31

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | مغرب پاکستان پر رویہ سخت کرے: رشدی

سلمان رشدی
سلمان رشدی پر ان کی کتاب ’دی سٹینک ورسز‘ کی وجہ سے موت کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا

اپنی مشہور کتاب ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر ’بیسٹ آف دی بکر‘ کا ایوارڈ پانےوالے مصنف سلمان رشدی نے برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کو دیے
گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ تین شہر جو ان کو سب سے زیادہ پسند ہیں گزشتہ دس سالوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے
ہیں۔

’یہ عجیب بات ہے کہ میری زندگی میں تین شہر جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں گزشتہ دس سالوں میں شدت پسند حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔‘

وہ نیویارک، لندن اور حال ہی میں ممبئی پر ہونے والے شدت پسند حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیو یارک
پر جہازوں سے حملہ ہوا، سات جولائی دو ہزار پانچ کو لندن کو جہاں رشدی قیام پذیر ہیں خود کش بمباروں نے حملوں کا نشانہ بنایا اور
گزشتہ برس نومبر میں ممبئی جہاں سلمان رشدی پیدا ہوئے تھے، مبینہ شدت پسندوں کی گولیوں اور بموں کا نشانہ بنا۔

ممبئی کے مشہور تاج محل ہوٹل پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے سلمان رشدی نے کہا کہ ’یہ وہ گلیاں تھیں جہاں میں بڑا ہوا تھا۔ میرے ناول
مڈ نائٹس چلڈرن کے دو کردار پیلس (تاج محل) میں ہی اپنے پیار کو پروان چڑھاتے ہیں، جیسا کہ ہم میں سے اکثر نے کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ممبئی کے لوگوں نے بے پناہ حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اب شدید غصہ غالب آ گیا ہے۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ تھا۔ آپ اسے جنگ کا اعلان بھی کہہ سکتے ہیں۔ مغرب کو چاہیئے کہ پاکستان پر سختی
کرے۔ پاکستان دونوں طرف سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ انقلابیوں کا بھی دوست بننے کی کوشش میں ہے اور دوسری طرف مغرب کی دہشت
گردی کے خلاف جنگ میں بھی ان کا دوست ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں بن سکتا۔ اس کو صاف طور پر سمجھ لینا چاہیئے کہ جب تک پاکستان
شدت پسندوں کو پناہ دیتا رہے گا اسے مغرب کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملے گی۔‘

سلمان رشدی نے کہا کہ برطانیہ نے بھی شدت پسندی کے پنپنے میں کافی نرم رویہ رکھا ہے۔ ’تھیچر اور بلیئر دونوں نے غلطیاں کیں، جس
کو کہ ’لنڈنائزیشن پالیسی (Londonisation policy) کہ سکتے ہیں۔ جس میں یہ سمجھ لیا گیا کہ اگر آپ ان (اسلامی) گروہوں کو اپنی
دوکانیں کھولنے دیں گے تو وہ آپ پر حملہ نہیں کریں گے۔ اور آپ ان کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وار آن ٹیرر‘ ایک خوفناک فقرہ ہے۔ ’آپ کبھی دہشت کو ہرا نہیں سکتے۔ لیکن میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ اس ملک
میں لبرل خیالات رکھنے والے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ حقیقی دشمن موجود ہیں۔‘

تاہم سلمان رشدی یہ نہیں مانتے کہ اسلام اور عیسائیت میں ثقافتوں کو ٹکراؤ ہے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply