26

BBCUrdu.com | قلم اور کالم


 

 

یونسکو نقشے کا ایک حصہ
دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں ڈھائي ہزار زبانوں کو خطرہ لاحق ہے


اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کہا ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں ڈھائي ہزار زبانوں کو خطرہ لاحق ہے جن میں براہوی
سمیت ستائيس پاکستانی اور ایک سو چھیانوے بھارتی زبانیں بھی شامل ہیں۔

یونسکو کا کہنا ہے کہ دنیا بھی میں اس وقت کل چھ ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک سو ننانوے ایسی ہیں جن کے
بولنے والے دس یا دس سے بھی کم رہ گئے ہیں جب کہ ایک سو ستتر زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والے دس سے پچاس کے درمیان ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کہا ہے کہ ستائیس پاکستانی زبانوں سمیت دنیا کو دو ہزار زبانوں کے ختم ہو جانے کا خطرہ ہے۔

یہ بات یونیسکو نے اکیس فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا میں بولی جانے والے زبانوں کے لیے تشکیل دیے گئے
ایک ڈیجیٹل نقشے میں کہی ہے۔ جو اکیس فروری کو اقوام متحدہ کے تحت منائے جانے والے مادری زبانوں کا عالمی دن کے حوالے سے جاری
کیا ہے۔

جمعہ کو روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں یونیسکو کی طرف سے تشکیل دیے گئے عالمی زبانوں کی اس آن لائن ایٹلس یا
نقشے کے متعلق ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گيا ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی چھ ہزار زبانوں میں سے ڈھائي ہزار زبانیں
خطرے میں ہیں جن میں سے دو سو زبانیں نزع کے عالم میں ہیں یا جنہیں یونیسکو نے مرتی ہوئي زبانیں قرار دیا ہے۔

دنیا میں جن زبانون کو خطرہ لاحق بتایا گيا ہے ان میں پاکستان کی ستائیس زبانیں بھی شامل ہیں جن میں براہوی، بلتی، مائیا(مائين)،
پورک، پھلور، کلاشہ، خووار بہادرواہی، چلیسو، دامیلی، ڈوماکی، گوار۔باٹی، گاورو، جاد، کاٹی، خووار، کنڈل شاہی اور مری، پھلورا،
سوی، سپٹی، طوروالی، اوشوجو، واکھی، یدیغا اور زنگسکاری شامل ہیں۔

معدوم ہونے کے خطرے میں آنے والی زبانوں کے لیے یونیسکو کے ڈیجیٹل نقشے میں ستائيس پاکستانی زبانوں کی متعلق مندرجہ ذیل تفصیلات
دی گئي ہیں:

بلتی: یہ زبان پاکستان اور ہندوستان میں بولی جاتی ہے اور اس وقت اس کا بولنے والا کوئي بھی نہیں۔ بلتی کو غیر محفوظ زبان کا
درجہ دیا گیا ہے۔

بشکارک اور اس کے گواری، کلامی اور کالکوٹی لہجوں کے بولنے والے پندرہ سو کے لگ بھگ ہیں جس بنا پر اس زبان کے ختم ہونے کا خطرہ
ہے۔

بٹیری: پاکستان میں دریائے سندہ کے مشرقی کنارے کوہستان ضلع میں بولی جانے والی اس زبان کے دوسرے نام بٹیری کوہستانی، بٹیرا
کوہستانی، بٹیرا وال، بنٹیرا وال کوہستانی ہیں۔ سنہ دو ہزار کی مردم شماری کے مطابق بٹیرا زبان کے بولنے والوں کی تعداد انتیس
ہزار تھی۔

بٹیراوالی زبان کو یونیکسکو نے انتہائي خطرہ لاحق گردانا ہے۔

بہادرا واہی: یہ زبان جموں اور کشمیر کے علاقے بہادر واہ میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے دوسرے نام بدریوالی، بدروہی، پہاڑی، بدروی،
بہادری اور باہی ہیں۔ سال دو ہزار ایک کی مردم شماری کے مطابق اس زبان کی بولنے والوں کی تعداد بھلیسی زبان بولنے والوں سمیت چھیاسٹھ
ہزار نو سو اٹھارہ تھی۔ یونیسکو بہادروالی کو یقینی خطرہ لاحق بتاتی ہے۔

مادری زبان کے حوالے سے یونیسکو کا لوگو یا نشان

براہوی زبان کو یونیسکو غیر محفوظ زبان بتاتی ہے۔ اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔ براہوی زبان پاکستان کے صوبہ
بلوچستان کے علاقے قلات، سندہ کے علاقے حیدرآباد، خیرپور میرس اضلاع اور ایران اور افغانستان میں بولی جاتی ہے۔

برشاسکی: برشاسکی پاکستان کے شمالی علاقے گلگت ضلع کے ہنزہ ، نگر، میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے دوسرے نام برشکی، برکاسکی
ہیں۔ سنہ دو ہزار کی مردم شماری کے مطابق، اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد ستاسی ہزار تھی۔

چلییسو: یہ زبان پاکستان میں دریائے سندہ کے مشرقی کنارے کوہستان ضلع کے کولی، پلاس، جلکوٹ میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے بولنے
والے دو ہزار کے قریب ہونگے۔

ڈامیلی: پاکستان کے صوبہ سرحد کے چترال ضلع میں دامیل وادی میں بولی جانے والی اس زبان کو یونیسکو شدید خطرے میں قرار دیا ہے۔
انیس سو ستاسی کی مردم شماری کے مطابق اس زبان کے بولنے والے ساڑھے پانچ ہزار تھے۔

ڈوماکی: پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے گلگت ضلع میں ہنزہ وادی اور مومن آباد کے علاقوں میں بولی جانے والی اس زبان کو یونیسکو
شدید خطرہ لاحق بتاتی ہے۔ انیس سو نواسی کی مردم شماری کے مطابق، ڈوماکی زبان کے بولنے والوں کی تعداد پانچ سو تھی۔

گوار باٹی: افغاستان میں کنڑ وادی اور اروندو، اور پاکستان میں جنوبی چترال میں بولی جانے والی اس زبان کو یونیسکو یقینی خطرے
سے دو چار بتاتی ہے۔ انیس سو بانوے کی مردم شماری کے مطابق اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد ساڑھے نو ہزار تھی۔

گاؤورو: دریا سندہ کے مشرقی کنارے کوہستان میں کلائي اور مہرین گاؤں میں بولی جانے والی اس زبان کو بھی شدید خطرے میں قرار
دیا گیا ہے۔ انیس سو نوے کی مردم شماری کے مطابق گاؤورو زبان بولنے والوں کی تعداد دو سو تھی۔

چاد زبان: اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد اب صفر رہ گئی ہے۔ یہ زبان ہرسل سے تین کلو میٹر جنوب میں بگورا گاؤں اور بہکارتی
دریا کے دونوں کناروں اترکاسی کے علاقوں کے کچھ دیہاتوں میں بولی جاتی تھی۔

کلاشا: یہ زبان پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوبی چترال ضلعے میں بولی جاتی ہے۔ سنہ دو ہزار کی مردم شماری کےمطابق اس زبان کے بولنے
والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی۔

خووار یا خاور

 پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں شندور سے لے کرغزار وادی کی فپس اور گلگت ایجنیسی کی یاسین اور اشکومن وادیوں میں بولی جانے والی
اس زبان کے بولنے والے اب دو لاکھ سے بھی کم رہ گئے ہیں

 

کاٹی: یہ زبان پاکستان کےصوبہ سرحد کے چترال ضلع اور افغانستان کے صوبہ نورستان میں بولی جاتی ہے۔ انیس سو چورانوے کی مردم شماری
کے مطابق، کاٹی زبان بولنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سات سو تھی۔

خووار یا خاور: یہ زبان پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں شندور سے لے کرغزار وادی کی فپس اور گلگت ایجنیسی کی یاسین اور اشکومن
وادیوں میں بولی جاتی ہے۔ انیس سو نوے کی مردم شماری کے مطابق، خاور زبان بولنے والوں کی تعداد دو لاکھ بائيس ہزار آٹھ سو تھی۔

کنڈل شاہی: یہ زبان ہندوستان اور پاکستان کی نیلم وادی کے گاؤں کنڈل شاہی میں بولی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اس زبان ک باقاعدہ
بولنے والوں کی تعداد پانچ سو سے بھی کم ہے اور بولنے والوں میں زیادہ تر کی عمریں چالیس سال سے زائد کی ہیں۔

مائیا: یہ زبان پاکسبتان میں دریا سندھ پر واقع کوہستان میں بولی جاتی ہے۔ مائیا زبان بولنے والوں کی تعداد اندازوں کے مطابق،
دو لاکھ بیس ہزار ہے۔

اورمری: اور مری زبان پاکستان اور افغانستان میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد پاکستان میں ایک ہزار اور افغانستان
میں پچاس سے کم ہوگي۔

پھلورا: یہ زبان پاکستان کے صوبہ سرحد میں جنوبی چترال میں دروش کے قریب آٹھ گاؤں میں بولی جاتی ہے۔ انیس سو نوے کی مردم شماری
کے مطابق، پھلورا زبان بولنے والوں کی تعداد آٹھ ہزار چھ سو تھی۔

سوی: سؤ گاؤں کنڑ وادی افغانستان اور پاکستان میں صوبہ سرحد کے چترال ضلع کے دیر اور دروش میں بولی جاتی ہے۔ انیس سو تراسی
کی مردم شماری کے مطابق سوی زبان بولنے والوں کی تعداد تین ہزار تھی۔

سپتی: سپتی یا سبتی زبان بولنے والوں کی تعداد صفر ہے۔ کبھی یہ زبان ہندوستان اور پاکستان میں بولی جاتی تھی۔

طوروالی: طوروالی زبان دریائے سوات کے دونوں کناروں اور سوات کوہستان میں بولی جاتی ہے۔ طور والی زبان کےبولنے والوں کی تعداد
آخری گنتی کے مطابق ساٹھ ہزار تھی۔

اشوجو یا اشوجی: یہ زبان پاکستان میں شمالی علاقوں میں بشی گرام (چالی وادی) کے بالائی حصوں، سوات کوہستان میں مدیان کے مشرق میں
بولی جاتی ہے۔ انیس سو بانوے کی مردم شماری کے مطابق اشوجو زبان کے بولنے والوں کی تعداد دو ہزارتھی۔

زنگسکاری بولنے والا کوئی نہیں بچا

  کبھی پاکستان اور ہندوستان میں بولی جانے والی زنگسکاری اور سپتی یا سبتی زبان کے بولنے والوں کی تعداد اب صفر ہے

 

واکھی یا واخی: یہ زبان افغانستان، چین، تاجکستان اور پاکستان میں بولی جاتی ہے۔ شمالی پاکستان، افغانستان کے صوبہ بدخشاں، تاجکستان
کے گاؤں، چین کے زیانگ صوبے کے تاشکرغان ضلعے میں بولنے جانے والی اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد اب پچھہتر ہزار لے لگ بھگ رہ
گئی ہے۔

یدغا: يہ زبان پاکستان کے صوبہ سرحد کے چترال ضلع کی وادی اور گرم چشمے کے مغرب میں بولی جاتی ہے۔

زنگسکاری: کبھی پاکستان اور ہندوستان میں بولی جانے والی اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد اب صفر ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply