13

کشمیر: لاپتہ انڈین فوجی کا ’حزب المجاہدین‘ میں شمولیت کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر فوج میں بھرتی ہونے والے 22 سالہ ادریس میر کے بارے میں پولیس کو شبہ ہے کہ وہ حکومت مخالف مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے ہیں۔

ادریس کئی ماہ پہلے شمالی کشمیر میں اپنے کیمپ سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ ادریس کا تعلق ضلع شوپیان سے ہے اور وہ صاف نگری گاؤں کے رہائشی ہیں۔

شوپیان میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران درجنوں مسلح شدت پسند اور شہری متعدد فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے جس کے بعد پوری وادی میں حالات کشیدہ ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیرمیں تصادم جاری، ایک فوجی اور تین شہری ہلاک

انڈین مسلم کشمیر کی تحریک میں کیوں؟

کشمیر میں 20 ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

امریکہ نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

واضح رہے سوشل میڈیا پر ادریس کی مسلح تصویر کے ساتھ جزبِ المجاہدین میں ان کی شمولیت کی تاریخ 15 اپریل لکھی گئی ہے اور ان کا نیا نام ’حمزہ حزبی‘ ہے۔

کشمیر میں تعینات انڈین فوج کی 15 ویں کور سے وابستہ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے بتایا ’ہمارے لیے یہ معاملہ ابھی تک ڈیوٹی سے بغیر اجازت غیر حاضری کا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ ادریس نے کسی دہشت گرد گروہ میں شامل ہو گئے ہیں۔‘

تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ادریس کا تبادلہ کشمیر سے جھارکھنڈ کیا گیا تھا جس پر وہ مطمئن نہیں تھے۔

انڈیا کے فوجی حکام اس واقعہ کو زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے ہیں۔ ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ تین سالوں میں کم از کم ایک ہزار کشمیری نوجوان فوج میں بھرتی ہوئے۔ ’اگر یہ سچ بھی ہوا تو یہ محض ایک واقعہ ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا موجودہ حالات میں کشمیری فوجیوں میں حکومت مخالف جذبات تو نہیں پیدا ہو رہے ہیں؟ مذکورہ افسر نے بتایا: آپ کا خیال درست نہیں ہے، انڈین آرمی دنیا کی باقاعدہ اور باضابطہ فورسز میں سے ایک ہے۔‘

حزب المجاہدین نے ابھی تک ادریس میر کی گروپ میں شمولیت کی تصدیق نہیں کی ہے، تاہم ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر جس انداز سے ادریس میر کی تصویر اور تفصیل موجود تھی، حزب المجاہدین میں شامل ہونے نوجوانوں کی تصاویر اور تفصیلات بھی اسی انداز سے سامنے آئی تھیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply