33

BBCUrdu.com | قلم اور کالم


 

 

 خالد حسن
آخری وقت تک خالد حسن کے کالم ڈیلی ٹائمز اور فرائی ڈے ٹائمز میں باقاعدگی سے چھپتے رہے

پاکستان کے نامور صحافی، کالم نگار اور مترجم خالد حسن چھ فروری کی صبح امریکی ریاست ورجینیا میں انتقال کر گئے ہیں۔

لاہور میں مقیم اُن کے بھائی مسعود حسن نے بتایا ہے کہ 19 جنوری کو نمونیے کی شکایت پر انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن
خون کے مختلف ٹیسٹ کرنے پر کینسر کا انکشاف ہوا جو کہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چُکا تھا۔

چھ فروری کو انہیں خصوصی ٹیسٹ کے لیے ایک اور ہسپتال میں منتقل کرنے کی تیاری ہو رہی تھی لیکن فرشتۂ اجل نے اس کا موقع ہی نہیں
دیا۔ مرحوم نے پسماندگان میں اپنی امریکی بیوی وینیتا حسن کے علاوہ ایک بیٹا جیفری حسن اور ایک بیٹی جہان حسن چھوڑی ہے۔

خالد حسن سنہ 1934 میں سری نگر میں پیدا ہوئے۔ سکول کی تعلیم جموں میں حاصل کی جہاں اُن کے والد ڈاکٹر نور حسین محکمہء صحت میں
ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ خالد ابھی نویں جماعت میں تھے کہ تقسیم کا ہنگامہ اور کشمیر کی جنگ شروع ہوگئی۔ اُن کا خاندان بمشکل جان بچا
کر سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوا جہاں سنہ 1948 میں خالد حسن نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

انھوں نے اُنیس سال کی عمر میں مرے کالج سیالکوٹ سے ایم اے انگریزی کر لیا اور جب اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی پڑھانی شروع
کی تو اپنے کئی شاگردوں کو عمر میں خود سے بڑا پایا۔

بعد میں وہ مرے کالج سیالکوٹ اور لارنس کالج گھوڑا گلی میں بھی انگریزی زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ رہے۔ سن پچاس کی دہائی میں
وہ مقابلے کا امتحان دے کر انکم ٹیکس افسر بن گئے لیکن بقول خود’۔۔ نہ تو مجھے اس کام سے دلچسپی تھی اور نہ ہی پیسہ اینٹھنے کا
شوق تھا۔۔۔‘ چنانچہ جلد ہی اس ملازمت سے کنارہ کش ہو گئے۔

1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری

بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ سنہ 1960 کے لگ بھگ ریڈیو پاکستان کی اصلاح اور تنظیمِ نو کے لیے جو براڈ کاسٹنگ کمیٹی تشکیل دی گئی
تھی، خالد حسن اس کے سیکرٹری تھے۔

لکھنے لکھانے کا آغاز 1967 میں ہوا جب انھوں نے آئی ایچ برنی کے رسالے’آؤٹ لُک‘ میں کالم نگاری شروع کی۔ صحافت کا ماحول انھیں
خوب راس آیا اور اسی زمانے میں انھوں نے انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر کی ملازمت اختیار کر لی اور ہفتہ وار
کالم OF THIS AND THAT بھی لکھنا شروع کر دیا۔

اس کالم میں ہلکا پھلکا انداز اختیار کر کے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کا جو ڈھنگ انھوں نے اپنایا وہ بعد میں اُن کی صحافیانہ
تحریروں کا طرّہ امتیاز بنا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں طنز کی کاٹ بھی شامل ہوتی گئی۔ صحافیانہ زندگی کی ابتداء ہی میں انگریزی
کالموں کے دو مجموعے A mug’s game اور The Crocodiles are here to swim منظرِ عام پر آگئے تھے۔

1972 کے آغاز میں خالد حسن ایک ایسے دلحسپ عہدے پر فائز ہوئے جس کی خوشگوار یادیں آخری دِنوں تک اُنکے ساتھ رہیں اور جن کا ذکر
وہ دوستانہ محفلوں کے علاوہ اپنے کالموں میں بھی کرتے رہے۔ یہ عہدہ تھا ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکرٹری کا۔ بھٹو صاحب اُس وقت
پاکستان کے صدر تھے۔

حامد جلال کے ساتھ مِل کر خالد حسن نے بھٹو صاحب کی جا بجا بکھری ہوئی تحریروں کو جمع کرنا شروع کیا اور تین ضخیم جلدوں کی شکل
میں ان تحریروں کو مرتب کیا۔

فارن سروس میں شامل ہونے کے بعد وہ پانچ برس تک پیرس، اوٹاوہ اور لندن میں کام کرتے رہے لیکن 1977 میں ضیاالحق کا مارشل لاء لگا
تو انھوں نے لندن میں پریس کونسلر کے عہدے سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور لندن ہی میں تھرڈ ورلڈ فاؤنڈیشن کے رسالے ’ساؤتھ‘ کے
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بن گئے۔

1979 سے 1990 تک وہ ویانا میں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر رہے۔ ملازمت کی زندگی میں یہ
ان کا خوشحال ترین دور تھا جب معمولی سی محنت کے عوض انھیں بہت بڑی تنخواہ اور اضافی سہولتیں میسر تھیں۔ خوشحالی اور فارغ البالی
کے انہی ایام میں خالد حسن نے اُردو کے بہت سے ادبی شہ پاروں کا مطالعہ کیا اور سعادت حسن منٹو کی کہانیوں کا انگریزی ترجمہ کرنے
پر کمر بستہ ہوگئے۔ ترجموں کا یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔ کہانیوں کے علاوہ انھوں نے منٹو کے لکھے ہوئے شخصی خاکوں اور منٹو
کے مضامین کو بھی انگریزی ترجموں کے ذریعے مغربی دنیا میں روشناس کرایا۔ اِن کہانیوں، خاکوں اور مضامین کو 2001 میں اسلام آباد
کے اشاعتی ادارے الحمرا نے ایک ضخیم جلد میں یکجا کر دیا جس کا عنوان تھا: A Wet Afternoon

خالد حسن کی انگریزی کتب

Score card

Rear view mirror

Give us back our onions

The empire strikes back

Private view

The fourth estate

Return of onion

Question time

The tragedy of Afghanistan

The terrorist prince

خالد حسن نے غلام عباس کی کہانیوں کے ترجمے بھی کیے اور’جموں جو ایک شہر تھا‘ کے نام سے اُردو میں ایک کتاب بھی مرتب کی جس میں
اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کیا۔

اُردو شعر و ادب سے خالد حسن کی دلچسپی بہت نو عمری میں شروع ہوگئی تھی کیونکہ اُن کے والد ڈاکٹر نور حسین اُردو اور فارسی کی
شاعری کا گہرا شغف رکھتے تھے۔ اُن کے ذاتی دوستوں میں ایم ۔ ڈی تاثیر، فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی اور جعفر علی
اثر جیسی قدآور شخصیات شامل تھیں۔ یہ لوگ جب بھی کشمیر آتے ڈاکٹر نور حسین کے گھر پہ قیام کرتے جہاں شعر و سخن کی محفلیں جمتیں۔
خالد حسن کا بچپن اور نوجوانی اسی علمی و ادبی ماحول میں گزری۔

لاہور میں خالد حسن سے اُن کے دوستوں کی آخری تفصیلی ملاقات 2006 میں ہوئی جب وہ اپنی کتاب ’O city of lights‘ کی رونمائی کے
لیے یہاں آئے تھے، یہ کتاب فیض احمد فیض کی نظموں کے کے ترجمے پر مبنی تھی۔

اگرچہ اپنا اندازِ گُل افشانیء گفتار دکھانے کے لیے وہ انگریزی کے محتاج نہیں تھے اور دوستانہ محفلوں میں بِلا تکان اُردو اور
پنجابی میں گفتگو کرتے تھے لیکن جب میز کرسی پر بیٹھ کر ٹائپ رائٹر کی طرف ہاتھ بڑھاتے تو انگریزی کی تنگنائے میں قید ہو کر رہ
جاتے۔ تاہم یہ پابندی صرف انگریزی کے تختہء ابجد تک ہی تھی، اُن کے خالص دیسی خیالات کو بھی انگریزی زبان صفحۂ قرطاس پر آنے سے
نہ روک سکتی تھی۔

خالد حسن کی انگریزی کتابوں میں Score card،Rear view mirror،
Give us back our onions،The empire strikes back،Private view، The fourth estate، Return of onion، Question time، The tragedy
of Afghanistan اور The terrorist prince شامل ہیں۔

آخر الذکر دو کتابیں راجہ انور کے مہیا کردہ اُردو مواد پر مبنی ہیں۔ قائدِاعظم کے سیکرٹری کے۔ایچ خورشید کی ڈائری کو بھی خالد
حسن نے تدوین کے بعد کتابی شکل دی اور دونوں زبانوں میں شائع کیا۔ ڈائری کا اُردو روپ قائدِاعظم کی یادیں کے نام سے منظرِ عام
پر آیا۔

خالد حسن کی زندگی کا بہت سا حصّہ یورپ اور امریکہ میں گزرا لیکن انھوں نہ کسی زمانے میں بھی وطن سے رابطہ منقطع نہیں کیا۔ سن
ستّر کے عشرے میں وہ بیرونِ ملک سے لاہور کے ہفت روزے ویو پوائنٹ کے لیے کالم بھجتے رہے۔ اس کے بعد وہ نیشن، دی نیوز اور ڈان کے
لیے بھی لکھتے رہے۔

موت سے کچھ روز قبل تک وہ ڈیلی ٹائمز اور فرائی ڈے ٹائمز میں باقاعدگی سے کالم لکھ رہے تھے جن کا اُردو رُوپ روزنامہ آج کل اور
ہفت روزہ ہم شہری میں بھی شائع ہوتا تھا۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply