31

پہلی بار شارک اور منتارے کی تجارت پر قدغن

تصویر کے کاپی رائٹ
WWF

Image caption

سائٹس نے شارک کی تجارت سے متعلق ضابطے کوگذشتہ سال منظوری دی تھی

شارک اور منتارے مچھلیوں کو ناپید ہونے کے خطرے کے پیش نظر اب ان کی قانونی طور پر تجارت ہو سکے گی۔

شارک کی پانچوں قسم کی نسل کی تجارت پرضابطے نافذ ہوں گے یعنی اب غیر قانونی طور پر پکڑی گئی شارک مچھلیوں کے گوشت یا ان کے فنز (مچھلی کے پروں) کی تجارت پر پابندی ہوگی۔

یہی ضوابط منتا رے مچھلیوں کے لیے بھی منظور کیے گئے ہیں۔

ان ضوابط پر گذشتہ سال تھائی لینڈ میں منعقدہ ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار نسلوں کی تجارت کے کنوینشن (سائٹس) میں ان ضوابط کو منظور کیا گیا تھا۔

حالیہ برسوں میں شارک مچھلیوں کی تعداد زبردست دباؤ کا شکار رہی ہے کیونکہ ان کے فنز کی زبردست مانگ کے پیش نظر ان کے شکار میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سائنسی اندازے کے مطابق ہر سال دس کروڑ شارک کو مارا جاتا ہے کیونکہ ان کے فنز کے سوپ ہانگ کانگ اور چین میں بہت مطلوب ہیں۔

واضح رہے کہ اس مچھلی کے تحفظ کی مہم میں لگے رضاکار سنہ 1990 کی دہائی سے ہی غیر قانونی تجارت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
spl

Image caption

منتارے مچھلیوں کے گلز کو چینی دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے

اتوار سے سائٹس نے اوشیانک وائٹ ٹپ، پوربیگلز اور ہتھوڑی کے سر جیسی شکل والی شارک کی تین اقسام کو ضمیمہ دو میں داخل کر دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی تجارت بغیر پرمٹ یا سند کے نہیں ہوسکے گي۔

منتا رے کو ان کے گلے کے گوشت (گل) کے لیے اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کا چینی دواؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہی باتیں کہیں گئی ہیں۔

حد سے زیادہ مچھلیاں پکڑنے سے مچھلیوں کی ان نسلوں کو خطرہ لاحق ہے۔

ان اقدام کو سائٹس کی 40 سالہ تاريخ میں ان نسلوں کو بچانے کے لیے سب سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سائٹس کے جنرل سیکریٹری جان سکانلن نے کہا: ’شارک اور منتا رے مچھلیوں کی نسلوں کی تجارت پر قوائد و ضوابط ان کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں اور سمندر کی حیاتیاتی تنوع کو بچانے کے لیے یہی سب سے مناسب طریقہ ہے۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply