12

کشمیر میں تصادم جاری، ایک فوجی اور ایک شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے کولگام ضلع میں جاری مسلح تصادم کے دوران مظاہرین پر فائرنگ سے ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ تصادم میں فوجی بھی مارا گیا۔

کشمیر کے کولگام ضلع میں بدھ کی رات شروع ہوئے مسلح تصادم کے دوران ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم تین مسلح شدت پسند ایک مکان میں محصور تھے تاہم رات بھر تصادم جاری رہنے کے بعد مکان کو بدھ کی صبح بارود سے اُڑا دیا گیا۔

بدھ کی صبح ہی کولگام کے کھوڑوانی علاقے میں سینکڑوں لوگوں نے محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے مظاہرہ کیا تو فورسز نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں سے شرجیل نام کا 28 سالہ نوجوان مارا گیا۔ فوج اور پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم اب بھی جاری ہے، جبکہ کولگام اور ملحقہ اضلاع میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انڈین مسلم کشمیر کی تحریک میں کیوں؟

سرینگر: پولیس کیمپ پر حملہ ایک اہلکار ہلاک

کشمیر میں 20 ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

ابھی تک کسی شدت پسند کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مکان کو اُڑا دیا گیا تاہم کسی کی لاش برآمد نہیں ہوئی۔

حکام نے مظاہروں کے خدشے سے تعلیمی اداروں میں پھر چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے یکم اپریل کو شوپیاں اور اننت ناگ میں تین الگ الگ تصادموں میں 13 شدت پسند اور تین فوجی مارے گئے جبکہ تصادم کی جگہ مظاہرین پر فائرنگ سے چار شہری ہلاک ہو گئے۔

تب سے ہی کشمیر میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی ہے اور 11 روز میں صرف ایک دن تعلیمی ادارے کھولے گئے لیکن اُس روز طلبہ و طالبات نے ہلاکتوں کے خلاف شدید مظاہرے کیے۔

کشمیر میں فوج نے گذشتہ ایک برس سے آپریشن آل آوٹ شروع کیا ہے، جس کے دوران اب تک اڑھائی سو شدت پسند مارے گئے۔ لیکن تصادم کے واقعات کے ردعمل میں مظاہرے ہوئے اور مظاہرین پر فائرنگ سے بھی درجنوں افراد مارے گئے۔

موجودہ حالات کے بارے میں وزیراعظم نریندر مودی کو بریف کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ان سے اپیل کی تھی کہ کشمیر کے اندر اور سرحدوں پر امن قائم کرنے کے لیے پاکستان اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

تاہم فوجی جنرلوں اور نیم فوجی افسروں نے کئی مرتبہ یہ بیان دہرایا ہے کہ مسلح افراد اور پتھراؤ کرنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

ان تصادموں میں اکثر شہری ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں اور حکام مظاہروں کے خدشے سے انٹرنیٹ معطل اور تعلیمی ادارے بند کر دیتے ہیں۔

2016میں حزب المجاہدین کے مقبول کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں مظاہروں اور عسکریت پسندی کی نئی لہر چل پڑی ہے جس کے باعث ہر طرف خوف و دہشت کا عالم ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply