50

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | اور جنکے نام کوئی نہیں جانتا۔۔۔


 

 

نیویارک میں گیارہ ستمبر کی یادگاری تقریب

ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں میں ہلاک ہونیوالے لوگوں میں، بقول نیویارک کے میئر بلومبرگ، دنیا کی پچانوے قوموں سے تعلق رکھنے والے
مرد اور عورتیں شامل تھیں۔

’دہشتگردی کا شکار ہونے والے کئی قوموں کے لوگوں سے ایک متحد انسانی فیملی بنتی ہے‘، میئر بلومبرگ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب گزشتہ
روز کی یادگاری سروس کے دوران کہہ رہے تھے’ہر مذہبی عقیدے، نسل اور ملکوں کے لوگ۔ گورے کالے ہندو مسلم سکھ عیسائی، ہر مذہب اور
لامذہب لوگ۔ فوجی، فائرمین، پولیس والے، اور سویلین، کوئی تین ہزار کے قریب۔ بولیویا، ازبکستان، انڈیا اور پاکستان کے چودھری
محمد وسیم، شبیہ احمد، ہنس مکھ پرمار ، شعبان علی، وشنو رام، محمد خالد شاہد بھی اس فہرست میں شامل تھے جن کے نام پڑھے جا رہے
تھے، جن کی یاد میں آنسو، پھول، امریکی پرچم اور اپنے ان پیاروں کی تصاویر لیے ان کی فیملیاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں اس جگہ زکوٹی
پارک پہنچے تھے جہاں پس منظر میں بمشکل دو تین بلاک دور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور کی جگہ اب گراؤنڈ زیروہے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور والی عمارت کی نواسویں (ایٹی نائنتھ) فلور، جو طیارے ٹکرائے جانے والی جگہ سے فقط تین منزلیں نیچے
تھا،

امراہیم اولووٹز

میں انشورنس کمپنی میٹ لائیف میں کام کرنے والے بروکلین کے ابراہیم اولووٹز بھی شامل تھے جو یہودی کمیونٹی میں رفاعی کاموں میں
سرگرم ہونے کی وجہ سے مشہور تھے۔ ابراہیم اولووٹز کے بھائی میلینڈ اولووٹز اور چارلس اوولوٹز جوگيارہ سمتبر کی ساتویں میموریل
سروس میں موجود تھے، بتا رہے تھے کہ انکے ماں باپ کا تعلق ہنگری سے تھا اور انکے والدین یورپ میں ہٹلر کی فسطائیت کا بھی شکار
ہوئے تھے۔ میلینڈ اولووٹز بتارہے تھے انکی ماں یوگو سلاویہ میں ’کانسنٹریشن کیمپ‘ میں قید رہی اور باپ پانچ برس تک روپوش رہا تھا۔

میلینڈ اولووٹز بتارہے تھے کہ انکے اکیاون سالہ بھائی شمالی ٹاور کے نواسویں فلور پر بتیس لوگوں کے ساتھ ایک کمرے میں پناہ کے
لیے بھاگے تھے۔ جب پہلا طیارہ ٹکرایا تھا، تب سے وہ ٹیلیفون پر اپنی بیوی سے بات کرتے رہے تھے جو مدد کیلیے پولیس سمیت سب کو فون
کرتی رہیں۔ ویسے ابراہیم دیر سے دفتر جاتے تھے لیکن اس دن وہ جلدی ہی چلے گئے تھے۔ میلینڈ کے بقول، انکے بھائی ابراہیم کے فلور
پر ایک اسی سالہ شخص بھی تھا جواس عمارت کے نواسی فلور کی تمام سیڑھیاں لیکر نیچے تک آنے اور جان بچانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اور اسے ایک گھنٹہ لگا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کام کرنے والے ہنس مکھ پرمار بھی تھے جن کا تعلق ہندوستان سے تھا لیکن وہ کینیا میں پلے بڑھے اور اکیس سال
سے امریکہ میں نیو جرسی کے شہر رون میں رہتے تھے۔

ہنسھ مکھ کے دو جواں سال بیٹے رشی اور شمیر اپنی ماں کے ساتھ کل گراؤنڈ زیرو پر موجود تھے۔ یہ نوجوان جو اب کالج اور ہائی سکول
میں ہیں بتا رہے تھے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی صبح ان کے والد ہنس مکھ پرمار اپنے ان دونوں بچوں کو سکول چھوڑ کر ورلڈ ٹریڈ
سینٹر پر حملوں میں ہلاک ہوئے۔ رشی جو ایک ابھرتا ہوا ہِپ ہاپ گلوکار ہے کہہ رہا تھا انکے والد انہیں ہمیشہ موسیقی کیلیے ہمت افزائي
کرتے تھے اور ایک گيت اب انہوں نے اپنے والد کی یاد میں گایا ہے۔

جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی ایک ماں پلسون کنگ بھی آئی ہوئی تھی جنکا اکلوتا بیٹا جونکو کنگ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں دہشتگردانہ
حملے کا شکار ہوا۔ پلسون کنگ اور اسکا شوہر اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ہوئے تھے، پلسون کنگ مجھے اور ایک ایشیائي خاتون صحافی سے
کہہ رہی تھیں ’ہم ایشیائي لوگ پتہ نہیں کیوں بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیج دیتے ہیں، میرا تو ایک ہی بیٹا تھا۔ اسکے جانے کے بعد میں
خود کو بہت تنہا محسوس کرتی ہوں، اب تو میری بہو بھی اپنے بچوں کو لیکر سان ڈیاگو کیلیفورنیا چلی گئي ہے، وہ نیویارک میں نہیں
رہنا چاہتی۔‘ جونکو کنگ اکیس سال قبل جنوبی کوریا سے امریکہ آیا تھا۔

سات سالہ بچي رولی اس وقت اپنی چھ ماہ کی حاملہ ماں کے پیٹ میں تھی جب رولی کا فائرمین باپ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں پھنسے ہوئے لوگوں
کو نکالنے اور بچانے کے کام پرگیا اور خود بھی ہلاک ہوگیا۔ ایسے کئی بچے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملے کے ساتویں سال کی یاد والے دن
کی تقریب میں آئے ہوئے تھے۔

نیویارک کے علاقے برانکس کی کیرول ریبیلس ایک اور خاتون تھی جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نائٹیتھ فلور پر کام کرتی تھی اور اس دن حملے
میں ہلاک ہوئیں۔ کیرول کی بیٹی اور بہن پیٹریشیا اسکی تصاویر اٹھائے ہوئے آبدیدہ تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں ’ہر دن اسکی یاد ہے جو
ہر دن نئی ہے۔ وہ انتہائي ونڈرفل تھی۔‘

اسی جگہ جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر قائم تھا وہاں کبوتر اب بھی اڑ پھر رہے تھے اور بچے ان سے کھیل رہے تھے۔

لیکن اس جگہ کولمبیا سے تعلق رکھنے والا جرمانو ریویریا ایک ایسا کردار ہے جوگزشتہ سات سال سے ہر سال اسی جگہ موجود ہوتا ہے۔ امریکی
پرچم اٹھائے ہوئے جس پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہلاک ہونے والوں کے نام لکھے ہیں۔

جرمانو ریوریا اس دن بھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں موجود تھا جس دن یہ حملہ ہوا تھا۔ جرمانو کا کہنا ہے کہ وہ ایک جیولری کی دکان پرکام
کررہا تھا اور بس صرف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پاس ہی لبرٹی پلازہ میں کافی پینے کوگیا تھا کہ حملہ ہوا۔ جرمانو کا کہنا ہے کہ اس دن
سے وہ رضاکارانہ طور ملبہ ہٹانے اور ہلاک ہونیوالوں کے جسد نکالنے میں لگ گیا تھا۔ اس نے امریکی پرچم پر لکھے ایک نام پر اپنی
انگلی رکھتے ہوئے کہا ’جوزف زکوٹی کی ’ریمینز‘ بھی میں نے ہی نکالی تھیں۔‘ جوزف زکوٹی کی یاد میں یہ پارک ہے جہاں گیارہ ستمبر
کی یاد میں اجتماع ہورہا تھا۔ جرمانو کہنے لگا ’لیکن بعد میں مجھے ’کِک آؤٹ‘ کردیاگيا، میں آج تک نہیں بھول سکتا وہ دن، وہ چيخيں،
وہ آگ، وہ بدبو۔۔ کبھی بھی نہیں بھول سکتا‘، وہ کہہ رہا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں گراؤنڈ زیرو سے کو‏ئی زیادہ دور نہیں احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے تھے۔ کچھ زور وشور
سے تو کچھ خاموش۔
ایک جگ خاموشی سے ایک تحریری کتبہ، پھول اور شعمیں ایک نوجوان کی تصویر پر تھے جس پر لکھا تھا: ’ان غیر قانونی محنت کشوں کے نام
جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں مارے گۓ اور جنکے نام کوئی نہیں جانتا۔‘

زور شور والے مظاہروں میں ’سیپٹمبر الیون۔ ٹرتھ نائو‘ نامی تنظیم والے بھی تھے، تو وہ بھی جنکے ایک بڑے سرخ رنگ کے بینر پر لکھا
تھا ’گيارہ ستمبر بش حکومت کا کام ہے‘ اور ایک مقرر اسکے پاس جمع لوگوں سے کہہ رہا تھا ’میں تمہیں بتاؤں کہ گيارہ ستمبر کیوں ہوا،
اس لیے کہ ایک اور پرل ہاربر چاہیے تھا۔‘ ایک اکیلا مقامی شہری ان مظاہرین سے کہہ رہا تھا ’شرم کرو، یہ سب جھوٹ بک رہے ہو!‘
ان مظاہروں سے دور عیسائی مبلغوں کےگروپ بھی تھے جن میں کوئي گراؤنڈ زیرو پر صلیب کی حکمرانی کی بات کررہے تھے تو کوئی ’اپنے
دشمن سے بھی پیار کرو‘ کے سبق دے رہے تھے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply