39

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | برطانوی’بابائےاردو‘ رالف رسل نہ رہے

رالف رسل تصویر بشکریہ ralphrussell.co.uk
پروفیسر رسل برطانوی سکولوں میں اردو زبان کا نیا کورس متعارف کروانے کے لیے کوشاں تھے (تصویر بشکریہ ralphrussell.co.uk)

برطانیہ میں بابائے اردو کہلانے والے اردو زبان کے استاد رالف رسل نوے سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ پروفیسر رسل برطانیہ میں اردو
زبان سے وابستگی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

انہوں نے اپنی زندگی اردو زبان میں تحقیق اور درس و تدریس میں گزاری۔ رسل انیس سو اٹھارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انڈیا اور
پاکستان میں کافی وقت گزارا تھا۔

ان کی تصانیف میں ’تھری مغل پوئٹس‘ جو انہوں نے خورشید الاسلام کے ساتھ مِل کر لکھی تھی، ’غالب: لائف اینڈ لیٹرز‘ اور ’اے نیو
کورس ان اردو اینڈ سپوکن ہندی‘ شامل ہیں۔ وہ انیس سو انچاس سے انیس سو اکیاسی تک جامعۂ لندن میں اردو زبان کی تعلیم دیتے رہے۔

پٹھانی لہجہ کہاں سے آیا

 رالف رسل کے لہجہ میں پٹھانوں کا لہجہ غالب تھا۔ وہ کہتے تھے کہ انڈین آرمی میں میرے اردو کے منشی ایک پٹھان تھے ۔ انہوں نے کہا
کہ انہی سے میں نے یہ لہجہ اپنایا پھر فوج میں میرے ساتھ ایک پٹھان محمد نواز تھے جو برما کے محاذ پر ایک ہی خیمہ میں رہتے تھے۔
ان کے لہجہ نے رسل پر ایسا اثر چھوڑ کہ اب تک نہیں گیا

 

آصف جیلانی

رالف رسل سولہ سال کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن بن گئے تھے۔ انہوں نے انیس سو چالیس میں جامعۂ کیمبرج میں تعلیم مکمل کی اور
دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے پر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے ساڑھے تین سال انڈیا میں گزارے۔

رالف رسل نے اپنی ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ انہوں نے انڈیا میں فوج کی نوکری کے دوران اردو سیکھی۔ لیکن یہ نوکری کی ضرورت نہیں
تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اردو اس لیے سیکھی کہ وہ ان لوگوں کے کام آ سکیں جن کی خدمت کمیونزم کا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا
کہ وہ فوج میں رہتے ہوئے ان سپاہیوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا چاہتے تھے جنہیں بھرتی ہی اسی لیے کیا گیا کہ وہ ’غیر سیاسی‘ تھے۔

بی بی سی اردو سروس کے سینیئر صحافی آصف جیلانی نے بتایا کہ رالف رسل کے لہجہ میں پٹھانوں کا لہجہ غالب تھا۔ انہوں نے ایک بار
رالف رسل سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو اپنے خاص انداز میں قہقہہ لگا کر بولے ’انڈین آرمی میں میرے اردو کے منشی ایک پٹھان
تھے ۔ انہی سے میں نے یہ لہجہ اپنایا پھر فوج میں میرے ساتھ ایک پٹھان محمد نواز تھے جو برما کے محاذ پر ایک ہی خیمہ میں رہتے
تھے ۔ ان کے لہجہ نے مجھ پر ایسا اثر چھوڑ کہ اب تک نہیں گیا۔‘

رالف رسل نے ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سپاہیوں نے نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کے رسالے پڑھنا شروع کر دیے بلکہ
چندہ بھی دینے لگے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد انہوں نے اردو اور سنسکرت میں ڈگری حاصل کی۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply