24

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

طالبان نے صرف سوات میں ایک سو بیس سے زیادہ سکول جلائے ہیں


’میرا نام ۔۔۔ نہیں نہیں میں اپنا نام نہیں بتاؤں گی۔ مجھے کہا گیا ہے کہ نام بتانا تو درکنار میں کسی نا محرم کی طرف دیکھ بھی
نہیں سکتی۔ ویسے میری عمر بارہ سال ہے۔ عمر بتانے سے تو پتہ نہیں چلتا نا کہ میں کون ہوں۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میں اپنے متعلق کچھ نہیں بتاؤں گی بس آپ سے کچھ کہوں گی۔ ہو سکے تو آپ میری بات سننےکی کوشش کریں۔

میرا تعلق سوات سے ہے، یہاں پھر وہی بات۔ میں آپ کو اپنے علاقے کا نام بھی نہیں بتاؤں گی نہیں تو آپ بندوقیں اٹھائے ہمارے علاقے
کے معصوموں کو تنگ کریں گے، ہو سکتا ہے کہ ایک آدھ کا گلا بھی کاٹ دیں۔ آپ کو تو اس سے ڈر بھی نہیں لگتا۔ میری تو لکھتے ہوئے جان
نکل رہی ہے۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میری عمر بارہ سال ہے اور میرا سکول جانا بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے والد نے کہا ہے کہ آپ لوگوں یعنی
سوات کے طالبان نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت لڑکیوں کے سکول پندرہ جنوری سے بند کیے جا رہے ہیں۔ جو بھی سکول جائے گی
اسے قتل کر دیا جائے گا۔

سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے میری ٹیچر نے ہماری کلاس کو کہا تھا کہ ہم سب نئے سال میں ایک مضمون لکھ کر لائیں جس میں ہم لکھیں کہ
پچھلا سال کیسا گزرا۔ میری ٹیچر اسے انگریزی میں ’ایئر اینڈر‘ کہتی ہیں۔

پھر آپ کا یہ حکم آ گیا۔ اب میں کیا لکھوں۔ میرے تو ’ایئر اینڈر‘ سے پہلے ہی میری تعلیم ’اینڈ‘ ہو گئی ہے۔ میرے پاس لکھنے کو تو
بہت کچھ ہے لیکن اس کا کیا فائدہ۔

مجھے آپ بتایئے کہ آپ کی ہمارے ساتھ کیا لڑائی ہے۔ آپ امریکہ سے لڑ رہے ہیں ٹھیک ہے، پاکستان کی پولیس اور فوج سے لڑ رہے ہیں ٹھیک
ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہو۔ لیکن مجھے بتائیں کہ ہم آپ کی بہو، بیٹیاں، مائیں، بہنیں ہم نے آپ کا
کیا بگاڑا ہے۔ ہم تو چھوٹی عمر سے ہی آپ کا گھر چلانا شروع کر دیتے ہیں، برتن دھوتے ہیں، کپڑے دھوتے ہیں، کھانا پکانا حتیٰ کہ
ہر چیز کرتے ہیں اور آپ ہیں کہ پہلے ہمارے سکول جلاتے رہے پھر ہمارا سکول جانا ہی بند کر دیا۔

سوات: فائل فوٹو
سوات میں مقامی طالبان نے متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے

کیا برا تھا کہ ہم کچھ سیکھ رہے تھے۔ میری بچپن سے خواہش رہی ہے اور (ابھی بھی میں اتنی بڑی تو نہیں ہوئی کہ خواہش نہ رکھ سکوں)
کہ میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ مشکل ہے لیکن پھر بھی میرے اندر کی لڑکی مجھے حوصلہ دیتی ہے کہ ایسا ممکن ہے۔
ہمارے علاقے سے پہلے بھی ایک لڑکی ڈاکٹر بنی ہے اور اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں کام کرتی ہے۔ میں بھی اس جیسا بننا چاہتی تھی
لیکن میں اسلام آباد میں نہیں بلکہ میں سوات میں ہی لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ لیکن لگتا ہے کہ شاید اب ایسا ممکن نہ ہو۔ مجھے
بتائیں کہ اگر آپ ہماری تعلیم کے خلاف ہیں تو جب آپ کی مائیں، بہنیں بیمار ہوں گی تو کیا آپ مرد ڈاکٹروں سے علاج کروائیں گے یا
شاید انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیں اور اگر سب ہی مر گئیں تو۔۔۔ شاید آپ کے پاس اس سوال کا جواب نہ ہو۔ میں آپ کو مشکل میں بھی نہیں
ڈالنا چاہتی۔ آپ جواب نہ دیں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ سوچیں۔ صرف سوچیں۔

کئی مرتبہ میرا دل کہتا ہے کہ شاید آپ جو چھ بھی کہتے اور کرتے رہے ہیں وہ ٹھیک ہی تھا۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ پر حملے امریکہ نے
ہی کروائے ہوں، ہو سکتا ہے کہ اسرائیل میں یہودی ہی یہودیوں کو مار رہے ہوں، بھارت میں بھارتی ہی بندوقیں اور بم لے کر بے گناہوں
کو قتل کر رہے ہوں۔ لیکن سکول تو آپ ہی جلا اور بند کروا رہے ہیں نا۔ یہ تو امریکہ، یہودی یا ہندو نہیں کروا رہے۔

سکول میں ہمیں احادیث پڑھائی جاتی تھیں اور بتایا جاتا تھا کہ ’تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے‘، ’تعلیم حاصل کرو چاہے
تمہیں اس کے لیے چین جانا پڑھے‘۔ میں تو صرف سکول جانا چاہتی ہوں اور اس پر بھی آپ کو اعتراض ہے۔

میرے والد نے میری بڑی بہن کی شادی چودہ سال کی عمر میں ہمارے علاقے کی مسجد کے مولوی سے کر دی تھی۔ بعد میں میرے بہنوئی ’جہاد‘
پر چلے گئے اور آج تک واپس نہیں آئے۔ میرے والد نے میری بہن کو سکول نہیں بھیجا تھا کیونکہ وہ سب سے بڑی تھی اور ماں کا کام کاج
میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ اب وہ سترہ سال کی عمر میں ایک بچے کے ساتھ گاؤں والوں کی طرف سے دی گئی روٹی پر زندگی گزار رہی ہے۔ ہمارے
گھر سے بھی کبھی کبھار اس کے لیے کھانا جاتا ہے۔ پہلے تو میں بھی بابا کہ ساتھ جاتی تھی لیکن اب میرا باہر نکلنامنع کر دیا گیا
ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اب کس حال میں ہے۔ اس کے میاں کا اب تک کوئی پتہ نہیں۔ بابا کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہے اور پہاڑوں میں
رہتا ہے۔ پتہ نہیں بیوی بچے کے ساتھ رہنے میں انہیں کیا مسئلہ ہے۔

کچھ دن پہلے بابا بازار سے ایک اخبار میں لپیٹ کر روٹیاں لائے تھے۔ کھانے کے بعد وہ اخبار وہیں پڑا رہا۔ میں نے اسے اٹھایا اور
اسے پڑھنے لگی۔ پہلے ہی صفحے پر لکھا تھا کہ مقامی طالبان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے سوات میں ایک سو بیس سے زیادہ
سکول جلائے ہیں۔ اسی میں لڑکیوں کے سکول بند کرنے کا بھی حکم تھا۔ میں اورتو کچھ نہ کر سکی بس اخبار کو جلتے چولہے میں پھینک دیا۔
آہستہ آہستہ سب لفظ ’طالبان، سوات، لڑکیاں اور سکول‘ جل کر راکھ ہو گئے۔ حقیقت میں بھی شاید ایسا ہی ہو رہا ہے۔

آپ کہیں گے کہ میں بہت بولتی ہوں۔ اگر ایک لفظ بھی اور بولا تو میری زبان کاٹ دیں گے۔ چلیں گلے کو چھوڑ کر زبان کی طرف ہی سہی۔
تشدد تو کم ہو گا۔

اتنا کچھ لکھ چکی ہوں اب اگر ٹیچر کبھی ملی بھی تو شاید ’ایئر اینڈر‘ کے متعلق نہ پوچھے۔‘

سوات کا بند سکول
سوات کی طالبات کا مستقبل کیا ہو گا؟

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply