54

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

غیر مقبول صدر بش
صدر بش کی غیر مقبولیت کا گراف شاید اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے

جو کام اسامہ بن لادن کے بم اور خودکش بمبار نہ کر سکے وہ منتظر الزیدی کے جوتے نے کر دکھایا۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران البغدادیہ ٹیلی وژن کے صحافی منتظر الزیدی یکدم اٹھے اور بھرے ہال میں
عراق کے وزیرِ اعظم نور المالکی کے پہلومیں کھڑے دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتا نکال مارا۔ بات یہاں ختم
نہیں ہوئی جب پہلا جوتا نشانے پر نہیں لگا تو صحافی نے دوسرا اتارا اور اتنی ہی شدت سے صدر بش پر وار دیا۔ صدر بش کی خوش قسمتی
دیکھیئے کہ انہیں دوسرا بھی نہیں لگا۔

صدر بش کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو انہیں یا ان کو جنہوں نے یہ ہوتے دیکھیں ہیں یاد رہیں گی لیکن بغداد کا جوتا شاید
ان میں پہلے نمبر پر رہے۔

اس معاملے پر جس کسی سے بھی بات ہوئی خوش نظر آیا اور صحافی کو دعائیں دی۔ ایک دو چینلز پر تو اس صحافی کے جوتے کی بولی کی خبریں
بھی سنائی دیں۔ کئی ایک نے کہا کہ یہ ہمیشہ سے ان کے دل میں تھا کہ صدر بش کے ساتھ ایسا کریں، آخر کسی نے یہ کر ہی دیا۔

پتہ نہیں کیوں میں صدر بش کو جوتے کی زد میں دیکھ کر خوش نہیں ہوا۔ بہت چاہا کہ جو شخص رائے عامہ کے تقریباً ہر جائزے میں غیر
مقبول رہے ہوں، جن کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہوں، ان کے ساتھ اس سے کم کیا توقع کرنی چاہیئے، مگر پھر بھی ہنسی نہیں
آئی، خوشی نہیں ہوئی۔

اس کی ایک وجہ ہے اور شاید میرے لیے وہ ایک بڑی وجہ ہے۔ میں نے اسی عراقی قوم کو صدام حسین کے مجسمے اور تصویروں کو جوتے مارتے
ہوئے دیکھا ہے اور وہ بھی اس وقت جب عراق پوری طرح امریکہ کی گرفت میں تھا۔ میں نے اسی عوام کو صدام کے گلے میں پھانسی کا پھندا
پڑنے کے بعد سڑکوں پر ناچتے اور جشن مناتے دیکھا ہے۔ اب جب صدر بش کی جماعت انتخابات ہار چکی ہے اور وہ امریکہ کی صدارت چھوڑنے
والے ہیں منتظر کے جوتے نے دوبارہ صدام حسین کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جو کہ یقیناً کوئی اچھی یاد نہیں ہے۔

منتظر الزیدی
منتظر الزیدی نے اپنے دکھ اور غصے کا اظہار بھری محفل میں کیا

غم و غصہ ٹھیک ہے لیکن اس کی سمت بھی اسی طرح ٹھیک ہی ہونی چاہیئے۔ جوتوں سے نہ آزادی ملتی ہے اور نہ عزت۔ جوتوں سے ’باہر نکل‘
کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

میں محسوس کر سکتا ہوں کہ منتظر الزیدی کتنے بہادر اور اس کے ساتھ ساتھ کتنے دکھی آدمی ہیں۔ جب اس نے صدر بش پر پہلا جوتا پھینکا
تو اس نے صدر بش کو ’کتا‘ کہا۔ دوسرے جوتے پر اس کا کہنا تھا کہ ’یہ عراق کی بیواؤں، یتیموں اور وہاں ہلاک ہونے والے تمام افراد
کی طرف سے ہے۔‘

کسی بھی کلچر میں کسی شخص پر جوتا پھینکنا یا اسے غصے میں کتا کہنا ایک نہایت تضحیک آمیز بات ہے۔ اردو زبان ایسے محاوروں سے بھری
پڑی ہے جس میں جوتے کی نوک، جوتوں کا ہار اور جوتا دکھانا شامل ہیں۔

عرب دنیا میں تو بش اور امریکہ کے خلاف اتنا غصہ ہے کہ صدر بش کی وزیرِ خارجہ کو عرب کونڈولیزا رائس کہنے کی بجائے’ کندارا‘ کہتے
ہیں جس کا عربی میں مطلب ’جوتے کا تسمہ‘ ہے۔

منتظر صاحب کا جذبہ کچھ بھی، ان کے ذہن میں جوتا پھینکتے ہوئے کچھ بھی ہو مگر انہوں نے ہم جیسے صحافیوں کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی
کر دی ہے۔ پہلے ہی ’شو بومبر‘ صاحب کی بدولت ہوائی اڈو پر جوتے ہاتھوں میں لیے جانا پڑتا تھا اب پریس کانفرنس میں بھی قلم اور
کاغذ کے ساتھ جوتا بھی اٹھانا پڑا کرے گا۔

لیکن کیا اس کا اثر صدر بش پر کچھ ہوا۔ انہیں کی زبانی سنیئے: ’اگر آپ ’فیکٹس‘ (حقیقت) جاننا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ جوتے کا
نمبر دس ہے۔‘

دس نمبر بھی اردو محاورے میں بہت معنی خیز ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply