13

کٹھوعہ ریپ کیس چندی گڑھ منتقل کرنے کی درخواست

مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ
PRESS TRUST OF INDIA

انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے علاقے کٹھوعہ میں رواں برس جنوری میں ریپ اور قتل کی جانے والی آٹھ سالہ بچی کے والد نے مقدمہ کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی درخواست دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف نے اس کیس کو جموں و کشمیر سے باہر چندی گڑھ کی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے اور سپریم کورٹ اس درخواست پر پیر کو ہی دوپہر بعد سماعت کرے گی۔

پیر کو ہی سخت سکیورٹی میں اس مقدمے کے آٹھ ملزمان کو کٹھوعہ کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج اے ایس لانگے نے کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کشمیر ریپ: ‘اسے ہم اپنے قبرستان میں دفن بھی نہ کر سکے’

٭ آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

٭ انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

٭ کشمیر: لڑکی کے قتل کیس میں نیا موڑ

بچی کے والد کی درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ کیس کو چندی گڑھ منتقل کرنے کے علاوہ بچی کے والدین، وکیل دیپیکا اور سماجی کارکن طالب حسین کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔

جموں میں تین ماہ قبل ایک کم سن لڑکی کا جنسی زیادتی کے بعد قتل اب ایک ملک گیر معاملہ بن گیا ہے۔

واضح رہے کرائم برانچ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آٹھ سالہ لڑکی کو مندر میں یرغمال بنایا گیا اور جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا تھا۔

ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانہ کے قبائلی گجر (بکروال) خاندان سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کی لاش جنوری میں ملی تو کشمیر اور جموں کے درمیان علاقائی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی مخلوط حکومت کی اکائیوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

Image caption

ہندو تنظیمیں کٹھوعہ میں ملزمان کے حق میں ہیں اور معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کا مطالبہ کر رہی ہیں

ہندو گروہوں نے ملزمان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا جبکہ مسلم حلقوں نے انصاف کی دہائی دی۔

گذشتہ ہفتے جب کرائم برانچ نے کٹھوعہ کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنی چاہی تو بی جے پی کی حامی جموں بار ایسوسی ایشن نے عدالت میں ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے چارج شیٹ چھ گھنٹے بعد جج کے گھر میں داخل کی گئی۔

تاہم بعد میں عالمی سطح پر اور ہندوستان بھر میں اس کیس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ فلمی اداکاروں، رضاکاروں اور عالمی میڈیا نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔

سپریم کورٹ نے بھی قانونی عمل میں رخنہ ڈالنے کے لیے وکلا کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اب بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ بھی اس کیس میں انصاف کے متمنی ہیں تاہم بار ایسویشن نے ملزمان کے حق میں جموں میں ہڑتال کی اپیل کی تھی جسے تاجر برادری نے مسترد کردیا۔

ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ نے گذشتہ ماہ جو ریلی منعقد کی تھی اس میں شمولیت کے لیے بی جے پی نے مخلوط حکومت کے دو وزرا کو کابینہ سے ہٹادیا ہے۔

وزیراعلی نے اس سلسلے میں فاسٹ ٹریک کورٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تین ماہ کے اندر اندر ملزمان کو سزا دی جائے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply