29

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | اسرائیلی عربوں کا غصہ اور ووٹ

اب یہودی گاہک ناصریہ آنے سے ڈرتے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی عرب قصبے ناصریہ میں رہنے والے سب لوگ غزہ آپریشن کے بارے میں اندر ہی اندر غم و غصہ رکھتے ہیں۔

دو ریاستی فارمولے کو اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل تصور کرنے والے اکتالیس سالہ نرم گفتار دخول سفادی کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی
اس قتلِ عام سے اتفاق نہیں کر سکتا‘۔ اس کے ساتھ ہی وہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

دسمبر کی ستائیس تک اسرائیل بھر سے یہودی گاہک ان کے ریستوراں کے مخصوص کھانوں کے لیے آتے تھے لیکن اب ان میں سے اکثر نے آنا چھوڑ
دیا ہے کیونکہ غزہ پر اسرائیلی حملوں نے اسرائیل کے یہودیوں اور اور عربوں کے درمیان تعلقات کو شدید کشیدہ کر دیا ہے جب کہ عرب
اسرائیلی آبادی کا بیس فیصد ہیں۔

غزہ آپریشن کے بعد اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والی پارٹی ’یسرئیل بیت النیو‘ کی دس فروری کے انتخابات میں
برتری حاصل کرنے کے اندازوں نے کشیدگی کو اور گہرا کیا ہے۔

اس پارٹی کو ان یہودیوں میں زیادہ مقبولیت حاصل ہے جو سابق سوویت یونین ریاستوں یا روس نواز ملکوں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔

اس پارٹی کے رہنما ایودگور لائبرمین ان اسرائیلی سیاستدانوں سے لفاظی کی لڑائی میں سب سے آگے رہے ہیں جو غزہ پر حملوں سے اختلاف
رکھتے تھے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق کنیسٹ کے رکن احمد طبی اس حملے کو نسل کشی قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ایہود المرت کی قدیمہ
پارٹی کو جانے والا ہر ووٹ فلسطینی بچے کو سینے پر لگنے والی گولی ہے‘۔

اس کے جواب میں ایودگور لائبرمین نے انہیں دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ کنیسٹ کے کچھ عرب ارکان کے سے بھی اسی طرح نمٹا جانا چاہیے
جیسے حماس سے نمٹا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اسرائیل عرب پارٹیوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگوانے کی بھی کوشش
کی جسے اسرائیلی سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔

یہ ہمدردی کی بات نہیں ہے۔ یہ بات ہے مرنے والوں کی اور مارنے والوں کی

اسرائیلی عرب ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو وہ فلسطینی عرب ہیں اور جو اب ان علاقوں میں رہتے ہیں جن پر انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل
قائم کر دیا گیا۔

جن عربوں کو اسرائیلی شہری کے طور پر مکمل حقوق حاصل ہیں لیکن وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک دیکھا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شہری اب اپنی ناراضی کا اظہار ووٹ کے ذریعے کریں گے۔

لیکن چالیس سالہ الہام ابو احمد جیسے کچھ شہری اب سیاسی جماعتوں سے لاتعلق ہو جائیں گے۔

ناصریہ کی مرکزی سڑک پر واقع ایک کیفے میں میں بیٹھی الہان کا کہنا تھا کہ وہ کسی اور سے نہیں خود سے ناراض ہیں کہ انہوں نے گزشتے
انتخابات میں لیبر لیڈر اور موجودہ وزیر دفاع ایہود باراک کی حمایت کیوں کی۔

اب ان کا کہنا تھا کہ ’وہ مجرم ہے اور میں چاہتی ہوں وہ مر جائے‘۔ ایہود باراک نے غزہ آپریشن میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا
کہنا ہے کہ اب وہ کسی اسرائیلی عرب پارٹی کوووٹ دیں گی۔

تعمیراتی مزدور اکیس سالہ احد اودے کی طرح بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ووٹ ہی نہیں ڈالیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی اس قابل نہیں کہ اسے ووٹ دیا جائے۔ جنگ کا اثر مجھ پر پڑا ہے اور اگر میں ووٹ دوں گا تو بھی کوئی فرق
پڑنے والا نہیں‘۔

ناصریہ میں غزہ آپریشن کے خلاف اسرائیلی عربوں کا احتجاج

نوے کی دہائی میں اسرائیلی عربوں کی ووٹنگ کی شرح ستر فی صد تھی۔ سنہ دو ہزار میں فلسطینی بےچینی کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے
بعد یہ شرح اٹھارہ فیصد گر گئی جو اب تک واپس نہیں آ سکی۔

دو ہزار تین میں یہ شرح باسٹھ فی صد تک آئی لیکن دو ہزار چھ میں پھر چھپن فی صد پر لوٹ گئی۔

مبصرین اس کی ذمہ داری اسرائیلی عرب پارٹیوں کی تقسیم پر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا کنیسٹ پر کوئی اثر نہیں ہے اور کبھی نہیں
ہوا کہ اقتدار کی جنگ میں انہوں نے کوئی کردار ادا کیا ہو یا وہ اقتدار کے لیے بننے والے کسی اتحاد کے لیے اہمیت حاصل کر سکی ہوں۔

چالیس سالہ اننات تولنائی اور پینتیس سالہ احسان کابیہ جو ایک عرب یہودی میاں بیوی ہیں، اس تنازعے کا تعلق اسرائیلی عربوں کی اصطلاح
کے مطابق نسل پرستانہ رویے سے جوڑتے ہیں۔

تولنائی کہتی ہیں کہ ’’عربوں کو ختم کر دو‘، کا نعرہ پہلے انتہا دائیں بازو کے لوگ لگاتے تھے لیکن اب کہیں زیادہ لوگ یہ بات کرنے
لگے ہیں‘۔

یہ جوڑا پہلے بائیں بازو کی جماعت میرٹز کا حمایت کرتا تھا لیکن اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی عرب پارٹی حداش کو ووٹ
دیں گے۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply