ڈیل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اور اس وقت بھی حکومت کا مفروضہ یہی ہے کہ ایک تو مولانا
صوفی محمد کی مولانا فضل اللہ کے ساتھ رشتہ داری بھی ہے اور وہ روحانی پیشوا بھی ہیں اور یہ کہ مولانا صوفی محمد کے پاس لوگ بھی
ہیں جو سوات میں عوام کو مولانا فضل اللہ کے خلاف کھڑا کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ مفروضہ بھی غلط ہے کیونکہ سوات میں طالبان کے خلاف پولیس نہیں کھڑی ہو سکتی تھی تو لوگ کیسے کھڑے ہوں گے۔ دوسری بات یہ
کہ عملی طور پر مولانا صوفی محمد کا کردار اس پورے سلسلے میں اتنا با اثر نہیں ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سوات کو قبائلی علاقوں سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیٹ ورک ایک ہی ہے۔ اور یہ بات مولانا
فضل اللہ بھی جانتے ہیں کہ جس دن کا ان کا تعلق بیت اللہ محسود سے ختم ہوا ان کے دن بھی گنے جائیں گے۔ اس لیے مولانا صوفی محمد
کے لیے نہایت مشکل ہے کہ وہ مولانا فضل اللہ کو بیت اللہ محسود سے علیحدہ کرسکیں۔

ایک مفروضہ یہ ہے کہ اگر مولانا فضل اللہ، بیت اللہ محسود سے علیحدہ نہیں بھی ہوئے تو عوام مولانا فضل اللہ کے خلاف کھڑے ہو جائیں
گے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام ابھی تک مولانا فضل اللہ کے حق میں تھے جو اب کھڑے ہو جائیں گے۔ مسلح منظم تنظیم
کے ساتھ عوام نہیں لڑ سکتے اور ویسے بھی یہ کام پولیس، فوج، حکومت اور ریاست کا ہے۔

 یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سوات کو قبائلی علاقوں سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیٹ ورک ایک ہی ہے۔ اور یہ بات مولانا
فضل اللہ بھی جانتے ہیں کہ جس دن کا ان کا تعلق بیت اللہ محسود سے ختم ہوا ان کے دن بھی گنے جائیں گے۔ اس لیے مولانا صوفی محمد
کے لیے نہایت مشکل ہے کہ وہ مولانا فضل اللہ کو بیت اللہ محسود سے علیحدہ کرسکیں۔

 

ان سب مفروضوں سے ہٹ کر مولانا فضل اللہ بیت اللہ محسود سے علیحدہ نہیں ہوں گے کیونکہ علیحدگی پر وہ ریاستی اداروں کے زیر اثر
آ جائیں گے اور ان کو ہتھیار ڈالنے پڑیں گے۔

سوات میں مولانا فضل اللہ کی متوازی حکومت اور عدالتیں چلتی رہیں گی اور یہ متوازی نظام ریاستی نظام کے ماتحت نہیں ہو گا۔ تو بظاہر
یہ کہا جائے گا کہ علاقے میں امن و امان ہو گیا ہے لیکن درحقیقت متوازی حکومت چل رہی ہو گی جیسے کہ وزیرستان، اورکزئی اور باجوڑ
میں چل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات کے طالبان اور قبائلی علاقوں کے طالبان میں نیٹ ورک نہ صرف قائم رہے گا بلکہ پھیلے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاہدے سے سکیورٹی فورسز اور عوام اطمینان کا سانس لیں گے اور طالبان کے لیے موقع ہو گا کہ وہ اپنے اثر
و رسوخ کا دائرہ وسیع کر سکیں۔ ان کااگلا ہدف شانگلہ، بنیر اور دیر ہوگا اور شاید یہ بات چترال تک پہنچ جائے جو کہ بہت خطرناک
ثابت ہو گا۔

غیر ریاستی عسکری تنظیم کو ایک بہت بڑا حصہ چھوڑا جا رہا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس کا سماجی طور پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یعنی طالبان کا جو مخصوص نقطہ نظر ہے خواتین کے حوالے سے، لڑکیوں کی پڑھائی کے بارے میں، سیاسی جماعتوں کے بارے میں وہ آہستہ آہستہ
علاقے کے لوگ اپنا لیں گے۔

دوسری طرف حکومت کا یہ کہنا ہے کہ نظام عدل شرعی 2008 ریگولیشن پر صدر مملکت دستخط اس وقت کریں گے جب حکومتی عملداری قائم ہو جائے
گی۔ شاید حکومتی عملداری کا مطلب یہ ہے کہ امن و امان ہو جائے اور مسلح تصادم نہ ہو۔ کیا خواتین کے پردے اور لڑکیوں کے تعلیم کے
حوالے سے دیے گئے فتوے واپس لیے جائیں گے۔ اگر فتوے واپس لیے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ فتوے غلط تھے اور نہ ہی وقت اور
حالات میں اتنی تبدیلی آئی ہے کہ وہ فتوے واپس لیے جائیں۔

خادم حسین بحریہ یونیوسٹی، اسلام آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ شدت پسندی، علاقائی تعاون، ترقیاتی منصوبہ بندی اور دفاعی
امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ آریانہ انسٹیٹیوٹ فار ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی کے رابطہ کار بھی ہیں۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply