53

BBCUrdu.com | پاکستان | اوباما، چیلنج طالبان، القاعدہ میں تفریق

 

ڈرون
طالبان کے بیان کو جنوبی ایشیا کی حالیہ تاریخ اور قبائلی علاقوں میں جاری امریکی حملوں کے تناظر میں پرکھا جائے تو یہ اس وراثت
کا ایک اہم حصہ ہے جو نئے امریکی صدر کو بش انتظامیہ سے ملی ہے


پاکستانی طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک نئی امریکی انتطامیہ صدر جارج بش کی دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متعلق تمام پالیسیاں عملاً ترک
نہیں کر دیتی، طالبان باراک اوباما کی فتح پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتے۔

اس بیان میں بظاہر ایسی کوئی بات نہیں جس کا تجزیہ یا جس پر تبصرہ کیا جا سکے۔ لیکن اگر اس بیان کو جنوبی ایشیا کی حالیہ تاریخ
اور قبائلی علاقوں میں جاری امریکی حملوں کے تناظر میں پرکھا جائے تو یہ اس وراثت کا ایک اہم حصہ ہے جو نئے امریکی صدر کو بش انتظامیہ
سے ملی ہے۔

زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ باراک اوباما سے وابستہ عالمی برادری کی توقعات اپنی جگہ، لیکن لگتا یہی ہے کہ وہ اگلے سال
بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے اپنی توجہ داخلی امور اور خاص طور پر اقتصادی امور پر دیں گے۔ ویسے بھی
انہیں اپنی ٹیم بنانے میں چند ہفتے تو لگیں گے اور یوں ان کی دہشتگردی سے متعلق پالیسی واضح ہوتے ہوئے کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ انتخابات سے پہلے یا انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی علاقوں میں
قابل عمل معلومات کی بنیاد پر فوری کارروائی کی بش پالیسی ترک نہیں کریں گے۔ لیکن اس وسیع تر پالیسی کے دائرے میں وہ اس کی سیاست
کی نوک پلک کیسے سنوارتے ہیں، اسے واضح ہونے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس دوران کیا ہو گا۔ ابھی لگ بھگ دو ماہ تک انتظامی کنٹرول بش انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔ پچھلے چند ماہ میں پاکستان
کے قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں میں جو شدت دیکھنے میں آئی، اس کی بڑی وجہ بش انتظامیہ کی یہ خواہش تھی کہ انتخابی معرکے سے
پہلے وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کر سکیں۔

 باراک اوباما سے وابستہ عالمی برادری کی توقعات اپنی جگہ، لیکن لگتا یہی ہے کہ وہ اگلے سال بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے
کے بعد سب سے پہلے اپنی توجہ داخلی امور اور خاص طور پر اقتصادی امور پر دیں گے۔ ویسے بھی انہیں اپنی ٹیم بنانے میں چند ہفتے تو
لگیں گے اور یوں ان کی دہشتگردی سے متعلق پالیسی واضح ہوتے ہوئے کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

 

عین ممکن ہے کہ انتخابی شکست کے بعد ان کی یہ خواہش مرنے کی بجائے اور بھڑک اٹھے اور بش انتظامیہ کے آخری دو ماہ میں پاکستان
کے قبائلی علاقوں پر ہونے والے حملوں میں تیزی آنے لگے۔ ایسی صورتحال میں باراک اوباما کے حلف اٹھاتے وقت جنوبی ایشیا کا میدان
جنگ کیسے سجا ہو گا اور کیا باراک اوباما کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ اسے پس پشت ڈال کر داخلی امور پر توجہ دے سکیں؟

قبائلی علاقوں میں پچھلے چند ماہ سے ہونے والے تابڑ توڑ امریکی حملوں کا اثر حال ہی میں اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل کی تباہی کی
شکل میں سامنے آیا۔ کئی لحاظ سے میریئٹ حملے نے جنوبی ایشیا میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ایک نئی شکل دی۔ اس حملے کے دو
پہلو خاص طور پر اہم ہیں۔

پہلا یہ کہ میریئٹ ہوٹل پر ہونے والا حملہ طالبان سے زیادہ القاعدہ طرز کا حملہ تھا۔ اس میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد،
اس کی مقدار اور نشانے کا انتخاب تینوں اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کام طالبان کا نہیں بلکہ القاعدہ کا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری
قبول کرنے والی فدائین اسلام نامی تنظیم پر بھی القاعدہ کے فلسفے کی واضح چھاپ نظر آئی۔ یہ تنظیم اس سے پہلے کبھی منظر عام پر
نہ آئی تھی بالکل اسی طرح جیسے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم بھی اس سے پہلے منظر عام پر نہ تھی۔

پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف پالیسی سازی میں ملوث مشیر و تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تنظیمیں باقاعدہ تنظیمیں نہیں
بلکہ گروہ ہوتے ہیں جو اکثر اوقات کسی ایک واردات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر بکھر جاتے ہیں۔ ایسی تنظیمیں قائم کرنے والے لوگوں
کی بنیادی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی خاص واردات کے لیے ایسے نئے رضاکار جمع کریں جو یا تو دوران واردات مرنے کو تیار ہوں یا اگر
بچ جائیں تو ان کا اپنے باقی ساتھیوں سے براہ راست کوئی رابطہ نہ ہو۔

 میریئٹ ہوٹل پر ہونے والا حملہ طالبان سے زیادہ القاعدہ طرز کا حملہ تھا۔ اس میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد، اس کی مقدار
اور نشانے کا انتخاب تینوں اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کام طالبان کا نہیں بلکہ القاعدہ کا ہے

 

اس حکمت عملی نے پچھلے سات آٹھ برس میں القاعدہ کو دنیا بھر میں اپنی موجودگی قائم اور اثر رسوخ برقرار رکھنے میں بہت مدد دی ہے
اور اسی پالیسی کے نتیجے میں القاعدہ کا فلسفہ مقامی سطح کے فرقہ وارانہ گروہوں تک پھیل گیا ہے۔ نتیجتاً، جہاں طالبان بنیادی طور
پر قبائلی علاقوں تک محدود ہیں وہاں یہ چھوٹے گروہ اور افراد پاکستان کے چپے چپے میں پھیل گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق ماضی
میں کالعدم انتہا پسند تنظیموں سے رہ چکا ہے لیکن صدر مشرف کے دور کے آخری چار سالوں میں ایسی تنظیموں کی ریاستی سرپرستی ختم ہونے
کے بعد یہ منتشر ہو گئے تھے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ماضی قریب میں پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں نے حکومتی پالیسی کے تحت اکثر ان شدت پسند گروہوں کو
بھارت، کشمیر اور افغانستان میں خارجہ پالیسی کے مہروں کے طور پر استعمال کیا ہے۔ لیکن پاکستان میں پچھلے دو سال میں سو سے زائد
خودکش حملوں کے بعد انٹیلیجنس ایجنسیوں سمیت ریاستی سلامتی کے تمام ادارے اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی موجودہ
سکیورٹی صورتحال میں القاعدہ کے فلسفے پر چلنے والے یہ گروہ یا افراد نہ تو پاکستان کی داخلی سلامتی اور نہ ہی اس کی خارجہ پالیسی
میں ریاست کسی کام آ سکتے ہیں۔

اس کے برعکس طالبان کے بارے میں پاکستان کے ریاستی اداروں کا رویہ کسی حد تک ابھی بھی سرپرستانہ ہے۔ سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ
پر ہونے والے حملوں کے بعد جب افغان طالبان پر امریکی عذاب ٹوٹا اور اس کے نتیجے میں بھارت نواز شمالی اتحاد نے افغانستان میں
اقتدار سنبھالا تو پاکستان کے سکیورٹی اداروں میں سخت بے چینی پھیل گئی جس کی دو بنیادی وجوہات تھیں۔

پہلی یہ کہ شمالی اتحاد نے بھارتی ریاستی اداروں کو افغانستان میں اہم کردار سونپا جو پاکستان کو کسی صورت قبول نہیں تھا۔ دوسرا،
ماضی کے تجربے کے پیش نظر پاکستان کو خدشہ تھا کہ امریکہ جلد ہی افغانستان میں دلچسپی کھو دے گا۔ اور ایسا جب بھی ہوا تو مغربی
اتحادی فوجوں کے بل بوتے پر کھڑی کرزئی حکومت فوراً گر جائے گی اور افغانستان میں طالبان پھر سے غالب ہونگے۔ اس تجزیے کے پیش نظر
پاکستان کسی صورت بھی طالبان سے بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔

دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کے پہلے چار سال میں طالبان سے متعلق پاکستان کی مبہم پالیسی نے پاکستانی طالبان کو منظم ہونے کا
بھرپور موقع فراہم کیا۔ لیکن پاکستان کو اس پالیسی کی بھاری قیمت یوں ادا کرنی پڑی کہ طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ نے بھی پاکستان
کے قبائلی علاقوں میں جڑیں پکڑ لیں۔ القاعدہ کی اس کامیابی سے ان طالبان جنگجؤں کو بھی شہ ملی جو امریکہ کے خلاف اپنی جنگ کو افغانستان
سے بھی آگے لے جانے کے حامی تھے۔

جس وقت صدر مشرف رخصت ہوئے، پاکستانی طالبان دو واضح گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ایک وہ جو اپنی توجہ صرف اور صرف افغانستان پر مرکوز
رکھنا چاہتے تھے اور دوسرے وہ جو پاکستان اور امریکہ کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے تھے اور یوں القاعدہ کے فلسفے سے زیادہ قریب
تھے۔ اس وقت تک صدر مشرف کی انتظامی ناکامیوں اور پاکستان کی سکیورٹی پالیسی میں انتشار جیسی کیفیت سے تنگ آ کر امریکہ نے بھی
معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر قبائلی علاقوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے تھے۔

 دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کے پہلے چار سال میں طالبان سے متعلق پاکستان کی مبہم پالیسی نے پاکستانی طالبان کو منظم ہونے کا
بھرپور موقع فراہم کیا۔ لیکن پاکستان کو اس پالیسی کی بھاری قیمت یوں ادا کرنی پڑی کہ طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ نے بھی پاکستان
کے قبائلی علاقوں میں جڑیں پکڑ لیں

 

منتخب حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ہوش آیا تو اس نے اپنی توجہ فوری طور پر قبائلی علاقوں سے متعلق ایک نئی پالیسی کی تشکیل
پر دی جسے پارلیمنٹ سے بھی متفقہ حمایت حاصل ہوئی۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد طالبان کو جنگ سے ہٹا کر سیاسی عمل کی جانب لانا تھا
اور ایسا کرنے میں قبائلی عمائدین اور مقامی انتظامیہ کو ایک بار پھر ایک اہم کردار سونپا گیا۔

تاہم اس پالیسی کی کامیابی کے لیے یہ انتہائی ضروری تھا کہ اس پر عملدرآمد کے دوران امریکی حملوں کی شدت میں کمی آئے۔ لیکن بش
انتظامیہ پاکستان پر اپنا اعتبار اس حد تک کھو چکی تھی کہ اس نے اس نئی پالیسی پر کسی قسم کی گرم جوشی دکھانے سے صاف انکار کر
دیا اور اپنے حملے بدستور جاری رکھے۔

پاکستان کی جانب سے پچھلے چند ہفتوں میں امریکی حملوں کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پس پردہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے
امریکہ کو یہ سمجھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی حملے طالبان اور القاعدہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ساتھ رکھنے
کی ایک بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ عین ممکن ہے کہ جب تک باراک اوباما اقتدار سنبھالیں، پاکستان کی صورتحال یا تو یہی ہو یا پھر اس سے بھی کہیں زیادہ بگڑ چکی
ہو۔ ایسے میں اگر انہوں نے بش انتظامیہ کی پالیسی جاری رکھی تو یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ طالبان اور القاعدہ باقاعدہ طور پر
ایک ہی سکے کے دو رخ بن جائیں گے جس سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی ختم ہونے کی بجائے القاعدہ کے پرچاروں کے ذریعے پورے ملک میں
پھیل جائے گی۔

لیکن اگر باراک اوباما نے پاکستان کی رائے مان لی تو انہیں سب سے پہلے اس بات پر آمادہ ہونا پڑے گا کہ طالبان اور القاعدہ میں
ایک واضح تفریق کر کے پہلے کو پاکستان کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے جبکہ دوسرے کو سختی سے کچل دیا جائے۔ لیکن
ایسا کرنے سے پہلے انہیں امریکی ریاستی اداروں اور امریکی عوام کو اس بات پر قائل کرنا ہو گا کہ طالبان کا جنوبی ایشیائی خطے میں
ایک سیاسی مستقبل ہے جبکہ القاعدہ جیسے بے ریاستی وجود کی دنیا میں کہیں جگہ نہیں۔

امریکی عوام کو پچھلے آٹھ سال سے یہ پٹی پڑھائی جا رہی ہے کہ سیاسی انتہا پسندی اور دہشتگردی میں کوئی فرق نہیں۔ وہ ابھی تک اس
بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ سیاسی انتہا پسندی کو قومی دھارے میں شامل کر کے اس کا ڈنک نہیں نکالا جا سکتا۔ آٹھ سال پرانی جنگ
سے پیداشدہ اس سوچ کو بدلنا آسان نہ ہو گا۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply