11

کشمیر ریپ: ‘اسے ہم اپنے قبرستان میں دفن بھی نہ کر سکے’

بچی کی والدہ

Image caption

بکروال قبیلے سے تعلق رکھنے والی بچی کی والدہ سراپا سوال بنی ہوئی ہیں

اولاد کے لیے ایک ماں کے سینکڑوں سوالات ہوتے ہیں لیکن اس ماں کے ذہن میں کیسے کیسے سوال ابھر رہے ہوں گے جس کی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا ہو؟

اس ماں کے کتنے سوالات ہوں گے جس کی بچی کے ساتھ ہونے والے جرم نے مذہبی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہو؟

‘ہماری بچی۔۔۔ اس نے کسی کا کیا کھویا؟ کیا گم کیا؟ کیا چوری کی تھی؟ انھوں نے اسے کیوں مارا؟

‘اسے اس طرف دور لے گئے۔ پتہ نہیں گاڑی میں لے گئے یا کیسے لے گئے۔ کس طرح مارا، کچھ پتہ نہیں۔

‘پتہ نہیں اس کی جان کیسے لی؟’

اس کے سوال ہیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک قطار باندھے چلے آ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماں کا درد پھوٹ نکلا ہو۔

Image caption

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی تین بیٹیاں تھیں اب دو ہی رہ گئی ہیں

جموں کے ادھم پور کے دودھر نالا کی پہاڑیوں پر جب ان کے سوالوں کی جھڑیاں لگیں تھیں اسی وقت میرے ذہن میں آٹھ سال کی اس معصوم کی شکل ابھر رہی تھی جو کہ اجتماعی ریپ کا شکار ہوئی تھی۔

بالکل ماں جیسی شکل، ویسی چمکتی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں اور گورا چٹا رنگ۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

٭ کشمیر: لڑکی کے قتل کیس میں نیا موڑ

٭ ’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

پھر میرا ذہن لوٹ آیا۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ ‘بہت خوبصورت اور ہوشیار تھی میری بیٹی، جنگل میں جا کر واپس آ جاتی تھی۔

‘لیکن اس دن وہ لوٹ کر نہیں آئی اور پھر ہمیں اس کی لاش ملی۔’

Image caption

یہ خانہ بدوش قبیلہ مویشیوں پر انحصار کرتا ہے

وہیں آس پاس بھیڑیں، بکریاں اور گائیں تھیں۔ بکروالی کتے رات کی ٹھنڈک کے بعد زنجیروں میں بندھے پڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ گھوڑے اپنے بچوں کے ساتھ چارا کھانے میں مشغول تھے۔

اس بچی کو بھی گھوڑوں کا بہت شوق تھا۔ اس کی بہن نے بتایا کہ اسے کھیلنے کا بہت شوق تھا اور وہ بہت اچھی طرح گھڑسواری کر سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

٭ ’قبرستان کی ضرورت نہیں، سب کو جلانا چاہیے‘

٭ انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

اس دن وہ گھوڑے لے کر ہی کٹھوعہ کے جنگل میں گئی تھی جب اسے اغوا کر لیا گيا اور سات دنوں تک اجتما‏عی ریپ کے بعد لاش کو جنگل میں پھینک دیا گيا۔

غمزدہ ماں بتاتی ہیں: ‘پہلے میری تین بیٹیاں تھیں۔ اب دو ہی رہ گئی ہیں۔’

اپنی اس بیٹی کو انھوں نے اپنے بھائی کو گود دیا تھا کیونکہ بھائی کی بیٹی کی ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔

حادثے کے وقت بچی کے اصل ماں بات سانبا میں ڈیرہ ڈالے ہوئے اور ان کی بچی اپنے ماموں کے ساتھ کٹھوعہ کے اس گاؤں میں رہ رہی تھی۔

سات دنوں کے بعد بھی لاش کا حاصل کرنا بہت آسان کام نہیں تھا۔

بچی کے والد نے وضاحت کی: ‘پولیس والے یہ کہنے لگے کہ آپ ہی کی بکروال برادری میں سے کسی نے اسے مار ڈالا ہو گا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گاؤں والے تو ایسا برا کام نہیں کر سکتے۔’

بچی کی ماں نے کہا: ‘اپنی موت مر جاتی تو صبر کر لیتے۔ سمجھتے کہ مر گئی۔ دنیا مرتی ہے سو وہ بھی مر گئی۔’

Image caption

بچی کے والد کے ساتھ ہمارے نمائندے فیصل محمد علی

جبکہ بچی کے والد نے کہا: ‘ہم اپنی بیٹی کو اپنے قبرستان میں دفن بھی نہیں کر سکے۔ اسے ہمیں رات میں ہی دوسرے گاؤں لے جانا پڑا۔’



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply