23

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

 غزہ
بی بی سی نے غزہ متاثرین کے لیے امدادی اپیل نشر کرنے سے منع کردیا تھا


اب سے سترہ برس پہلے جب میں نے بی بی سی کی ملازمت اختیار کی تو ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران انسٹرکٹر نے یہ نکتہ بھی بتایا کہ
بی بی سی مفادِ عامہ کی بنیاد پر قائم نشریاتی ادارہ ہے جو کسی خاص مفاد، لابی یا حکومت کا ترجمان نہیں ہے۔اس لئے بی بی سی کی
حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ذاتی تعصبات اور دباؤ سے بالا ہوکر حقائق میں ردوبدل کیے بغیر متوازن اور غیرجانبدارانہ صحافت کو
یقینی بنایا جائے۔

ورکشاپ میں توازن اور غیرجانبداری کے موضوع پر کئی دلچسپ سوالات سامنے آئے۔ایک سوال یہ تھا کہ اگر کسی مظاہرے پر گولی چل جائے
اور آپ کے سامنے کچھ لوگ شدید زخمی حالت میں پڑے ہوں تو کیا آپ انکی جان بچانے کے لئے کسی بھی طرح کی مدد کریں گے یا خود کو صرف
رپورٹنگ تک ہی محدود رکھیں گے۔ ورکشاپ کے کچھ شرکاء کا خیال تھا کہ ہمیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ بحیثیت انسان
متاثرہ لوگوں کی ممکنہ مدد بھی کرنی چاہئیے۔ جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ ہماری ذمہ داری صرف حقائق کی رپورٹنگ ہے۔اس سے زیادہ کچھ
کرنے پر ہم اس واقعہ میں فریق بن جائیں گے۔

ایک سوال یہ بھی اٹھا کہ پیشہ ورانہ توازن یا غیرجانبداری کوئی جامد شئے ہے یا زمانے کے ساتھ ساتھ اس کی تشریح و توضیح بھی دیگر
تشریحات کی طرح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

مثلاً آج جسے صحافتی توازن اور غیرجانبداری کہا جاتا ہے،اگر اس تشریح کو دوسری عالمی جنگ کے دور پر لاگو کیا جاتا تو کیا یہ ممکن
تھا کہ ریڈیو سے چارلس ڈیگال سمیت یورپ کے ان تمام جلاوطن رہنماؤں کو ایسے خطابات و اعلانات نشر کرنے کی اجازت ہوتی جن کا مقصد
اپنے اپنے ملکوں پر قابض نازیوں کے خلاف قومی مزاحمت کو ابھارنا تھا۔ تاوقتیکہ ہٹلر کے نمائندوں کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا
موقع دیا جاتا۔

 بی بی سی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس طرح کی امدادی اپیل چاہے کتنی ہی احتیاط سے کیوں نہ مرتب کی جائے۔اسے نشر کرنے سے بی بی سی
کی غیرجانبداری پر عوامی اعتماد مجروح ہوسکتا ہے۔یہ دلیل درست نہ سمجھنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ماضی میں برما کےسمندری طوفان
کے متاثرین کی امداد کے لئے بی بی سی ڈی ای سی کی انسانی اپیل نشر کرچکا ہے۔تو کیا انسانی امداد کی ضرورت صرف سمندری طوفان کے
متاثرین کو ہوتی ہے۔بموں

 

اور اگر اسی نشریاتی پالیسی پر عالمی جنگ کے بعد بھی کاربند رہا جاتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ بی بی سی انیس سو بیاسی میں برطانیہ
اور ارجنٹینا کے درمیان لڑی جانے والی فاک لینڈ جنگ کی کوریج آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے کرنے کے حق پر تھیچر حکومت کی
نکتہ چینی کے باوجود ڈٹا رہتا۔ یہ وہ سوالات تھے جن کا تربیتی ورکشاپ میں کوئی متفقہ جواب سامنے نہ آسکا۔

اسی طرح جب سن دو ہزار تین میں عراق امریکہ جنگ کے دوران صحافیوں کو امریکی اور برطانوی فوجی یونٹوں کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ تو
یہ سوال اٹھا کہ کیااس طرح کی رپورٹنگ بی بی سی کی توازن اور غیرجانبداری کی تعریف پر پورا اتر سکے گی۔اس کا یہ حل نکالا گیا کہ
فوجی یونٹوں سے منسلک رپورٹر یا بی بی سی کے میزبان ہر مراسلے کے بعد یہ وضاحت کریں گے کہ یہ رپورٹنگ کن حالات میں کی جا رہی ہے۔

یہ باتیں مجھے یوں یاد آرہی ہیں کہ بی بی سی نے برطانوی فلاحی تنظیموں کے گروپ ڈزآسٹر ایمرجنسی کمیٹی ( ڈی ای سی) کی جانب سے غزہ
کے متاثرین کی اپیل یہ کہہ کر نشرکرنے سے انکار کردیا ہے کہ اسے شبہہ ہے کہ موجودہ غیریقینی حالات میں ڈی ای سی کی امداد غزہ پہنچ
پائے گی۔ تاہم بی بی سی کے اس موقف کے خلاف یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ یہ طے کرنا نشریاتی اداروں کا نہیں بلکہ امدادی اداروں کا
کام ہے کہ وہ کس طرح امداد متاثرین تک پہنچاتے ہیں۔

بی بی سی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس طرح کی امدادی اپیل چاہے کتنی ہی احتیاط سے کیوں نہ مرتب کی جائے۔اسے نشر کرنے سے بی بی سی
کی غیرجانبداری پر عوامی اعتماد مجروح ہوسکتا ہے۔ یہ دلیل درست نہ سمجھنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ماضی میں برما کےسمندری طوفان
کے متاثرین کی امداد کے لئے بی بی سی ڈی ای سی کی انسانی اپیل نشر کر چکا ہے۔ تو کیا انسانی امداد کی ضرورت صرف سمندری طوفان کے
متاثرین کو ہوتی ہے۔ بموں کے متاثرین کو نہیں ہوتی۔اور اگر پھر بھی بی بی سی کو اپیل نشر کرنے میں تامل ہے تو وہ اس اعلان کے ساتھ
بھی یہ نشر کرسکتا ہے کہ اس اپیل کے مواد کا بی بی سی کی ادارتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے بی بی سی اور دیگر
نشریاتی ادارے برطانوی سیاسی جماعتوں کا منشور پارٹی پولٹیکل براڈ کاسٹ کہہ کر نشر کرتے ہیں۔

اس تنازعے میں ایک جانب بی بی سی تنہا کھڑا ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں، حکومتِ برطانیہ اور آئی ٹی وی ، چینل
فور اور چینل فائیو جیسے نشریاتی ادارے ہیں۔جن کا موقف ہے کہ غزہ کا المیہ جتنا عسکری یا سیاسی ہے۔اس سے کہیں زیادہ انسانی ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply