27

BBCUrdu.com | پاکستان | سوات امن معاہدہ : ایک اور پسپائی


 

 

سوات امن معاہدہ
صوبائی حکومت اس معاہدے کو ’نظام عدل کے قیام‘ سے تعبیر کر رہی ہے لیکن صوفی محمد اسے ’نفاذ شریعت ‘ قرار دینے کو ترجیح دیتے ہیں


صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے منگل کے روز پشاور میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما صوفی محمد کے ساتھ ایک معاہدے
پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق حکومت سوات اور مالاکنڈ سمیت آٹھ اضلاع میں ایک متوازی نظام عدل قائم کرے گی۔ اس کے بدلے میں صوفی
محمد اپنے پیروکاروں کو تشدد سے باز رہنے کے لیے کہیں گے۔

صوفی محمد معاہدے کے بعد ضلع سوات کے علاقے مٹہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ مولانا فضل اللہ سے مل کر انہیں اس معاہدے کی افادیت کے حوالے
سے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے بعد سوات کے شورش زدہ علاقے میں امن کی بحالی کی توقعات پیدا ہو گئی ہیں اور صوبے میں عمومی طور
پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر زرداری نے مجوزہ آرڈیننس پر دستخط نہیں کیے جنہیں سوات میں ریاست کی عملداری بحال ہونے سے مشروط کیا
گیا ہے۔ صوبائی حکومت اس معاہدے کو ’نظام عدل کے قیام‘ سے تعبیر کر رہی ہے لیکن صوفی محمد اسے ’نفاذ شریعت ‘ قرار دینے کو ترجیح
دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس اقدام سے وابستہ توقعات پوری ہو سکیں گی۔

سوات معاہدہ
سوات معاہدے کی خبر کے بعد لوگوں نے خوشی میں مٹھائیاں بانٹی

سوات 1969 تک والئِ سوات کے زیر نگیں تھا جہاں قانونی طور پر رواج اور شریعت کے نام سے دو متوازی نظام موجود تھے۔ انصاف کی رفتار
تیز تھی اور انصاف عموماً طاقتور فریق کے حق میں ہوتا تھا۔ 1973 کے آئین میں سوات کو صوبہ سرحد میں شامل کیا گیا۔

ماضی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوفی محمد نے 1990کی دہائی میں سوات کے قدیم عدالتی نظام کی بحالی کے لیے تحریک چلانا
شروع کی۔ 1994 میں اس وقت کے وزیر اعلٰی آفتاب شیر پاؤ نے علاقے میں قاضی عدالتوں کے قیام کا قانون منظور کیا تھا۔

ستمبر 2001 میں صوفی محمد تقریباً دس ہزار افراد کا لشکر لے کر طالبان کی حمایت میں لڑنے افغانستان گئے تھے جن میں سے صرف تین
ہزار زندہ واپس آسکے۔ حکومت نے مولانا کو گرفتار کر کے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں بند کر دیا جہاں وہ 2008 تک قید رہے۔

معاہدے کے اثرات

 یہ معاہدہ ایک طرف مذہبی تشدد کی زد میں آئی ہوئی حکومت کی طرف سے کسی قدر وقفہ حاصل کرنے کی کوشش ہے تو دوسری طرف پاکستان کی
سیاسی قیادت کی اس دیرینہ روایت کا تسلسل ہے جس میں مذہب کی آڑ میں سیاسی اقتدار پر قبضے کے خواہشمند عناصر کو چھوٹی چھوٹی رعایات
دے کر سمجھا جاتا ہے کہ اس عفریت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ درحقیقت ایسا کرنے سے مذہب کا سیاسی استحصال کرنے والی قوتوں کی حوصلہ
افزائی ہوتی ہے اور ملک کی کتابِ قانون میں چند مہمل اصطلاحات کا اضافہ ہو جاتا ہے اور سیاسی انتظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو
جاتی ہیں

 

مولانا کی عدم موجودگی میں ان کے نیم خواندہ داماد فضل اللہ نے ایک غیر قانونی ایف ایم ریڈیو شروع کیا جس کی نشریات مذہبی تبلیغ
اور فرقہ وارانہ مباحث کے باعث خاصی مقبول ہوئیں۔

سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد کے واقعات کے بعد سوات میں غیر ملکی شرپسندوں کی موجودگی کی خبریں آنے لگیں۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر
2007 میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد فضل اللہ اور ان کے مسلح پیروکار ملحقہ قبائلی ایجنسی باجوڑ کی طرف فرار ہو گئے۔

2008 کے آخری مہینوں میں ایک بار پھر سوات پر فضل اللہ کے ساتھیوں کا لشکر اتر آیا جو اب خود کو تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بجائے
طالبان کے نام سے پکارتے تھے۔ انہوں نے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور سینکڑوں تعلیمی ادارے جلا ڈالے۔ علاقے میں ریاست کے وفادار
سیاسی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کی بڑی تعداد یا تو ماری جا چکی ہے یا ملک کے دوسرے حصوں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

اس کا امکان کم ہے کہ صوفی محمد سے کہیں زیادہ طاقتور فضل اللہ اپنے اثر و نفوذ سے دستبردار ہونا قبول کریں گے۔ درحقیقت سوات کی
صورتحال تنظیمی سطح پر قبائلی پٹی میں طالبان اور القاعدہ کی شورش سے منسلک ہو چکی ہے۔ طالبان اور القاعدہ کے مقاصد اور مفادات
قریب پندرہ برس قبل سوات میں شروع ہونے والی تحریک نفاذ شریعت محمدی سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

سوات میں فوج
سوات میں ریاست کی عملداری نہایت کمزور ہو چکی ہے

باخبر ذرائع کے مطابق طالبان اور القاعدہ کا صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں اثر و نفوذ کافی پھیل چکا ہے۔ جنوبی پنجاب میں طالبان
کی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز زیادہ دور نہیں ۔ ذرائع ابلاغ اور دیگر طاقتور حلقوں میں بھی طالبان کی قدرے حمایت موجود ہے۔ جمہوری
بندوبست سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ سوات میں ریاست کی عملداری نہایت کمزور ہو چکی ہے۔ فوج سے برسرپیکار مسلح عناصر اپنی بہتر
صورت حال کے باعث ایک بے دست و پا صوبائی حکومت کے ساتھ ایسا معاہدہ کیوں کریں گے جس میں انہیں بالآخر اپنے حتمی نصب العین سے
پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ جب ملک کے دوسرے حصوں تک سوات میں ’نفاذ شریعت ‘ کی خبر پہنچے گی تو مذہبی جماعتوں کی طرف سے پورے ملک
میں نفاذ شریعت کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔

یہ معاہدہ ایک طرف مذہبی تشدد کی زد میں آئی ہوئی حکومت کی طرف سے کسی قدر وقفہ حاصل کرنے کی کوشش ہے تو دوسری طرف پاکستان کی
سیاسی قیادت کی اس دیرینہ روایت کا تسلسل ہے جس میں مذہب کی آڑ میں سیاسی اقتدار پر قبضے کے خواہشمند عناصر کو چھوٹی چھوٹی رعایات
دے کر سمجھا جاتا ہے کہ اس عفریت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ درحقیقت ایسا کرنے سے مذہب کا سیاسی استحصال کرنے والی قوتوں کی حوصلہ
افزائی ہوتی ہے اور ملک کی کتابِ قانون میں چند مہمل اصطلاحات کا اضافہ ہو جاتا ہے اور سیاسی انتظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو
جاتی ہیں۔

طالبان نے اس معاہدے کے بعد دس روز کے لیے فائر بندی کا اعلان کیا ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمہوریت کو
کفر قرار دینے والے صوفی محمد کے درمیان یہ معاہدہ اور اس سے پیدا ہونے والی توقعات بھی اتنے ہی دنوں کی مہمان ہیں۔

(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے
مصنف بھی ہیں۔)

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply