9

گھوڑوں کے لیے خوشخبری! – BBC News اردو

Image caption

اتفاق سے کرناٹک میں ہی ایک غیر معمولی سیاسی ڈراما بھی چل رہا ہے۔ وہاں ابھی الیکشن ختم ہوا ہے اور کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت کسے بنانی چاہیے؟

انڈیا میں آج گھوڑے جشن منا رہے ہیں یا انھیں منانا چاہیے۔ اگلے 15 دنوں میں ان کے دن پھر سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ خوشی انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے گھوڑوں کو ہو گی۔ وہاں آج سے ان کی بولی لگنا شروع ہو جائے گی۔ دوسری ریاستوں کے گھوڑے سوچ رہے ہوں گے کہ اگر نرخ اچھا لگ گیا تو آگے چل کر انھیں بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ہر گھوڑے کی ایک قیمت ہوتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر گھوڑا بکاؤ ہو۔ ویسے تو گھوڑے اپنی وفاداری کے لیے مشہور ہوتے ہیں لیکن انسانوں کی طرح ان کی بھی مجبوریاں ہوتی ہی ہوں گی۔

ہو سکتا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن وقت پر داخل نہ کیا ہو، یا سڑک پر تانگا کھینچتے وقت سرخ بتی پار کر لی ہو، یا اگر ان کا کوئی نجی کاروبار ہو تو بینکوں سے قرض لیا ہو لیکن واپس نہ کیا ہو، جیسے مشہور بزنس مین وجے مالیا نے کیا تھا یا جیسا اکثر ہوتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں اثاثے آمدنی سے زیادہ جمع ہو گئے ہوں اور سرکاری محکمے یہ پوچھ رہے ہوں کہ یہ سب خریدنے کے لیے ییسہ کہاں سے آیا تھا؟

یہ بھی پڑھیے

کرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی

بی جے پی کی کرناٹک میں برتری

کانگریس کو کہاں ڈھونڈیں؟

’کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر‘

اب انھیں کون بتائے کہ ریکارڈ رکھنے پر وقت ضائع کرنا ہوتا تو پھر کہیں کلرکی ہی کر رہے ہوتے، اثاثے جمع کرنے کے لیے جی توڑ محنت کرنا پڑتی ہے اور بس سر جھکا کر بھاگنا پڑتا ہے، ادھر ادھر دیکھا تو گئے کام سے۔

یا پھر گھوڑے ایماندار تو ہوں لیکن خود پر یہ بھروسہ نہ ہو کہ زندگی کی دوڑ میں وہ زیادہ آگے جا پائیں گے، ہو سکتا کہ ذہن میں یہ خیال ہو کہ بڑی ریس میں دوڑنے کا موقع دوبارہ ملے نہ ملے تو کیوں نہ اسی موقعے سے فائدہ اٹھا لیا جائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP/GETTY IMAGES

Image caption

انڈیا میں بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے پر جمہوریت کو قتل کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں

کچھ خریدار بازار میں ہیں، انھیں ایسے گھوڑوں کی تلاش ہے جو باڑ کود کر دوسرے دستوں میں شامل ہو سکتے ہوں۔

گھوڑوں کے نگراں فی الحال مضبوطی سے لگام پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ وہ بھی اپنے گھوڑوں کو سبز باغ دکھا رہے ہوں گے اور سنا ہے کہ گھوڑے چونکہ گھاس کھاتے ہیں اس لیے انھیں سبز باغ بہت پسند ہوتے ہیں۔

آپ نے سنا ہی ہو گا کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے گا تو کھائے گا کیا؟

اتفاق سے کرناٹک میں ہی ایک غیر معمولی سیاسی ڈراما بھی چل رہا ہے۔ وہاں ابھی الیکشن ختم ہوا ہے اور کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت کسے بنانی چاہیے۔ اس پارٹی کو جسے سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں یا اس کے علاوہ باقی سب کو جو اب متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر آ گئے ہیں؟

باقی سب کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد زیادہ ہے لیکن ریاست کے گورنر نے سب سے بڑی پارٹی کے رہنما کو حکومت سونپ دی ہے۔ تعداد کا کیا ہے یہ تو بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔

ہم تو گھوڑوں کو بے کار ہی بدنام کرتے رہے، سنا ہے کہ ’ہارس ٹریڈنگ‘ میں گھوڑوں کی خرید و فروخت نہیں ہوتی۔

انڈیا میں بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے پر جمہوریت کا قتل کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ریاستی اسمبلی میں اب کیا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن کئی دلچسپ تجاویز گردش کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر ریاست میں آپ کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لیے اراکین کم پڑ رہے ہوں تو دوسری ریاستوں کے اراکین اسمبلی کی مدد حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

آخر مشکل وقت میں اپنے ہی کام آتے ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply