26

BBCUrdu.com | علاقائی خبریں | آیت اللہ: فرانس سے انقلاب تک

آیت اللہ خمینی
اپنی شعلہ بیانی اور سمجوتہ نہ کرنے کے موقف کے ساتھ انہوں نےعالمی رہنما کی حیثیت حاصل کر لی تھی

یہ واقعہ بیسویں صدی کے اہم واقعات میں سے ایک تھا جب تیس سال قبل ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی نے جلاوطنی سے واپس آکر
اسلامی انقلاب کا آغاز کیا تھا۔جو طیارہ آیت اللہ کو تہران لے کر گیا تھا اسی طیارے میں بی بی سی کے جان سمپسن بھی سوار تھے۔

پیرس کے باہر نیاؤپلے شیتوگاؤں میں ان تیس سالوں میں زیادہ کچھ نہیں بدلا وہ سڑک ، باغیچہ یہاں تک کہ لکڑی کا وہ سبز دروازہ بھی
ابھی تک وہیں موجود ہے جس سے گزر کر آیت اللہ خمینی نماز کے لیے جایا کرتے تھے۔یہ تمام چیزیں ابھی تک جوں کی توں ہیں۔

لیکن اس گاؤں کے باہر کی دنیا بہت بدل چکی ہے اس پُرسکون اور خاموش گاؤں میں جو بھی ہوا اس نے ان تبدیلیوں میں بہت اہم کردار ادا
کیا ہے۔

1978 میں جب انقلاب کی لہر چلی اس وقت آیت اللہ خمینی کو عراق کے مقدس شہر نجف میں جلا وطنی میں رکھا گیا۔ عراق پر صدام حسین کی
حکومت تھی۔ ایران کے شاہ نے صدام حسین سے کہا کہ وہ آیت اللہ خمینی کو عراق سے نکال باہر کریں۔

 ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی اور دنیا بھر میں مسلم رائے عامہ کو متحرک کیا گیااور یہ تمام چیزیں فرانس کے اس چھوٹے سے
گاؤں میں طے ہوئیں جہاں ٹریفک جام یا برف باری بہت بڑے مسائل ہوتے ہیں

 

جان سمپسن

یہ ایک تباہ کن حد تک غلط اندازہ ثابت ہوا آیت اللہ فرانس پہنچ گئے جہاں سے اچانک وہ پوری دنیا سے خطاب کر سکتے تھے۔ نیاؤپلے شیتو
سے چار ماہ میں انہوں نے 132 انٹرویو دیے۔

اپنی شعلہ بیانی اور سمجوتہ نہ کرنے کے موقف کے ساتھ انہوں نے عالمی رہنما کی حیثیت حاصل کر لی۔جنوری 1979 میں جب شاہ نے ایران
چھوڑا تو وطن واپس جاکر حکومت کا تختہ پلٹنے کی ان کی راہ ہموار ہو گئی۔

آیت اللہ جس طیارے سے ایران واپس جا رہے تھے میں کسی طرح اس کی دو ٹکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔حالانکہ بی بی سی نے مجھے
بھیجنے سے انکار کیا لیکن میں خود کو روک نہیں پایا اور اپنے کیمرہ مین کے ساتھ اس سفر پر نکل پڑا۔

جلد ہی مجھے یہ احساس ہو گیا یہ سفر خطرناک بھی ہو سکتا ہے کیونکہ فلائیٹ کے دوران آیت اللہ کے ایک افسر نے اعلان کیا کہ شاہ کی
وفادار ایرانی فضائیہ اس طیارے کو اڑانے کامنصوبہ بنا رہی ہے۔

خمینی
جب شاہ نےایران چھوڑا تو وطن واپس جاکر حکومت کا تختہ پلٹنے کی ان کی راہ ہموار ہو گئی

اس بات پر ہم صحافی کچھ مایوس ہو گئے لیکن آیت اللہ کے حامی اس خبر سے نعرے لگانے لگے کیونکہ ان کے نزدیک یہ شہادت تھی۔

آیت اللہ فرسٹ کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم ان کی فلم بنانے گئے آیت اللہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں
کیسا محسوس ہو رہا ہے تو ان نے کہا’ کچھ نہیں‘۔

ایرانی فضائیہ نے ظاہر ہے ہمارے طیارے کو نہیں اڑایا لیکن زمین پر موجود حکام سے حتمی مزاکرات ہونے تک ہم فضا میں گھومتے رہے۔جب
ہم ہوائی اڈے پر اترے تو وہاں اتنا ہجوم موجود تھا کہ شاید انسانی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی اور دنیا بھر میں مسلم رائے عامہ کو متحرک کیا گیااور یہ تمام چیزیں فرانس کے اس چھوٹے سے
گاؤں میں طے ہوئیں جہاں ٹریفک جام یا برف باری بہت بڑے مسائل ہوتے ہیں۔

 



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply