گردوں کے کاروبار کا مقدمہ، گواہان کی تلاش 96

گردوں کے کاروبار کا مقدمہ، گواہان کی تلاش

گردوں کے کاروبار کا مقدمہ، گواہان کی تلاش

شیخو پورہ کے رہائشی سعدی احمد پرامید ہیں کے جمعرات کو راولپنڈی کی سیشن کورٹ میں ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور کڈنی سینٹر کیس میں انہیں جلد انصاف ملے گا۔

سعدی احمد چوتھی بار اس مقدمے میں جج رضوان شیخ کی عدالت میں پیش ہوں گے جو اس مقدمے کو نہایت اہم اور بڑا کیس قرار دیتے ہیں۔

اکتوبر سنہ 2016 میں ملک کے سینئیر سرجن کرنل ریٹائرڈ مختار احمد اور ان کے بیٹوں کے خلاف گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا یہ کیس درج ہوا تھا۔ ڈاکٹر مختار اور ان کے دونوں بیٹے ڈاکٹر توصیف اور ڈاکٹر زاہد ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔

ہسپتال کی تختی کی تبدیلی

اکتوبر سنہ 2016 سے آج سنہ 2018 کی ابتدا تک تبدیلی صرف ایک ہوئی ہے اور وہ ہے ‘دا کڈنی سینٹر’ کی تختی کی تبدیلی ہے۔ وہاں اب السید ہاسپٹل کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔

کیا یہ اتنا آسان ہے کہ کینٹ گیریژن میں بر لبِ سڑک برس ہا برس سے ایسا کام جاری رکھا جائے یعنی دن دہاڑے مغویوں کو لایا جائےاور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔

اس ہسپتال کےبھاری بھرکم گیٹ کو کراس کرنے کے لیے شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کا نام بتانا بھی ضروری ہے۔ اور جب آپ اندر چلے جائیں تو اندر اطلاع پہلے ہی پہنچ جاتی ہے اور پھر آپ کی نقل و حرکت وہاں موجود مانیٹرنگ کیمروں سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔

اسی مقدمے میں چند ماہ قبل ضمانت پر رہائی پانے والے ڈاکٹر توصیف نے بی بی سی کو ہسپتال کا وزٹ کروانے سے معذرت کر لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پر عائد تمام مقدمے جھوٹے ہیں مخالفین نے حسد کی وجہ سے الزام لگائے۔ اور یقین ہے کہ جلد ختم ہو جائیں گے۔ میرے والد سینیئر سرجن ہیں انھوں نے ملک کی خدمت کی لیکن انہیں یہ صلہ دیا گیا۔’

‘منحرف اور غائب گواہ’

اس کیس میں گواہوں کے پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے بیانات کے بعد ایک بار پھر دفعہ 164 کے تحت بیانات لیے جا رہے ہیں۔ تاہم عدالت میں ہر پیشی پر اب تک چار سے پانچ گواہ ہی دیکھنے کو ملے۔

تھانہ روات کی حدود میں درج ہونے والے اس کیس کے متعلقہ پولیس حکام نے عدالت کو تحریری بیان میں بتایا ہے کہ وہ 21 گواہوں کو دوبارہ پیش کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ مبینہ طور پر ان کے رہائشی پتوں کی تبدیلی ہے۔

اس کیس کے سابق پراسیکیوٹر ارشاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘گواہ بیان سے منحرف ہو گئے تھے جس کا فائدہ ملزمان کو ہوا’ پھر یہ کیس دوسری عدالت میں منتقل ہو گیا تھا’ کِچھ گواہ پیش ہی نہیں ہوئے۔ میں نے عدالت میں جرح کے دوران یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان غریب لوگوں کو پیسے کے لالچ میں بیان بدلوایا۔’

زوار حسین
Image captionخانیوال کے زوار حسین جو پانچ مہینے تک قید میں رہے، کے مطابق ان کا گردہ نکالے جانے سے دو دن قبل پولیس نے چھاپہ مارا

ظفر اقبال ان منحرف گواہوں میں شامل ہیں جو عدالت کے باہر تو انٹرویوز میں تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا گردہ ان کے اغوا کے بعد بیماری کے دوران ان کی لاعلمی میں نکالا گیا۔ لیکن پولیس فائل میں موجود ان کے بیان کے مطابق ایس ایچ او روات ان سے زبردستی بیان لینا چاہتے ہیں اور انھیں دھمکیاں دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں پیسے دینے کا کہا گیا تھا لیکن نہ وہ ملے اور نہ ہی اب ہمیں دوبارہ بیان کے لیے بلایا گیا ہے۔’

ارشاد احمد کے ساتھ ابتدا میں تین وکلا کی ٹیم تھی جو اب نئی عدالت میں فقط ایک وکیل تک محدود ہو چکی ہے۔

غلطی کہاں ہوئی؟

موجودہ پراسیکیوٹر عقیل اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اصل چیز گواہوں کے بیانات ہیں جو منحرف ہو چکے ہیں’ باقی جتنے بھی شواہد ہیں وہ سپورٹنگ شواہد ہیں صرف ان کی بنا پر سزا یا جزا نہیں مل سکتی۔ لیکن اس وقت مسئلہ تمام گواہوں کے پیش نہ ہو نے کا ہے۔’

‘ملزمان کی ضمانت تکنیکی بنیادوں پر ہوئی ہے۔ انسانی اعضا کی پیوند کاری سے متعلق 2010 کا ایکٹ لگتا ہی نہیں ہے اگر لگاتے ہیں تو پہلے ہیلتھ کیئر کمیشن کو درخواست دینا ہوتی ہے جس پر مانیٹرنگ کمیٹی بنتی ہے جو دیکھے گی کہ کیا ہسپتال میں کچھ غلط کام ہوا ہے پھر اگر وہ سمجھے گی تو اپنی تجاویز دے گی اور کارروائی ہو گی۔’

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے باوجود ایک سوال اب بھی قائم ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کڈنی سینٹر کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کیا اور اس کے بجائے اس کے لائسنس کے تجدید کیوں کی گئی کیس کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا۔

اس مقدمے میں گواہوں کے وکیل یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ 164 کے تحت بیان اور جرح ہو چکی ہے ایسے میں دوبارہ سے گواہوں کو بیانات کے لیے بلوانا دراصل بیانات کو بدلوانے کی کوشش ہے۔ شاید پولیس بھی جان بوجھ کر لوگوں کے ایڈریس ہونے کے باوجود انھیں پیش نہیں کر رہی۔ جو گواہ ابتدا سے آ رہے ہیں وہ خود آ رہے ہیں۔’

اس کارروائی کے بعد ایس ایچ آؤ جاوید اقبال کو معطل کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ سماعت پر عدالت نے کہا تھا کہ جو گواہان آئیں گے ان کے بیان اور جرح یکم فروری کو ہی ہو جائے گی تاہم تھانہ روات کے ایس ایچ او مصطفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ‘تمام گواہوں کے شناختی کارڈ نادرا کو بھجوا دیے ہیں تاکہ ان کے فیملی ٹری کا پتہ چلے، ہم عدالت سے کہیں گے کہ اس کے لیے مزید وقت دیا جائے کیونکہ بہت سے گواہ ان پتوں پر موجود نہیں۔’

سعدی احمد
Image captionسعدی احمد جن کا کہنا ہے کہ جب انھیں نوکری کا جھانسہ دے کر ایک ایجنٹ راولپنڈی لے کر آیا تو اس سے پہلے لاہور میں ان سے کہا گیا کہ پولیس آپ کو تنگ نہ کرے اس کے لیے بیان دیں کہ ہم اپنی مرضی سے گردہ دیں گے لیکن بعد میں راولپنڈی پہنچنے پر انھیں معلوم ہوا کہ نوکری نہیں لیکن گردہ دینے کے بدلے تین لاکھ ملیں گے

ضابطے کے تحت کارروائی نہ کرنے والے سابق ایس ایچ او جاوید اقبال کہتے ہیں کہ ’مجھ پر اس کیس کی وجہ سی بہت دباؤ ہے لیکن میں اپنا بیان نہیں بدلوں گا۔ مجھے اگر تحفظ دیا جائے تو میں بہت کچھ بتا سکتا ہوں۔ جن افراد کے پہلے گردے نکل چکے تھے انھوں نے کیسز کیے لیکن انھیں ابتدا میں ہی خارج کر دیا جاتا تھا۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں کیس بہت مضبوط ہے۔’

ہیلتھ کئیر کمیشن اور اعضا کی پیوند کاری سے متعلق ادارے سے اس حوالے سے رابطہ کر کے متعلقہ حکام کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔

سعدی اور ان جیسے دیگر افراد کے اہلخانہ کا موقف ہے کہ انھیں ‘اس مقدمے میں تمام عرصےمیں کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی بس ہر کچھ دن بعد راولپنڈی کا چکر لگتا ہے دیہاڑی پر نہیں جا سکتے الٹا گھر کے خرچ سے پیسے نکالنے پڑتے ہیں۔’

ڈاکٹر مختار شاہ کون ہیں؟

چکوال سے تعلق رکھنے والے مختار شاہ سنہ1963 میں ڈاکٹر بنے۔ ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں نوکری کے علاوہ وہ پاکستان آرمی میں بھی رہے اور انھوں نے لندن کے یورولوجی انسٹیٹیوٹ سے بھی تربیت لی۔

سنہ 1986 میں ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی میں السید ہسپتال کی بنیاد رکھی جس کی پیشانی پر’دا کڈنی سینٹر’ کا بورڈ لگا جو اب ہٹ چکا ہے۔وہ پاکستان میں گردوں کے امراض کے علاج کے سلسلے میں ڈائلیسز، آپریشن و پیوند کاری کرنے والے پہلے پہلے سرجنز میں شامل ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ (1462) آپریشنز کرنے والے سرجن کا اعزاز رکھتے ہیں۔

30 سال سے زیادہ عرصے سے نجی سطح پر کام کرنے والے ڈاکٹر مختار کے دو بیٹے ڈاکٹر توصیف اور ڈاکٹر زاہد اب پریکٹس کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکی محکمہ خزانہ نے ان کا نام اپنی واچ لسٹ میں ڈالا۔ اس فہرست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور کرپشن میں ملوث افراد شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply