47

کیمرون کو ’طب کے تاریک دور‘ کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ہمیں عالمی سطح پر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے خبردار کیا ہے کہ اگر اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے اثر ہونے کے خطرے کا تدارک نہ کیا گیا تو دنیا جلد ہی’طب کے تاریک دور میں واپس چلی جائے گی۔‘

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم اب اس معاملے میں کچھ نہیں کرتے تو ہمیں ایسے حالات کا سامنا ہو سکتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے، ہم ایک ایسے دور میں واپس جا سکتے ہیں جہاں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت اتنی بڑھ سکتی ہے کہ لوگ قابل علاج انفیکشن اور زخموں کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ انھوں ایک جائزے کی منظوری بھی دی ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں متعارف کرائی جانے والی جراثیم کش ادویات کی تعداد اس قدر کم کیوں رہی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ انھوں نےگذشتہ ماہ جی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقعے اس مسئلے پر دوسرے رہنماؤں سے بھی بات کی تھی جن میں سے امریکی صدر براک اوباما اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے انھیں مدد کا یقین دلایا۔

امید ہے کہ ماہرین کے نئے جائزے کی رپورٹ اگلے برس تک تیار ہو جائے گی اور اسے جی سیون کے آئندہ برس اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ برطانیہ اینٹی بایوٹکس کے سلسلے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اگر کوئی حل نہ نکالا گیا تو ہمیں عالمی سطح پر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے مجوزہ جائزے میں ماہرین تین اہم پہلوؤں پر تحقیق کریں گے:

  • بیکٹیریا کی ایسی اقسام میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے جن پر اینٹی بایوٹکس بے اثر ہوتی جا رہی ہیں
  • گذشتہ 25 سال کے دوران اینٹی بایوٹکس کی نئی اقسام مارکیٹ میں کیوں نہیں آئیں
  • عالمی سطح پر اینٹی بایوٹکس کے استعمال میں اتنا اضافہ کیوں ہو گیا ہے

ایک اندازے کے مطابق ہر سال برطانیہ میں پانچ ہزار اور یورپ بھر میں 25 ہزار اموات ایسے بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہیں جن پر اینٹی بایوٹکس نے اثر کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اینٹی بایوٹکس کی ایجاد طب کی دنیا کی ایک کامیاب کہانی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں جس سے اینٹی بائیوٹک دوا بے اثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اگر اینٹی بایوٹکس نہ ہوں تو دنیا میں کئی آپریشن کرنا بہت مشکل ہو جائیں جن میں کولہے کی ہڈی کا آپریشن، اعضا کی تبدیلی اور کیمو تھراپی شامل ہیں۔

اینٹی بایوٹکس کی ایجاد سے پہلے کئی خواتین بچے کی پیدائش کے بعد چھوٹے موٹے انفیکشن ہو جانے سے مر جاتی تھیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply