67

پدماوتی اس لیے دیکھی جائے گی کہ اس میں کیا کیا نہیں ہے

پدماوتی اس لیے دیکھی جائے گی کہ اس میں کیا کیا نہیں ہے

تو متنازع ہندی فلم پدماوتی آخر ریلیز ہونے کو ہے اور لوگ خود سنیما ہال میں جاکر یہ دیکھ سکیں گے کہ اس فلم میں رانی پدماوتی کے ساتھ علاؤالدین خلجی کا کوئی ’ڈریم سیکوئنس‘ نہیں ہے۔

یہ تاریخ کی پہلی فلم ہوگی جسے بہت سے لوگ صرف اس لیے دیکھنے جائیں گے کہ اس میں کیا کیا نہیں ہے۔

مثال کے طور پر دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی کو رانی پدماوتی سے محبت ہوئی تھی کہ نہیں اور اگر ہاں تو کیا رانی کے دل میں بھی۔۔۔ بس یہاں سے آگے آپ خود سمجھ لیجیے۔ اور کیا اس بارے میں خلجی یا پدماوتی یا کسی اور نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا تھا؟

اگر دیکھا تھا تو یہ رانی کی توہین ہوگی اور راجپوت اپنی رانیوں کی توہین برداشت نہیں کرتے۔ بھلے ہی مورخین انہیں یہ سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہوں کہ رانی پدماوتی صرف ایک کہانی کا کردار تھیں، اصل تاریخ میں ان کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

لیکن آجکل تاریخ وہ ہوتی ہے جو آپ کو اچھی لگے۔ اس لیے فلم کے ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے اخبارات میں ایک لمبا چوڑا اشتہار شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پدماوت میں کیا کیا نہیں ہے:

پدماوتیتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionفلم کی مخالفت میں ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہوئے ہیں

اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ فلم پدماوت (پہلے فلم کا نام پدماوتی تھا) صوفی شاعر ملک محمد جائسی کی کہانی ’پدماوت‘ پر مبنی ہے، اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فلم میں علاؤالدین خلجی اور رانی پدماوتی کے درمیان کوئی ’ڈریم سیکوئنس‘ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا۔

یہ فلم راجپوتوں کی بہادری کو سلام کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فلم میں رانی پدماوتی کو بہت احترام کے ساتھ دکھایا گیا ہے، اور ان کے کردار کے بارے میں کسی قسم کی کوئی قابل اعتراض بات نہیں کہی گئی ہے۔ سینسر بورڈ کے کہنے پر فلم میں صرف پانچ تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اسے پورے ملک میں نمائش کی اجازت دی گئی ہے۔

علاؤالدین خلجی بھلے ہی دلی کا طاقتور سلطان ہو جس نے چتوڑ کو فتح کیا ہو، لیکن صرف سلطان ہونے سے آپ کو ہندی فلموں میں خواب دیکھنے کا حق حاصل نہیں ہوجاتا۔ یہ سلطانوں کے دائرہ اختیار سے بھی باہر کی بات ہے۔ یہ بات اور ہے کہ ملک محمد جائسی نے یہ کہانی 1540 میں لکھی تھی اور خلجی نے چتوڑ پر حملہ 1303 میں کیا تھا۔ لیکن بات جذبات کی ہو تو ڈھائی سو سال ادھر یا ادھر، کیا فرق پڑتا ہے؟

لیکن آج بھی بہت سے راجپوت مانتے ہیں کہ علاؤ الدین خلجی نے راجہ رتن سنگھ کی اہلیہ پدماوتی کے حسن کے قصے سن کر چتوڑ کے لیے کوچ کیا تھا اور اپنی عزت بچانے کے لیے رانی نے خود اپنی جان لے لی تھی۔

سینسر بورڈ کی منظوری مل جانے کے بعد بھی چار ریاستوں نے فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی تھی، جذبات اور ووٹ، دونوں کے ساتھ کوئی خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ فلم ساز نے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی ہے کہ علاؤالدین خلجی کی کردار کشی نہیں کی گئی ہے، لیکن آجکل خلجی کو کون پوچھتا ہے۔

بہر حال، سپریم کورٹ نے فلم کی نمائش کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اب لوگ فلم دیکھیں گے اور باہر آکر کہیں گے کہ دیکھا، میں نے کہا تھا نا، یہ سنجے لیلا بھنسالی کمال کا ہدایت کار ہے، کس خوبصورتی سے ’ڈریم سیکوئنس‘ فلمایا بھی نہیں اور پھر بھی پوری فلم کے دوران میرے ذہن میں وہ سیکوئنس ہی چلتا رہا!

دیکھنے والوں کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، اس پر بھی نظر رکھی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply