27

BBCUrdu.com | قلم اور کالم


 

 

سالِ نو پر کیے جانے والے وعدے کیا پورے کیے جاتے ہیں؟

بات ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ حکومتِ وقت جو کر رہی ہے غلط کر رہی ہے۔ اگر میں برسرِ اقتدار ہوتا تو یہ سب کچھ ایسے نہ ہوتا۔اس
لئے اگر آپ کو دہشت گردی سے نجات، معاشی استحکام اور فرسودہ نظام سے چھٹکارا چاہیئے تو اس کے لئے واحد راستہ یہی ہے کہ مجھے اور
میری جماعت کو کامیاب بنائیے۔

خیر الیکشن ہوتے ہیں اور میں برسرِ اقتدار آجاتا ہوں۔ سب سے پہلا اور آخری کام میں یہ کروں گا کہ پانچ سال گزارنے کے لئے ایک چارٹ
بناؤں گا۔

پہلا سال میں یہ کہہ کر آسانی سے گزار لوں گا کہ وعدے تب ہی پورے ہوں گے جب گزشتہ حکومت کا پھیلایا ہوا گند اور بد انتظامی صاف
ہوجائے۔ لہذا، آپ نے جب اتنا صبر کیا ہے تو ایک سال اور صبر کرلیں اور ملک کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالنے کے لئے میرا بھرپور ساتھ دیں۔

دوسرا برس میں یہ کہہ کر بتا لوں گا کہ میری حکومت نے گزشتہ ایک برس میں جو اقدامات کیے ہیں ان کے نتیجے میں انتخابی منشور پر
عمل درآمد کے لئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔اب پالیسی مرتب ہو رہی ہے جس کے سبب چند ماہ میں آپ اپنی زندگی کو بدلتا ہوا محسوس کریں گے۔

تیسرے برس میں واویلا شروع کردوں گا کہ کچھ جمہوریت دشمن نادیدہ قوتیں میری حکومت کو ناکام بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ آپ کی منتخب
حکومت کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں تاکہ ملک کو دوبارہ تاریک دور میں دھکیل دیا جائے۔آپ میرا بھرپور ساتھ دیں۔ فتح جمہوریت کی ہی
ہوگی۔

اگر میں گزشتہ منتخب حکمرانوں کی طرح خوش قسمت ہوا تو چوتھا برس شروع ہونے سے پہلے پہلے معزول کردیا جاؤں گا۔ پھر میں کہہ سکوں
گا کہ جمہوریت دشمن قوتیں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات دیکھ کر بوکھلا گئیں اور انہوں نے اپنا مستقبل تاریک دیکھ کر جمہوریت
کا گلا گھونٹ دیا۔

لیکن فوج، اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ اگر میری مدد کو نہیں آتے اور حکومت کو مدتِ اقتدار پوری کرنے دیتے ہیں تب مجھے سوچنا پڑے گا
کہ چوتھا اور پانچواں سال کیسے گزارا جائے۔

ایسی صورت میں چوتھا برس عوام کو اس طرح اعتماد میں لے کر گزارا جاسکتا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کی سرحدوں پر جو غیریقینی صورتحال
ہے اس کے پیشِ نظر ہمیں ترقیاتی بجٹ میں مجبوراً کٹوتی کرنا پڑے گی۔ لہذا، ملک کی بقا کے لئے ہم سب کو قربانی دینی چاہیئے۔ یہ
ملک ہے تو ہم ہیں۔ اس کے علاوہ سال بھر سے ملک کے مختلف علاقوں میں جاری خشک سالی نے بھی زراعت پر منفی اثرات چھوڑے ہیں اور کچھ
علاقوں میں سیلاب نے فصلیں اجاڑ دی ہیں۔

جبکہ خام مال کی عالمی قیمتوں میں کمی اور کساد بازاری کے سبب روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے بھی ہمارے برآمدی اور صنعتی سیکٹر
کو کمزور کیا ہے۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں اگلے برس تک ہم اس بحران سے نکل آئیں گے۔

اور جب خدا خدا کرکے پانچواں برس لگے گا تو میں سینہ تان کر کہہ سکوں گا کہ ہم نے اپنے دور میں اور کچھ کیا یا نہیں کیا لیکن
جمہوری تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ بحرانی صورتحال کے باوجود ایک مضبوط سیاسی، سماجی اور اقتصادی کلچر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ان
اقدامات کا پھل اگلے پانچ برس میں آپ کی جھولی میں آن گرے گا۔

لہذا، پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ہم پر آئندہ انتخابات میں بھی اعتماد کا اظہار کریں تاکہ آپ کی فلاح کے لئے کیے گئے اقدامات ضائع
نہ ہوجائیں۔ جمہوریت ہے تو ہم ہیں اور ہم ہیں تو کیا غم ہے۔

یہ وہ چارٹ ہے جو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ ہر منتخب و غیرمنتخب حکومت کامیابی کے ساتھ استعمال کرتی آ رہی ہے۔اور آئندہ بھی یہی
چارٹ کام آوے گا۔ انشااللہ۔۔۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply