32

BBCUrdu.com | قلم اور کالم

 

پاکستانیوں کا ’اثاثہ‘
پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اصل اثاثہ جہادی تنظیمیں تھیں اور اب یہی اُسکے گلے کا طوق بنتی جا رہی ہیں

پاکستان میں بیٹھ کر ہندوستان کے اخبار پڑھتے ہوئے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی ایسے ملک کے بارے میں پڑھ رہے ہیں جو اس نظامِ
شمسی کا یا تو حصہ نہیں ہے یا اگر ہے تو کسی ایسے سیّارے پر واقع ہے جو کب سے اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ اپنے ہم پیشہ بھائیوں
کا کام آسان کرنے کے لیے میں نے پاکستان کے بارے میں چند زبان زدِعام مفروضوں کی ایک فہرست اور ان کا مختصر سیاق و اسباق دینے
کی کوشش کی ہے۔

جہادی پاکستان کے کنٹرول میں ہیں

یا جہادی پاکستانی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ یا جہادی ISI کے کنٹرول میں ہیں۔ یا جہادی ISI کے کچھ بے لگام افسروں کے کنٹرول میں
ہے۔ اصل معاملہ شاید اس سے اُلٹا ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق دُم کتے کے قابو میں نہیں بلکہ کتا دُم کے قابو میں ہے۔ پاکستانی
ریاست (یعنی پاکستانی فوج) اور جہادی تنظیموں کے درمیان انتہائی قربت کا رشتہ تھا لیکن یہ شادی ٹوٹ چکی ہے۔ اس شادی کے نتیجے میں
پیدا ہونے والے بچے (اور کسی نے ان کی تعداد کا حساب نہیں رکھا) اب وراثت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں۔

مشرف کا کنٹرول تھا، زرداری کا نہیں

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ جنرل مشرف نے اپنی نوکری بچانے کے لیے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا تھا اور اگلے نو سال تک وہ
صرف اپنی نوکری پکی کرتے رہے۔ممبئی حملوں کے بعد کئی بھارتی حلقے یہ بھی کہتے پائے گئے کہ ہندوستان کو بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کی
ضرورت ہے۔ مضبوط فوجی ڈکٹیٹر پیدا کرنا مشکل کام نہیں۔ من موہن سنگھ کو فوجی وردی پہنا کر ہندوستان کی افواج کی کمان اُنکے ہاتھ
میں دے دیں، اُنکے ہر لفظ کو ملک کا قانون بنا دیں تو من موہن سنگھ بھی سینے پر ہاتھ مار کر کہیں گے کہ وہ ہندوستان کو ہندوستانیوں
سے بچا کر دم لیں گے۔ زرداری کا وہ کنٹرول نہیں جو کسی فوجی ڈکٹیٹر کا ہوتا ہے لیکن پاکستانیوں نے کافی ڈکٹیٹر دیکھ لیے ہیں ہندوستان
کو پاکستان ایک آدھ سابق ڈکٹیٹر ادھار بھی دے سکتا ہے۔

پاکستان کے جوہری ہتھیار، جہادی قوتوں کے پاس جاسکتے ہیں

اگر ہندوستان کے جوہری ہتھیاروں پر انتہا پسند ہندو کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، اگر کوئی کٹر اِسرائیلی یہودی اِسرائیل کے نیو کلیئر
ہتھیاروں تک پہنچ سکتا ہے تو یقیناٰ پاکستان کے جوہری ہتھیار بھی جہادی قوتوں کے قبضے میں آسکتے ہیں۔

پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اصل اثاثہ جہادی تنظیمیں تھیں اور اب یہی اُسکے گلے کا طوق بنتی جا رہی ہیں۔

پاکستان ایک ناکام ریاست ہے

نیٹو ٹرکوں پر حملہ
کیا سکیورٹی کی حالت بری سے بری ہوتی جا رہی ہے؟

اگر پاکستان ایک ناکام ریاست ہے تو یہ خبر ابھی پاکستانیوں تک نہیں پہنچی۔ یا یہ ریاست اتنے عرصے سے ناکام ہے کہ کہ لوگوں کو عادت
سی ہو گئی ہے۔ ٹرینیں لیٹ آتی ہیں لیکن آجاتی ہیں۔ ATM مشینیں چلتی ہیں۔ سڑک پر جھاڑو دینے والے بھی موبائل فون پر گھر بات کرتے
ہیں۔ غربت اور بدحالی بہت ہے۔ لیکن ایدھی اور چھیپا جیسے بہت سے نان سٹیٹ ایکٹر ملک کو سنبھالا دیے ہوئے ہیں۔

ہر پاکستانی مُلاّ ہے

نہ صرف لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ملاّ نہیں ہے بلکہ ملاّؤں کو ووٹ بھی نہیں دیتی۔ یہ بات ان انتخابات میں بھی ثابت ہو چکی ہے
جن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی مڈل کلاس کا ایک حصّہ دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔
گذشتہ سال پاکستان میں برِصغیر کے حالیہ سالوں کی سب سے بڑی تحریک چلی اِس تحریک کے سُرخیل کالے کوٹ پہنے وکیل تھے جو ڈھول کی
تھاپ پر رقص کر کے سیکولر قوانین کی بالادستی کا مطالبہ کر رہے تھے شریعت کا نہیں۔

پاکستانی انڈیا سے نفرت کرتے ہیں

ایک انڈین
ساٹھ سال تک ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے چکر میں دونوں ملک بہت پیچھے رہ گئے ہیں

کسی زمانے میں کرتے ہونگے۔ آج کل اُن کے پاس وقت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور سرحد سے کبھی
بھی کوئی ہندوستان مخالف نعرہ نہیں لگایا گیا۔ پنجاب کے مہاجروں میں ہندوستان کو دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ بھی ہندوستان کو آلو
ٹماٹر بیچنا چاہتے۔ باقی رہے ہمارے جہادی بھائی یا اللہ کے پراسرار بندے تو وہ کراچی میں گاڑی چلاتی مسلمان عورت سے بھی اُتنی
ہی نفرت کرتے ہیں جِتنی دلی کی کسی ہندو عورت سے۔ وہ چین سے بھی نفرت کرتے ہیں ڈنمارک سے بھی۔ DVD سے بھی اور ٹیلی ویژن سے بھی۔
حجاموں سے بھی اور فٹ بال سے بھی۔ عمران خان نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ کوئی شدّت پسند پاکستان میں کرکٹ پچ پر حملہ نہیں کرے گا۔
لیکن عمران خان کی باتوں کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

پاکستان اور اس کے ٹریننگ کیمپ

آخر کسی ٹرین سٹیشن میں یا ہوٹل میں گھس کر نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے کی لیے کتنی تربیت چاہیئے۔ ہندوستانی میڈیا یہ سمجھتا
ہے کہ جہادی کسی بالی وڈ کے ولن کے اڈے میں رہتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کے شہر کے کسی لوئر مڈل کلاس علاقے کے فلیٹ
میں رہتے ہیں۔

را اچھی ہے آئی ایس آئی بُری

دونوں ایجنسیوں کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو سمجھ آئے گا کہ اپنے ملکوں سے باہر دونوں کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ افغانستان میں، نیپال
میں، سری لنکا میں اور نہ جانے کہاں کہاں دونوں خفیہ اداروں نے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ لیکن اپنے ملک میں اپنے شہریوں کی حفاظت
میں دونوں زیادہ تر ناکام رہی ہیں۔

ساٹھ سال کا چکر

ساٹھ سال تک ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے چکر میں ہم اس حال کو پہنچے ہیں کہ کراچی میں ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچے ایدھی سنٹر
چھوڑ جاتی ہے اور مہاراشٹر کا کسان اپنے بھوکے بچوں کو دیکھتے دیکھتے خودکشی کر لیتا ہے

آئی ایس آئی اسلیے بڑا اور بدنام برانڈ ہے کیونکہ پہلے یہ سی آئی اے کے ساتھ مل کر روسیوں کے خلاف جہاد کر رہی تھی اب سی آئی
اے کے ساتھ مل کر جہادیوں سے خلاف جہاد کر رہی ہے۔

پاکستان غریب ہے اور ہندوستان امیر

بیس سال پہلے جو پاکستانی ہندوستان جاتے تھے وہ آکر بتاتے تھے کہ کیسے بمبئی کی سڑکوں پر ہزاروں بے گھر سوتے ہیں۔ وہاں پر کسی
کے پاس ٹیوٹا کرولا تک نہیں ہے۔ اور ہمارے بڑے فخر سے یہ کہتے کہ ہندوستان میں لوگ بھوکے سوتے ہیں لیکن پاکستان میں کوئی بھوکا
نہیں سوتا۔

اب جن پاکستانیوں کے پاس پیسہ ہے وہ شاپنگ کرنے یا ہارٹ بائی پاس کروانے انڈیا جاتے ہیں۔ لیکن اب دونوں ملکوں میں نہ صرف لوگ بھوکے
سوتے ہیں بلکہ اِتنے عرصے تک بھوکے سوتے ہیں کہ خودکشی کرلیتے ہیں۔

ساٹھ سال تک ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے چکر میں ہم اس حال کو پہنچے ہیں کہ کراچی میں ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچے ایدھی سنٹر
چھوڑ جاتی ہے اور مہاراشٹر کا کسان اپنے بھوکے بچوں کو دیکھتے دیکھتے خودکشی کر لیتا ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply