12

یمن: حدیدہ پر اتحادی فوج کی کارروائی جاری، لاکھوں کو قحط کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

اقوام متحدہ میں امارات کے مندوب کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز اب شہر کے ہوائی اڈے سے دو کلومیٹر کی مضافت پر ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر اتفاق نہیں کر سکے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر کارروائی سے روکا جائے۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے یمن کی صورتحال کے سلسلے میں ہنگامی بند کمرہ اجلاس کیا ہے جس میں صرف اس بات پر اتفاق ہوا کہ بندرگاہ کو کھولے رہنا چاہیے۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان ملک کی اہم ترین بندر گاہ حدیدہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔ حدیدہ امدادی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی اہم بندرگاہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمنی خانہ جنگی میں حدیدہ کا محاذ سب سے بڑا اور مہلک ترین محاذ ہو سکتا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 باغی جبکہ نو حکومتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امارات کے مندوب کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز اب شہر کے ہوائی اڈے سے دو کلومیٹر کی مضافت پر ہیں۔

حدیدہ کی بندرگاہ قحط کے خطرے سے دوچار اس ملک کی سترہ فیصد درآمدات کا ذریعہ ہے اور اس بندر گاہ پر حملے کے بارے میں اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں قیامت خیز تباہی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومتی فورسز کے باغیوں کے زیرِ کنٹرول بندرگاہ حدیدہ پر تازہ ترین حملے کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ افراد بھوک سے مرنے کے خطرے میں ہیں جن کا امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔

خطے میں موجود طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی فورسز کے حملوں میں 22 حوثی باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتحادی فورسز کے جنگی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔ خیال رہے کہ حوثی یمن کی زیدی شیعہ مسلم اقلیت ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply