82

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘

سوشلستان میں کرکٹ کے ماتم کا وقت ہوا چاہتا ہے کیونکہ پانچ میچز کی سیریز ہارنے کے بعد کرکٹ تجزیہ کار (جو کہ اپنی دانست میں ہر ایک ہے) اس پر رائے دینے سے کیسے رُک سکیں گے۔ مگر ہم کراچی میں ہونے والے ایک نوجوان کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے بارے میں سوشل میڈیا پر آنے والی رائے اور کمنٹس کا جائزہ لیں گے جن میں عوام اور کراچی کے لوگ ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے واقعات پر لکھ رہے ہیں۔

‘ماورائے عدالت قتل کی کوئی بھی توجیح نہیں‘

سندھ پولیس کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کو عثمان خاصخیلی گوٹھ میں مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور ان کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا جس پر سوشلستان ہی نہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی شدید احتجاج ہو رہا ہے۔

کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا اور ‘پولیس کی جانب سے ماورائے قانون اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے واقعات’ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کی کہ ‘پنجاب پولیس کے ظالمانہ ‘مقابلوں’ کے بارے میں معلومات سب کے سامنے ہیں۔ سندھ کی بہت زیادہ سیاست زدہ پولیس بھی کچھ کم نہیں۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے ایک لڑکے نقیب اللہ محسود کو کراچی میں پولیس نے اٹھایا اور اسے ایک ‘مقابلے’ میں مار دیا گیا۔ شدید مذمت۔’

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری نے لکھا ”ماورائے عدالت قتل’ کی کوئی بھی توجیہہ نہیں، بے شک وہ پشتون، بلوچ یا مہاجر کا ہو۔ اس کی توجیہہ پیش کرنا اور اسے قبول کیا جانا گھناؤنا فعل ہے اور اس پر معاشرے کی خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔ ہر جگہ ماورائے عدالت قتل کا خاتمہ ہونا چاہیے اور جو ذمہ داران ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔’

جماعت اسلامی کراچی نے ٹویٹ کیا کہ ‘کراچی کے مخصوص تھانے میں قتل کے ایسے مستقل واقعات اہلِ کراچی میں بے چینی و اضطراب کا باعث ہیں، نقیب محسود کا قتل بھی پہلا کیس نہیں بلکہ ماضی کا تسلسل ہے۔’

ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے جاری کیا گیا ایک بیان جو سوشل میڈیا میں شیئر کیا جا رہا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ ‘انٹیلیجنس کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق نقیب اللہ کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے۔’

عبدالقادر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘پاکستان میں کسی کا بھی یہ کہہ کر قتل کرنا آسان ہے کہ ‘وہ دہشت گرد ہے۔’

علی اسد کملانہ نے سوال کیا کہ ‘چلیں مان لیا کہ وہ ممنوعہ ٹی ٹی پی سے منسلک تھا جیسا کہ قانون کے محافظوں کا مبینہ طور پر کہنا ہے مگر انہیں ان کا موقف بیان کرنے کا موقع دیے بغیر اور منصفانہ ٹرائل کا موقع دیے بغیر قتل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔’

اسماعیل بابک نے لکھا کہ ‘اگر واقعی نقیب محسود بڑا دہشتگرد تھا تو وزیرستان سے کراچی کس طرح پہنچ گیا پھر سیکورٹی ادارے بنائے کس کام کے لیے ہیں؟’

اس کے ساتھ نقیب اللہ کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے وطن کارڈ کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس کے بارے میں جبران ناصر نے لکھا ‘دیکھیے وطن کارڈ جسے مقامی طور پر ‘وزیرستان ویزا’ کہا جاتا ہے جو نقیب محسود کو جاری کیا گیا۔ اسے حاصل کرنے کے لیے طویل کاغذی کارروائی، بائیومیٹرک تفصیلات جیسا کہ فنگر پرنٹس اور تفصیلی بیک گراؤنڈ چیکس کروانے پڑتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب راؤ انوار کا دعویٰ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔’

نظام الدین خان نے لکھا کہ ‘وطن کارڈ پاکستانی فوج کی جانب سے نقیب کو جاری کیا گیا۔ اب یہ راؤ انوار بمقابلہ پاکستانی فوج کی تصدیق کرنے والی ٹیم ہے۔ جو طالبان کمانڈروں کو وطن کارڈ نہیں فراہم کرتے۔ ان کا تصدیق کا نظام نادرا کے شناختی کارڈ کے نظام سے بھی زیادہ سخت ہے جو جنوبی وزیرستان میں داخلے کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتے۔`

یاد رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی انور علی ارقم نے ٹوئٹر پر ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کے ثبوت کے ساتھ جوابات لکھے ہیں۔

اس قتل کے بعد کراچی میں رہنے والی پشتون آبادی کے تحفظات اور خدشات قومی سطح پر سامنے آئے جس کے نتیجے میں سیاستدانوں خصوصاً پشتونوں کا ووٹ لینے والے سیاستدانوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اکثر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہی سید کہاں غائب ہیں؟

جاوید عزیز خان نے دوسری جانب یہ لکھا کہ ‘ایک پشتون کو جنگجو یا مشتبہ قرار دینا ملک بھر کے سکیورٹی والوں کے لیے بہت آسان ہے ۔ رہنما اور عوام کو مشتبہ قرار دے کر پشتونوں کی توہین کیے جانے کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔’

جبران پیش امام نے اسی حوالے سے مزید لکھا کہ ‘ایسے پشتون خاندان جو کراچی بہتر اور محفوظ زندگی گزرانے کے لیے آئے ان سے پولیس کا بھتہ وصول کرنے کی داستانیں گذشتہ چند سالوں سے عام ہیں۔ پیسے دو ورنہ تم طالبان ہو۔ ایک افسر اس معاملے میں بہت ہی بدنام ہیں۔ نقیب محسود کا کیس انصاف کا طالب ہے۔ ان کے لیے اور ان سے پہلے والوں کے لیے۔’

مگر سب سوالوں سے بڑا سوال کسی نے لکھا کہ ‘ایک ایسے ملک میں جہاں طالبان کے ترجمان جس نے ہزاروں افراد کی زندگیاں ختم کرنے کا جرم تسلیم کیا ہو فوجی انتظام میں رکھا جائے اور ٹی وی اس کے خصوصی انٹرویو نشر کریں ایک معصوم کا قتل طالبان کے شبے میں کر دیا جاتا ہے۔ کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply