19

ہاروی وائن سٹائن نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا

ہاروی وائن سٹائن

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

ہاروی وائن سٹائن پر فردِ جرم مین ہیٹن گرینڈ جیوری کی تحقیقات کی روشنی میں عائد کی جائے گی

ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن نے نیویارک میں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے جہاں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان پر جنسی بدسلوکی کے حوالے سے فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

ان پر عائد الزامات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا تاہم امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ بعض الزامات کا تعلق اداکارہ لوسیا ایونز سے ہے۔

66 سالہ وائن سٹین پر جنسی حملے، ریپ اور ہراساں کیے جانے کے متعدد الزامات ہیں جبکہ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بھی بغیر رضامندی کے سیکس نہیں کیا اور یہ پہلا موقع ہے کہ ان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں

کیریئر تباہ کرنے پر ایشلے جوڈ کا وائن سٹائن پر مقدمہ

وائن سٹین کی آسکر کی رکنیت ختم

جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں؟

ان پر لگائے گئے الزامات کے بعد انٹرنیٹ پر می ٹو #MeToo مہم کا آغاز ہوا تھا جس کے دوران لوگوں نے اپنے خلاف ہونے والی جنسی ہراسانی کے واقعات کو بیان کیا۔

وائن سٹائن پر کیا الزامات ہیں؟

ان پر فردِ جرم مین ہیٹن گرینڈ جیوری کی تحقیقات کی روشنی میں عائد کی جائے گی۔ انھوں نے فی الحال اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا اور ان پر عائد کی جانے والی فردِ جرم کا انحصار ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس وینس پر ہے۔

نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ بعض الزامات کا تعلق اداکارہ لوسیا ایونز سے ہے۔ انھوں نے پچھلے سال امریکی جریدے نیویارکر میں ایک مضمون لکھ کر وائن سٹائن کے خلاف الزامات لگائے تھے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان پر مزید الزامات عائد کیے جائیں گے یا نہیں۔

یہ معلوم ہے کہ نیویارک پولیس ان کے خلاف اداکارہ پاز دے لا ہیورتا کے ریپ کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

اسی ماہ نیٹ فلکس کی پروڈیوسر الیگزینڈرا کینوسا نے نیویارک کی ایک عدالت میں دستاویزات جمع کروائی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ انھیں وائن سٹائن نے ریپ کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق وائن سٹائن پر مین ہیٹن کی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ہاروی وائن سٹائن نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا ان کے موکل کا زیرِ حراست ہونا ناگزیر ہے یا نہیں۔

Image caption

ہاروی وائن سٹائن پر الزام لگانے والوں میں صفِ اول کی اداکارائیں شامل تھیں

ہاروی وائن سٹائن پر اور کس نے الزامات لگائے ہیں؟

جنسی سکینڈلز کی زد میں آئے ہوئے ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی سائن سٹائن پر متعداد خواتین نے جنسی حملوں اور ریپ کے الزامات لگائے ہیں۔

مشہور اداکارائیں جیسے کیٹ بیکنسیل، لائسیٹ انتھونی اور گوائنتھ پالٹرو ان معروف ناموں میں شامل ہیں جنھوں نے پروڈیوسر پر الزامات لگائے ہیں۔

اس کے علاوہ اداکارہ ایشلی جڈ کہتی ہیں کہ پرڈیوسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ان کے کیرئیر کو نقصان پہنچا ہے۔

ہاروی وائن سٹائن پر جاری کیسز میں سے ایک میں اطالوی ماڈل ایمبرا باٹیلانا نے ہاروی وائن سٹائن پر ان کو دبوچنے کا الزام لگایا تھا۔

تفتیش کاروں نے اس الزام پر کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ ان کے پاس آڈیو ریکارڈنگ موجود تھی جس میں ہاروی وائن سٹائن یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے ماڈل کی چھاتی کو چھوا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ دوبارہ نہیں کریں گے۔

لاس اینجلس کے پراسیکیوٹرز اس وقت کئی ایسے مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پولیس نے ہاروی وائن سٹائن کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفتیش کی تھی اور مقدمے شروع کیے تھے۔

اس کے علاوہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس بھی ہاروی وائن سٹائن کے خلاف جنسی ہراساں کیے جانے والے الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

الزامات کے بعد فلم پروڈیوسر کے ساتھ کیا ہوا؟

الزامات کے بعد ہاروی کا کریئر تباہ ہو گیا ہے۔ گذشتہ برس ان کی پروڈکشن کمپنی نے انھیں برخاست کر دیا اور اس کے بعد کمپنی خود بھی دیوالیہ ہو گئی۔

امریکی فلمی صنعت کے بڑے ناموں نے ان کی مذمت کی ہے اور آسکرز ایوارڈ دینے والی تنظیم نے بھی انھیں نکال دیا ہے۔

تازہ ترین خبر پر عوامی ردعمل کیا ہے؟

وائن سٹائن پر الزام لگانے والے کچھ افراد نے ان پر فرد جرم عائد کیے جانے کی خبروں کا خیرمقدم کیا ہے۔

اداکارہ روز میکگوون نے لکھا کہ کچھ خواتین نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی کہ ان کا حساب ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’20 برس قبل میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس غلط کو صحیح کروں گی۔ آج ہم انصاف کے حصول کے ایک قدم قریب ہیں۔‘

اطالوی اداکارہ آسیا آرگینتو نے، جنھوں نے 1990 کی دہائی میں وائن سٹین پر جنسی حملے کا الزام لگایا تھا اپنے جذبات کا اظہار یک لفظی ٹویٹ میں کیا۔

وائن سٹائن کیس کے اثرات کہاں کہاں

جنسی ہراسانی کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی می ٹو مہم نے گذشتہ خزاں میں ہالی وڈ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اداکارہ الیسیا میلانو نے ٹوئٹر پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والوں سے کہا کہ وہ ‘می ٹو’ لکھ کر ان کی پوسٹ کا جواب دیں۔ انھیں 24 گھنٹوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ جوابات ملے۔

جنوری میں 300 سے زیادہ اداکاراؤں، مصنفوں اور ہدایت کاروں نے ‘اب وقت آ گیا ہے’ (Time’s Up) پروجیکٹ شروع کیا، جس نے صرف ایک ماہ میں دو کروڑ دس لاکھ ڈالر کا چندہ جمع کر لیا۔ اس کا مقصد جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والوں کو قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔

اس کے بعد ہر ہفتے نئے کیس سامنے آتے رہے ہیں۔ جمعرات کو اداکار مورگن فری مین نے بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد معافی مانگی۔

اس مہم کا اثر دنیا بھر میں ہوا ہے اور پاکستان اور انڈیا میں بھی کئی ادکارائیں سامنے آئی ہیں جنھوں نے جنسی استحصال کا ذکر کیا ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply