30

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | پولینڈ: کمیونزم کے بیس برس بعد


 

 

جہاز سازی کے کارخانے گانسک کا گیٹ نمبر دو جہاں دہائیوں تک ہڑتالیں اور جشن منایا جاتا رہا اب یہ جگہ زیارت گاہ کا درجہ رکھتی
ہے

بیس سال قبل پولینڈ کی کمیونسٹ حکومت نے بڑھتی ہوئی سماجی بدامنی پر قابو پانے کے لیے ایک ایسا کام کیا جس کی اس سے قبل کوئی
مثال نہیں ملتی اور وہ کام تھا کالعدم سولیڈیرٹی ٹریڈ یونین کے ساتھ مذاکرات۔

اس وقت ان مذاکرات کو گول میز مذاکرات کا نام دیا گیا جس کے نتیجے میں سوویت بلاک میں پہلی مرتبہ کثیر الجماعتی انتخابات ہوئے
جن میں لیخ ولیسا کی قیادت میں سولیڈیریٹی جماعت کامیاب ہوئی اور یوں پورے مشرقی یورپ میں کمیونزم کے خاتمے کا سلسلہ شروع ہوا۔

آہنی پردہ تو کب کا اٹھ چکا لیکن گانسک جہاں سولیڈیریٹی نے جنم لیا وہاں آج دھند کا پردہ اب بھی موجود ہے۔

گانسک میں واقع جہاز سازی کے کارخانے کا گیٹ نمبر دو جہاں دہائیوں تک ہڑتالیں اور جشن منایا جاتا رہا اب زیارت گاہ کا درجہ رکھتا
ہے۔ یہاں صلیب کے ساتھ سولیڈیریٹی کے بینر لٹک رہے ہیں اور ساتھ ہی میں جان پال دوئم کی تصویر۔پوپ جان پال دوئم پولینڈ میں پیدا
ہوئے تھے اور انہوں نے نہایت مشکل کے دنوں میں پولینڈ کے عوام سے کہا تھا ’خوفزدہ نہ ہوں‘۔

سولیڈیریٹی کا قیام انیس سو اسّی میں اس وقت عمل میں آیا جب جہاز سازی کے کارخانے پر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کی گئی
ہڑتال پورے پولینڈ میں پھیل گئی۔ کچھ ہی عرصے بعد کمیونسٹ بلاک میں پہلی آزاد ٹریڈ یونین قیام میں آئی جس کے دس ملین ممبران تھے۔
اس یونین میں ایک چوتھائی ممبر پولینڈ کے شہری تھا۔ اس ٹریڈ یونین نے فوجی کارروائی برداشت کی اور برسوں تک مشکلات جھیلیں۔

انیس سو نواسی میں اشیاء کی کمی، قیمتوں میں ہزار فیصد اضافہ اور میخائل گورباچوف کے اصلاحی پروگرام کے ساتھ تجربوں کی صورتحال
میں پولینڈ کی کمیونسٹ حکومت کے پاس سولیڈیریٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

جرزی اربن بیس برس قبل اس وقت کی حکومت کے ترجمان تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ گیا تھا اور حکومت
کو کچھ سوجھ نہیں رہا تھا کہ وہ معاشی بحران سے ملک کو کیسے نکالے۔

’ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ معاشی، سیاسی اور فوجی لحاظ سے ہم مغرب سے پیچھے رہ گئے تھے اور ہمارا سیاسی نظام بحران کی زد میں ہے
اور تنزلی کا شکار ہے‘۔

گول میز مذاکرات خوشگوار ماحول میں نہیں ہوئے لیکن اس وقت کی ضرورت تھی: ولیسا

لیخ ولیسا اور سولیڈیریٹی کے دیگر رہنما مشہور زمانہ گول میز مذاکرات میں ان لوگوں سے بات کرنے پر آمادہ ہو گئے جنہوں نے ان کے
ساتھیوں کو جیل میں ڈالا اور ان کے کئی ساتھیوں کو ہلاک کیا۔ لیخ ولیسا نے کہا ’یہ خوشگوار ماحول قطعی نہیں تھا لیکن اس وقت کی
ضرورت تھی۔ ہم نے سوچا ہوا تھا کہ ایک دن ان کو ہم مار بھگائیں گے۔ میں جب بیٹھا تو مجھے معلوم تھا کہ سمجھوتا کرنا ہو گا‘۔

کونسٹنٹین گیبرٹ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ یہ نظام چند ماہ بعد ہی ختم ہو جائے گا۔ کونسٹنٹین اس وقت
حزب اختلاف کا ایک خفیہ اخبار نکالتے تھے۔ ’ہر منٹ تبدیلی رونما ہو رہی تھی جس کی ہمیں توقع نہیں تھی‘۔ اس سال جون میں سولیڈیریٹی
نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ملک کو جمہوریت اور آزاد معیشت کی جانب گامزن کیا۔

گیبرٹ آج کل پولینڈ کے صف اول کے اخبار میں کالم نویس ہیں۔ اس اخبار کے قیام کا مطالبہ سولیڈیریٹی نےگول میز مذاکرات کے دوران
کیا تھا۔

بندرگاہ پر بجلی کا کام کرنے والے لیخ ولیسا کو اس وقت نوبل پرائز ملا جب سولیڈیریٹی کالعدم تھی اور وہ پولینڈ کے پہلے جمہوری
طور پر منتخب صدر بنے۔

لیکن گانسک میں جو کہ اب نجی ادارے کی ملکیت ہے چند ہزار مزدور کام کرتے ہیں۔ جہاز سازی کے پرانے کارخانے پر مشینیں ملبہ ہٹانے
کا کام کرہی ہیں۔ اس جگہ ینگ سٹی تعمیر ہو گی جس میں ہوٹل اور شاپنگ مال، سینما اور یورپی سولیڈیریٹی سینٹر شامل ہے۔

ہمارے پاس رقم ہوتی تو پولینڈ کی جہاز سازی کی صنعت کو بچا لیتے: تیبور

ینگ سٹی کی تعمیر میں ملوث کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سمجھتے ہیں کہ جہاز سازی کے کارخانے کے سابق مزدوروں کے لیے یہ اچھی خبر
ہے۔ ’یہاں پر اگلے بارہ سال سے بھی زیادہ عرصے تک ملازمت کے بہت مواقع ہیں‘۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہاں پر دس ہزار افراد کے
لیے ملازمت کے مواقع ہوں گے۔

لیکن اتنی ہی ملازمتیں اس سال مئی میں ختم ہو جائیں گی جب دو پرانی بندر گاہوں کو بیچ دیا جائے گا۔ یورپی یونین ان جہاز سازی کے
کارخانوں کی فروخت پر زور دے رہی ہے تاکہ غیر قانونی ریاستی امداد کے ضمن میں دی گئی رقم وصول ہو سکے۔

سولیڈیریٹی کے ممبر جرزی تیبور کا کہنا ہے کہ یہ ناانصافی ہے۔ ’جب بینک بحران کی زد میں آئے تو ان کے بچاؤ کے لیے رقم مہیا کی
گئی۔ اگر ہمارے پاس برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں بینکوں کو دی گئی رقم کا دس فیصد بھی ہوتا تو ہم پولینڈ کی جہاز سازی کی صنعت
کو بچا لیتے‘۔

بیس سال گزرنے کے بعد سب ہی لوگ نئے نظام سے خوش نہیں۔ آزاد معیشت کے ہاتھوں کئی لوگ متاثر ہوئے اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں
نے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ لیکن اس نظام کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply