24

ڈاکٹر شکیل اوج قتل کیس میں ایک شخص گرفتار

Image caption

گذشتہ جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈاکٹر محمد شکیل اوج ہلاک ہو گئے تھے

کراچی میں جامعہ کراچی کے ڈین فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے قتل میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ نے منگل کو بھی اپنا احتجاج جاری رکھا۔

ایس پی گلشن اقبال عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد شکیل نے محمد سمیع کے خلاف کچھ عرصہ قبل ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں سے بعد میں وہ بری بھی ہوگئے تھے لیکن اب انھیں دوبارہ شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد شکیل نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے محمد سمیع سمیت کچھ لوگوں کی نشاندھی کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ان کی جان کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ لوگ ذمے دار ہوں گے۔

ایس پی گلشن عابد قائم خانی کے مطابق دوران تفتیش ڈاکٹر شکیل کے خلاف فتویٰ اور موبائل پر بھیجے گئے پیغامات پر بھی غور کیا گیا ہے، اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پروفیسر عبدالرشید نے جن کو ڈاکٹریٹ کی تھیسز دیں تھیں ان پر ڈاکٹر شکیل نے اعتراضات کیے تھے، اب یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جنھیں یہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئیں تھی۔

پولیس کے مطابق تحقیقات کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر شکیل کی ہلاکت کے بعد کس کو ملازمت میں فائدہ ہو سکتا تھا۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کے اساتذہ نے منگل کو بھی احتجاج جاری رکھا لیکن بدھ سے تدریسی عمل بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ٹیچرز کی تنظیم کے صدر جمیل کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پولیس جو تحقیقات کر رہی ہے اس کا رخ صرف ٹیچرز کی جانب نہیں ہوگا دیگر زاویوں سے بھی تحقیقات کی جائے گی۔

’ذاتی چپلقش اور پیشہ ورانہ رقابت تو ہو سکتی ہے، سوچ اور خیال میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن وہ اور ان کے ساتھی نہیں سمجھتے کہ کوئی استاد کسی کی جان لے سکتا ہے۔‘

پروفیسر جمیل کاظمی کا کہنا تھا کہ دارالعلوم کراچی کے لوگ انتہائی معتبر لوگ ہیں وہ قتل کے فتویٰ جاری نہیں کرتے، وہ پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں کہ جعلی لیٹر ہیڈ پر فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔

ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے اندر سات مقامات کے علاوہ یونیورسٹی روڈ اور ابو الحسن اصفہانی روڈ پر بھی نگرانی کے لیے کیمرے لگائے جائیں گے تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply