32

’گھیراؤ کر کے گھر بھیجنے کی روایت نہیں پڑنے دیں گے‘

Image caption

نواز شریف نے اپنی تقریر میں دھاندلی ثابت ہونے پر مستعفی ہونے کے معاملے پر بات نہیں کی

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مٹھی بھر افراد کی جانب سے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر کے حکومت یا وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی روایت نہیں پڑنے دی جائے گی۔

جمعے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آخری دن اپنے خطاب میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ حکومت نے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم کوئی غلط فہمی میں نہ رہے اور کوئی مارچ حکومت کو اس کے مشن سے نہیں ہٹا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی کھیل تماشہ، کوئی فتنہ فساد، کوئی لانگ مارچ، شارٹ مارچ ہمیں ہمارے مشن سے نہیں ہٹا سکتا، اگر کسی کے دل میں کوئی شک ہے تو وہ دور کر لے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت یہ سب اس لیے برداشت کر رہی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ فتنہ اور فساد پر آمادہ عناصر کو کوئی بہانہ ملے اور کسی کو بھی جمہوریت پر کلہاڑا چلانے نہیں دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ ہاؤس کسی فرد یا پارٹی یا گروہ کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کے وقار، جمہوریت کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کی علامت ہے۔ اور ان علامتوں کی توہین 18 کروڑ عوام کی توہین ہے۔‘

نواز شریف نے دھرنے میں شامل جماعتوں کے رویے پر ان الفاظ میں مایوسی کا اظہار کیا۔ ’ایک لمحے کے لیے بھی ایسا نہیں ہوا کہ مذاکرات کے لیے سازّگار ماحول کی خاطر اشتعال انگیزی کے بے بنیاد الزامات اور کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔‘

ایوان سے خطاب میں نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہ دستور پر بیٹھی ہوئی جماعتوں کا حقیقی ایجنڈا سمجھنے سے قاصر ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کہ حکومت نے پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے اور عوامی تحریک کے مطالبے پر ایف آئی آر کاٹ لی گئی۔

’میں نے اپنا اور شہباز شریف کا نام بھی ایف آئی آر میں آنے دیا لیکن دوسری طرف سے لچک کا کوئی مظاہرہ نہیں ہوا اور مذاکرات کا عمل بار بار ٹوٹتا رہا۔‘

نواز شریف نے انتخابی دھاندلی کے الزامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور حکومت کو یقین ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔

نواز شریف نے عمران خان سے چھ ماہ قبل بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ’خان صاحب نے انتخابی دھاندلی اور چار یا 10 حلقوں کے بارے میں ایک بات بھی نہیں کی، مجھے نہیں معلوم کہ ان چھ ماہ کے دوران دھاندلی کا یہ غبار کیسے اٹھا اور وہ آج اس نظام کو لپیٹ دینے کی خواہش لے کر شاہراہ دستور پر کیوں آ بیٹھے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد تحریکِ انصاف نے صرف 30 نشستوں پر دھاندلی کی شکایات درج کروائیں اور وہ اب کیوں پورے نظام لپیٹنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کا تو ذکر کیا تاہم دھاندلی ثابت ہونے پر مستعفیٰ ہونے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

خیال رہے کہ حکومت اور پارلیمان کے باہر دھرنا دینے والی جماعتوں کے درمیان مذاکرات بحال کروانے کے لیے کوشاں اپوزیشن کے سیاسی جرگے نے جمعرات کو تجویز دی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف پارلیمان میں دو ٹوک الفاظ میں بیان دیں کہ اگر گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی ثابت ہو جائے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو جائیں گے۔

جرگے نے ایسا بیان دینے کی صورت میں حکومت کے مخالفین سے اسے تسلیم کرنے اور دھرنا ختم کرنے کو بھی کہا تھا۔

اجلاس سے خطاب میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے شاہراہِ دستور پر بیٹھے افراد سے اپیل کی کہ وہ آئی ڈی پیز اور سیلاب زدگان کے لیے اپنی سیاست کو چھوڑ دیں اور ایوان میں آئیں۔

انھوں نے حکومت اور دھرنے میں شامل سیاسی جماعتوں کے درمیان مصالحت کے لیے کوشاں سیاسی جرگے کے نئے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’اب جرگہ کسی نمبر ٹو قیادت سے نہیں ملے گا، صرف ملے گا تو لیڈروں سے ملے گا، پھر انہیں اجازت ہے کہ ملک کر جو فائنل ڈرافٹ بنائیں گے اور حکومت کو پیش کریں گے۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply