30

BBCUrdu.com | قلم اور کالم


 

 

بھٹو
بھٹو حکومت نے آئي ایس آئی والوں کو سراغرسانی کے طریقے سکھانے کے لیے آئي ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز بلایاگیا تھا

جب آپ نسیم حجازی اور ابن صفی کے ناول ایک ساتھ ملا کر پڑھیں گے تو وہی ہوگا جو پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے یعنی کہ جہادی اور جاسوسی
کاک ٹیل کا ہینگ اوور۔

سنہ انیس سو ستر کی دہائي میں ابھی جب یہ تین حرفی لفظ ’آئی ایس آئی‘ اتنا قابل رشک مقبول و بدنام نہیں ہوا تھا تو پاکستان کے
جاسوسی ادب کے لکھاری اسرار احمد صفی اللہ المعروف ابن صفی کو تب کی بھٹو حکومت نے آئي ایس آئی والوں کو سراغرسانی کے طریقے سکھانے
کے لیے آئي ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز بلایا ہوا تھا۔ ابن صفی پاکستان کی اگاتھا کرسٹی تھے۔

لیکن یہاں مقصد ابن صفی سے نہیں اس فلم کی سکرپٹ سے ہے جو اب پاکستان کے گلے میں پڑ گئي ہے۔ تجسس، خوف ،خون و آگ اور لڑائي مار
کٹائي سے بھرپور ایک ایسی فلم جسے جہادی نیٹ ورک نے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر بڑی خوش اسلوبی سے چلايا اور اب یہ مرغے
روسٹ بننے کو گھر کو واپس آئے ہوئے ہیں۔

ذوالفقعار علی بھٹو کے دور میں (جو دراصل ایک عوامی اور جہموری سے زیادہ پاکستان میں پاپولر سویلین ڈکٹیٹر شپ کا زمانہ تھا) ابن
صفی کے ایک ناول پر ایک صاحب نے ایک فلم بنائي تھی ’دھماکہ‘۔

فلم دھماکہ کے فلمساز کا نام تھا ’مولانا ہپی‘۔ بھٹو کا دور واقعی وہ دور تھا جہاں مولانا اور ہپی ساتھ ساتھ چل سکتے تھے۔ بھٹو
اپنے اس دور کو ’اسلامی سوشلزم‘ کا نام دیتےتھے۔ سوشلزم اور وہ بھی اسلامی !

مولانا اور ہپی ساتھ ساتھ

 دھماکہ کے فلمساز کا نام تھا ’مولانا ہپی‘۔ بھٹو کا دور واقعی وہ دور تھا جہاں مولانا اور ہپی ساتھ ساتھ چل سکتے تھے۔ بھٹو اپنے
اس دور کو ’اسلامی سوشلزم‘ کا نام دیتےتھے۔ سوشلزم اور وہ بھی اسلامی !

 

زندگي بھی کہانی کے اندر کئي کہانیاں اور ایک کتاب کےاندر کئي کتابیں ہے۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ چارلی ولسن کی جنگ سے لے کر اب ’بینظیر بھٹو کی جنگ‘ تک ریاستی و غیر ریاستی ایکٹر وہی رہےصرف سیٹ، جنگ
کے میدان اور کردار بدلتے رہے۔ پراکسی وارز میں یہی ہوتا ہے۔

یہ جو پاکستان کی ایل ٹی ٹی ٹی ای یعنی لشکر طیبہ ہے اس نے بمبئي پر دھاوا بول دیا اور اب تک ایسے لگتا ہے کہ اس کے سارے کُھرے
پاکستان کی طرف نکلتے ہیں، یہ بات دنیا میں بچہ بچہ جانتا ہے لیکن پاکستانی حکومت نہ مانے۔

بقول امریکی تجزیہ نگار ڈینئل مرکی کے ان (حملہ آوروں) کی کارروائي بھارت سے زیادہ پاکستان کو پیغام تھی۔ پیغام یہ تھا کہ دیکھو
ہم پاکستان میں ہر جگہ ہیں اور جب چاہیں دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائي ڈال سکتے ہیں۔ یعنی ’چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا،
ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستاں ہمارا‘۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی الٹ یہ بارودی بلبلیں ہر گلستان کو آگ میں تبدیل کرنے نکلی ہوئي
ہیں۔

کسی زمانے اور زمانے کی فلموں میں ہسٹری شیٹر فرسٹ کلاس غنڈے ہوتے تھے جو اپنے محلے اور علاقے میں ’ککھ مسیتے‘ یعنی بڑے نیک، بزرگوں
کا ادب اور ماں بہن کی حیا کرنے والے ہوتے تھے۔ وہ جو بھی کارروائي ڈالتے یا واردات کرتے محلے اور شہر سے باہر جاکر کرتے۔ کہنے
والے کہتے ہیں پاکستانی جنرل بھی اس تھانیدار کی طرح ہیں جو اپنی نیک نامی کے لیے ان غنڈوں سے یہ ’ڈیل‘ کرتے جو کچھ کرو ان کے
علاقے یا تھانے کی حدود سے باہر جاکر کرو۔

لشکر طیبہ نے بھی اسی طرح کیا۔ اپنے علاقے، محلے اور شہر میں انہوں نے ہسپتال، سکول اور یتیم خانے کھولے ہوئے ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ
بنے ہوئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ان انٹرنیشنل اسلامی گوریلوں نے پاکستان پر، بقول شخصے، ’کار گل ٹو‘ مسلط کر دی ہے۔

بقول شخصے، ’کار گل ٹو‘

 لشکر طیبہ نے بھی اسی طرح کیا۔ اپنے علاقے، محلے اور شہر میں انہوں نے ہسپتال، سکول اور یتیم خانے کھولے ہوئے ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ
بنے ہوئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ان انٹرنیشنل اسلامی گوریلوں نے پاکستان پر، بقول شخصے، ’کار گل ٹو‘ مسلط کر دی ہے

 

نیویارک کے مقامی پاکستانی اخبارات میں کسی ’لینگویج ریسورسز سروسز‘ والوں کی طرف سے اشتہار چھپتا ہے کہ اگر آپ پشتو روانی سے
بولتے ہیں اور امریکی شہری ہیں تو اچھا مستقبل آپ کے لیے منتظر ہے۔ ایسے ہی ایک اخبار کا پبلشر اور میرا دوست بتا رہا تھا کہ ایک
پاکستانی اس سے ملنے آیا اور وہ بہت رنجیدہ تھا۔ اس نے کہا ’میرا ایک ہی بیٹا تھا اور تمہارے اخبار میں اشتہار پڑھ کر افغانستان
میں ’روشن مستقبل‘ کے لیے گیا تھا اور وہاں طالبان کے حملے میں مارا گيا‘۔

’تم لوگ کہاں سے ہو۔ پاکستان سے یا انڈیا سے؟‘۔ نیویارک میں، اب بنگلہ دیشی کہلانے والے علاقے ہل سائیڈ (جمیکا) کے ایک ریستوران
کے باہر ایک مفلوک الحال سفید فام امریکی نے ہم سے ٹھیٹھ پنجابی میں پوچھا۔ اس نے بتایا ’میں افغانستان میں روس کے خلاف جنگی انسٹرکٹر
رہا ہوں‘۔

امریکہ میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم پاکستان لیگ آف یو ایس اے کے بروشر میں ’پاکستان کا بھلا برا سوچنے والے لیڈروں‘ میں پرویز
مشرف، بینظیر بھٹو، نواز شریف، قاضی حسین احمد، عمران خان اور معزول چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی تصاویر کے ساتھ ایک تصویر بیت
اللہ محسود کی بھی شائع کی گئی ہے!

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply