27

پشتون مارچ ٹی وی سکرینوں سے اوجھل

پشتون مارچ

Image caption

پشتون مارچ میں سیاسی پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی

پاکستان میں پشتونوں کی تحریک تیزی پکڑ رہی ہے۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد جنم لینے والی اس تحریک کا مقصد پشتونوں کے لیے بنیادی سیاسی اور سماجی حقوق کا حصول ہے۔

اس تحریک کے تحت گذشتہ چند ہفتوں میں ملک کے سب سے پسماندہ صوبے بلوچستان میں پانچ بڑے جلسے منعقد ہوئے ہیں۔

نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ کا ازخود نوٹس

’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘

نقیب اللہ کیس: حکومت سے معاہدے کے بعد دھرنا ختم

ان جلسوں میں جہاں ہزاروں نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی وہیں ایک اہم بات خواتین کی بھی بڑی تعداد میں شرکت رہی۔

بڑی تعداد میں عوامی شرکت کے باوجود پاکستانی میڈیا، چاہے الیکٹرانک ہو یا پرنٹ، اس پشتون لانگ مارچ کی کوریج کرتا نہیں دکھائی دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

Image caption

جبران ناصر کا پیغام: صرف این جی اوز یا بڑے شہروں کے پریس کلب پر مظاہرہ کرنے والے سیول سوسائٹی نہیں ہیں۔ جو ہزاروں پشتون اور بلوچ شہری کوئٹہ میں اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی سیول سوسائٹی ہیں مگر خبروں کی سرخیوں اور چینلز کے سٹوڈیو میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں

تاہم سوشل میڈیا ایک بار پھر ان افراد کی آواز بنا اور مارچ کے شرکا PashtunLongMarch2Quetta# اور PashtunLongMarch# جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرواتے رہے۔

میڈیا بلیک آوٹ کا ٹرینڈ جزوی طور پر اسلام آباد میں منعقد کیے جانے والے پشتون جرگہ میں بھی دیکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

Image caption

خوشحال خان کا پیغام: پشتون تحفظ تحریک اور منظور پشتین کے جلسے میں خواتین کی شرکت خوش آیند ہے

اس مرتبہ پشتون لانگ مارچ کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر سوشل میڈیا کوریج کو متاثر کرنے کے لیے کچھ اقدامات بھی کیے گئے جیسے کہ قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے جلسے کے دوران موبائل سروس بند کر دی گئی تھی۔

تاہم اس اقدام پر احتجاج کے بعد کوئٹہ میں منعقدہ جلسے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

میڈیا کوریج کے معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی اویس توحید نے کہا کہ تنگ نظر میڈیا لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ پشتونوں میں اور خاص طور پر نوجوانوں میں انقلاب برپا ہے۔

‘میڈیا کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس طرح کے احتجاج کے خلاف ہو گی۔ لیکن ان نوجوانوں کے جذبات لاوے کی مانند ہیں۔ سول سوسائٹی، سول اور ملٹری لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ صورتحال کو سمجھیں۔’



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply