57

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

نینسی پلوسی امریکہ میں ایوان نمائندگان کی پہلی سپیکر ہیں

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ایشیا ، افریقہ ،یورپ اور جنوبی امریکہ کے تئیس ممالک میں خواتین سربراہانِ مملکت کے طور پر خدمات انجام
دے چکی ہیں یا اس عہدے پر فائز ہیں۔ان ممالک میں آئرلینڈ واحد مثال ہے کہ ایک خاتون صدر میری رابنسن سے اقتدار انیس سو ستانوے
میں دوسری منتخب خاتون صدر میری میکلیز کو منتقل ہوا۔

اسی طرح تیس ممالک میں خواتین یا تو وزیرِ اعظم رہ چکی ہیں یا اس وقت ہیں۔اور ان میں سے بعض جگہ تو ایک ہی خاتون تین تین بار
بھی وزیرِ اعظم رہ چکی ہے۔دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خواتین کی تعداد کے اعتبار سے منتخب ایوانوں میں نمائندگی ہو۔
لیکن ایسے کئی ممالک ہیں جہاں تیس فیصد سے زائد پارلیمانی طاقت خواتین پر مشتمل ہے۔

امریکہ تو خیر دو سو بتیس برس بعد ایک غیر سفید فام صدر منتخب کرپایا ہے۔ لیکن وہاں اب بھی یہ بات ناممکنات میں سے سمجھی جاتی
ہے کہ کوئی غیر عیسائی اس اعلی ترین عہدے پر فائز ہوسکے۔ اسکے برعکس جہوریت نے یہ کرشمہ بھی دکھایا ہے کہ بھارت جیسا ملک جہاں
فرقہ واریت ، سماجی اور طبقاتی عدم مساوات کی جڑیں امریکہ سے کہیں گہری ہیں وہاں ہندو اکثریت ہونے کے باوجود تین مسلمان اور ایک
سکھ صدر بن چکے ہیں۔

جبکہ موجودہ صدرِ مملکت اگر ایک ہندو خاتون ہیں تو وزیرِ اعظم ایک سکھ اور حکمران جماعت کی سربراہ ایک عیسائی اطالوی نژاد بھارتی
خاتون ہیں۔

جبکہ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت امریکہ کہ جس کا آئین شہریوں میں نسلی، لسانی، مذہبی، سماجی اور رنگ کی تفریق تسلیم نہیں کرتا
اور اپنے ہر شہری کو بنیادی انسانی آزادیوں کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ خوشحال زندگی کے حصول کے لئے بلا روک ٹوک مساوی مواقع دینے
کا وعدہ بھی کرتا ہے۔

اسی امریکہ کے اصل باشندوں یا انڈینز کو آبادکاروں کے تخلیق کردہ آئین کے تحت غیر امریکی قرار دیا گیا اور ان انڈینز کو کہیں انیس
سو چوبیس میں جاکر امریکہ کی شہریت مل سکی۔

امریکی انڈینز نے اپنی روایات کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ آج ان باشندوں کی تعداد امریکی آبادی کا محض ایک فیصد ہے۔اور ان سے ماضی میں نسل کشی سمیت جو ناروا سلوک رکھا گیا اس پر
بھی سرکاری طور پر کئی مرتبہ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ان انڈینز کے لئے لاکھوں ایکڑ زمین بھی مختص کی گئی۔ اس کے باوجود
آج بھی ان اٹھائیس لاکھ انڈینز میں سے صرف ایک فیصد اپنے ذاتی کاروبار کے مالک ہیں۔ ان میں بے روزگاری کی شرح کم ازکم پچاس اور
بعض علاقوں میں نوے فیصد تک ہے۔ سو میں سے چون بچے پانچویں درجے تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ان انڈینز میں
خودکشی کا تناسب انیس فیصد کے لگ بھگ ہے جو امریکہ میں آباد کسی بھی نسلی گروہ سے زیادہ ہے۔

جہاں تک جمہوری اداروں میں امریکہ کے ان اصل باشندوں کی نمائندگی کا سوال ہے تو گذشتہ دو سو بتیس برس کی آئینی تاریخ میں محض چار
امریکن انڈینز ہی کانگریس کے ایوان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ جبکہ پانچ سو چالیس ارکان پر مشتمل امریکی کانگریس کے
دونوں ایوانوں میں ایک امریکی انڈین ، بیالیس سیاہ فام اور کسی بھی رنگ و نسل کی صرف چوہتر خواتین موجود ہیں۔

اب تک کی امریکی تاریخ میں صرف پینتیس خواتین سینٹر بن پائی ہیں۔ جبکہ صرف ایک خاتون ایوانِ نمائندگان کی سپیکر بن سکی۔ باقی دنیا
میں جہاں بیسیوں خواتین صدارتی اتتخابات جیت یا ہار چکی ہیں۔ وہاں امریکہ میں اب تک کوئی خاتون صدارتی امیدوار نہ بن سکیں۔ جبکہ
نائب صدر کے انتخاب کے لئے بھی اب تک صرف دو خواتین امیدواروں کو موقع مل سکا ۔

ویسے تو باراک اوباما پر پہلے ہی سے اتنا بوجھ ہے کہ مزید بوجھ ڈالنا زیادتی ہوگی۔ تاہم انکے چار سالہ دورِ صدارت میں یہ توقع
کی جاسکتی ہے کہ وہ اس بات کی چھان بین کریں کہ امریکہ دنیا کی طاقتور ترین جمہوریت ہوتے ہوئے بھی اب تک طبقاتی اور جنس کے اعتبار
سے غریب ترین اور ناخواندہ جمہوری ممالک کے ہم پلہ کیوں نہیں ہو پارہا۔

اتنی سست رفتاری کی کیا وجوہات ہیں۔اور کس طرح سے یہ شہرہ آفاق امریکی مقولہ خود امریکہ پر بھی صادق آسکتا ہے کہ جمہوریت دراصل
عوام پر عوام کی حکمرانی کا نام ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply