43

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

امریکی کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن
ضروری نہیں کہ پاکستان کی خودمختاری کے احترام کے لیے امریکی وعدہ پورا ہی ہو

یہ ضروری نہیں کہ امریکی کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کا وعدہ کہ امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے گا ضرور پورا ہو۔ لیکن
ایک سخت گیر امریکی فوجی اہلکار سے حالیہ صورتحال میں اس نوعیت کا وعدہ نکلوانا بھی پاکستان کی مشکلات میں گھری منتخب حکومت کے
لیے ایک معرکے سے کم حیثیت نہیں رکھتا۔

اگر پاکستان کی سر زمین پر امریکی فوجیوں کی حالیہ یک طرفہ کارروائیوں کو مدنظر رکھا جائے تو مائیک مولن کا وعدہ مسٹر پرویز مشرف
کے جانے کے بعد حکومتی اتحاد کے لیے دم لینے کا پہلا وقفہ ہے۔ ایک ایسا وقفہ جو حکومتی نااہلی کی نظر ہو کر پلک جھپکنے میں گزر
بھی سکتا ہے یا پھر احسن استعمال سے حکومت کی کامیابی اور پاکستان کے پائیدار مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس اونٹ کے کسی بھی کروٹ بیٹھنے کا دارومدار پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری پر ہے۔ لیکن آصف زرداری کے آپشنز کا
جائزہ لینے سے پہلے ایک نظر دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ہونے والی نئی صف بندیوں پر۔

حالیہ واقعات، انکشافات اور بیانات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ کے صدر جارج بش نے پاکستان کی سر زمین پر براہ راست کارروائی
کی منظوری اس سال جولائی میں دی تھی۔ اسی مہینے پاکستان میں صحافیوں کے لیے اعلٰی سطح کی ایک فوجی بریفنگ میں بھی امریکہ کے بدلتے
تیوروں کا تفصیلی ذکر کیا گیا تھا۔

اس بریفنگ میں مدعو درجن بھر صحافیوں کو بتایا گیا کہ امریکہ شاید اس بات پر قائل ہو گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں براہ
راست کارروائی کے بغیر وہ القاعدہ کی بڑی مچھلیوں کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

براہِ راست امریکی کارروائی

 امریکہ شاید اس بات پر قائل ہو گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں براہ راست کارروائی کے بغیر وہ القاعدہ کی بڑی مچھلیوں
کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا

 

ظاہر ہے کہ سب سے پہلا سوال یہ اٹھا کہ کیا پاکستان ایسی کارروائیاں روکنے کا اہل ہے اور اگر ہاں تو کیونکر۔ جواب میں پاکستان
کے تین اہم ترین فوجی اہلکاروں کی متفقہ رائے تھی کہ پاکستان کے پاس کوئی ایسی گیدڑ سنگھی نہیں جسے سنگھا کر امریکہ جیسے بدمست
ہاتھی کو رام کیا جا سکے۔

اس معاملے پر پاکستان کی اعلٰی فوجی قیادت کے تـجزیے کا لب لباب یہ تھا کہ اس سال نومبر میں امریکی انتخابات کے پیش نظر بش انتظامیہ
کسی منطق یا بین الاقوامی امور کے طے شدہ اصولوں کی مرہون منت نہیں رہی۔ اب اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے اور وہ اس بات پر
قائل نظر آتی ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی نے اقتدار بچانا ہے تو اس کی واحد ضمانت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر چھپے
کسی بڑے القاعدہ رہنما کی گرفتاری یا ہلاکت ہے۔ کوئی بھی ایسی کامیابی بش انتظامیہ سے بدظن وسطی امریکی ووٹروں کو دوبارہ جیت سکتی
ہے جس کے بغیر آنے والے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کا حشر شاید ویسا ہی ہو جیسا پاکستان میں فروری کے انتخابات میں قاف
لیگ کا ہوا۔

ایک صحافی کی جانب سے رائے آئی کہ کیوں نہ امریکی کارروائیوں کا جواب عسکری سطح پر ہی دیا جائے۔ جواباً توڑا بوڑا کے پہاڑوں کو
یاد کیا گیا اور کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ یہ بوجھل خاموشی اس رائے سے ٹوٹی کہ اگر ریپبلکن پارٹی کو اپنا اقتدار بچانے کے
لیے پاکستان کی بطور ایک حریف یا بطور ایک ریاست قربانی بھی دینی پڑے تو شاید اسے ایسا کرنے میں کوئی تامل نہ ہو گا۔

اس سے پہلے کی بریفنگ میں موجود صحافی اس بات پر مکمل طور پر قائل ہو جاتے کہ پاکستان کے پاس اب امریکی منشا کے مطابق پٹنے کے
سوا کوئی چارہ نہیں، ایک اور اہم فوجی سربراہ نے بڑے یقین اور اعتماد سے کہا کہ اس صورتحال کا علاج تو ہے بشرطِ کہ معالج فوج کی
بجائے منتخب حکومت ہو۔

اس اعلٰی فوجی اہلکار کے مطابق فوجی قیادت کی جانب سے حکومت کو یہ تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک عوامی بحث کے ذریعے درجہ
بہ درجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار پر ایک اتفاق رائے قائم کیا جائے جس کی بنیاد پر حکومت سیاسی اور عسکری دونوں قسم
کی کارروائیوں کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہو۔ اس اہلکار کے مطابق حکومت کی جانب سے نہ صرف اس تجویز کی حمایت کی گئی ہے بلکہ اس پر
عسکری، سیاسی، سفارتی اور فکری سطح پر ہنگامی طور پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔

امریکہ قبائلی علاقوں میں امریکی کارروائی سے مطمئن نہیں ہے

ابھی تک ہم اس چومکھی حکمت عملی کے دو رخ دیکھ چکے ہیں۔ پہلا سوات اور باجوڑ جیسے قبائلی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی
بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی شکل میں اور دوسرا صدر زرداری کے حالیہ دورۂ برطانیہ کی صورت میں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی کی نسبت قبائلی
علاقوں میں جاری حالیہ فوجی کارروائی ایک واضح ہدف سے نتھی نظر آتی ہے جس کا مقصد طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا ہے۔

تحریک طالبان ایک عرصے سے اور بڑی کامیابی سے اپنا اثر و رسوخ قبائلی علاقوں کے آس پاس بندوبستی علاقوں میں بھی قائم کر رہی ہے۔
ان کی حکمت عملی سادہ اور واضح ہونے کی وجہ سے موثر نظر آتی ہے۔ ابھی تک پاکستانی طالبان کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ کسی بھی علاقے
سے انتظامیہ کو بھگا کر کچھ عرصے کے لیے اسے لاقانونیت کی نظر کر دیا جائے اور جب مقامی آبادی لاقانونیت سے متنفر ہونے لگے تو
پھر وہاں طالبان طرز کا انصاف قائم کر دیا جائے۔ یہ حکمت عملی وزیرستان میں طالبان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ تھی۔

پچھلے چند ہفتوں میں سوات اور باجوڑ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کا بھرپور مقابلہ اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان
کو اغوا شدہ سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی پر مجبور کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ حکومت ہر حال میں کم از کم بندوبستی علاقوں
کو طالبان کے کنٹرول سے بچانا چاہتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی صدر زرداری کے حالیہ دورہ برطانیہ نے اس چومکھی پالیسی کے سفارتی رخ سے بھی نقاب اٹھایا ہے۔ ان کے دورے کی زیادہ
تفصیلات تو اب تک سامنے نہیں آئیں لیکن برطانوی اخبارات میں چھپنے والی خبروں اور تبصروں کے مطابق ان کو پاکستان اور امریکہ کے
مابین کسی ثالث کی تلاش نہ تھی۔ وہ امریکی عزائم سے قطع نظر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک علاقائی اتفاق رائے کی تلاش میں تھے
اور ایسی کاوشوں میں برطانیہ سے زیادہ تجربہ شاید ہی کسی اور ملک کو ہو۔

اگر برطانیہ اس علاقائی اتفاق رائے میں افغانستان، بھارت، چین اور روس کو شامل کر لیتا ہے اور اس اتفاق رائے کی بنیاد آزاد ممالک
کی خودمختاری بنتی ہے تو پھر امریکہ کے لیے پاکستان میں یک طرفہ فوجی کارروائیاں ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو جائیں گی۔

موجودہ حکومت اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہو گی کہ ان کوششوں سے یہ امید رکھنا کہ ایسا کرنے سے امریکی حملے فوراً رک جائیں گے شاید
خام خیالی ہو۔ اور ان کاوشوں کا شاید یہ مقصد بھی نہیں۔ لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایسا کیے بغیر کوئی بھی پاکستانی حکمران
اس بات کی ضمانت نہ دے سکے گا کہ آنے والی امریکی حکومت بش پالیسیاں ترک کر دے گی۔

دہشت گردی کے خلاف اپنی چومکھی حکمت عملی کے عسکری اور سفارتی بازو متحرک کرنے کے بعد اب پاکستان کو اس عوامی مباحثے کا انتظار
ہے جو اندرون

اِن کے مستقبل میں نہ تو میاں نواز شریف والی راحتیں ہیں اور نہ ہی ایک فوجی آمر کو حاصل روایتی دفاعی فصیلیں

ملک ایک اتفاق رائے کی بنیاد بن سکے۔ اس بحث کو چھیڑنے کے لیے صدر زرداری کو ملک کے آزاد خیال اور باوسائل طبقے کی حمایت درکار
ہے جو اس بحث کو انتہا پسندوں کی یلغار سے بچا کے اسے صحیح سمت لے جا سکے۔ یہ صدر زرداری کی بدقسمتی ہے کہ اب تک یہ طبقہ ان کا
شدید مخالف رہا ہے۔

ابھی انہیں پاکستان کا صدر بنے اتنا عرصہ نہیں ہوا کہ کسی بھی سطح پر ان کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا جا سکے۔ لیکن اگر وہ
جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں سے آگے ان کی راستے میں مسائل کی جتنی بھی کہکشائیں ہیں ان سے کیسے نبٹا جائے تو اس کے لیے انہیں ان کے
اپنے ہی ماضی سے بہتر سبق اور شاید کہیں سے نہ مل پائے۔ وہ اگر آج ذہنی، جسمانی اور سیاسی طور پر زندہ ہیں تو اس کی بڑی وجہ وہ
مستقل مزاجی ہے جو انہوں نے نو سالہ اسیری کے دوران دکھائی۔

اس کے نتائج پر کسی کی بھی خواہ کچھ بھی رائے ہو لیکن اس مستقل مزاجی کی ایک جھلک ان کی معزول ججوں اور مسٹر مشرف سے متعلق پالیسیوں
میں بھی نظر آئی۔ اب اگر وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی حکومت کی چومکھی پالیسی بھی اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں تو کیا بعید کے امریکہ
جیسے بدمست ہاتھی کو بھی رام کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

یہ تو وہ جانتے ہی ہونگے کہ اگر وہ یہاں سے چوکے، تو ان کے مستقبل میں نہ تو میاں نواز شریف والی راحتیں ہیں اور نہ ہی ایک فوجی
آمر کو حاصل روایتی دفاعی فصیلیں۔ جن حالات میں انہوں نے اقتدار سنبھالا اور جس تیزی سے وہ اس کی آخری سیڑھی پر آ کھڑے ہوئے ہیں،
ایوان صدر سے بے آبرو ہو کر نکلنے کی صورت میں آصف زرداری کے لیے شاید واحد جگہ اس رہنما کا پہلو ہو جو اپنا سارا بوجھ ان کے کندھوں
پر پھینک کر پاکستان کا ماضی بن چکی ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply