11

ٹرمپ کی جانب سے کوریا میں فوجی مشقیں روکنے کے بعد پینٹاگون کی اتحادیوں کو تسلی

Trump Kim

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

اجلاس کے بعد دونوں عالمی رہنماؤں نے ‘جامع’ اور ’تاریخی‘ دستاویز پر دستخط کیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ نما کوریا میں فوجی مشقیں منسوخ کرنے کے بعد پینٹاگون نے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے منگل کے روز ایک تاریخی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر امریکی فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اقدام کو شمالی کوریا کی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے جبکہ امریکی اتحادیوں کے لیے یہ بیان حیران کن ہے۔

مذاکرات کے بعد منظرِ عام پر آنے والے کم جونگ اُن کے پہلے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ اقدامات کو فوری روکنا ہوگا۔

اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

سنگاپور میں ٹرمپ اور کم ملاقات: کب کیا ہوا؟

ٹرمپ کِم ملاقات: چین تیار بیٹھا ہے

دوسری جانب شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کم جونگ نے امریکی صدر کی واشنگٹن آنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ نے کم جونگ نے صدر ٹرمپ کو ’مناسب وقت‘ پر پیانگ یانگ مدعو کیا ہے اور صدر ٹرمپ نے بھی کم جونگ کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی دعوت قبول کر لی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ان کی بات چیت ’ایماندارانہ، لگی لپٹی رکھے بغیر اور تعمیری‘ رہی ہے۔

سنگاپور میں منگل کو اس تاریخی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی ’وار گیمز‘ روک دے گا جبکہ کم جونگ ان نے ایک میزائل تجربے کی سائٹ تباہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

کیا پینٹاگون کو معلوم تھا؟

ٹرمپ کم ملاقات سے ایک روز قبل امریکہ کے سیکریٹری دفاع جم میٹس نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ اُن کے خیال میں فوجیوں پر بات چیت ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس پر بات چیت کے بارے میں انھیں معلوم ہے تو انھوں نے کہا کہ ’جی، میں جانتا ہوں۔‘

اگرچہ پینٹاگون نے جم میٹس کے بیان کو مسترد کیا ہے۔ پنٹاگون کے ترجمان ڈانا وائٹ کا کہنا ہے کہ اُن سے پہلے مشورہ کیا گیا تھا۔

بی بی سی کو دیے گئے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور ہم نے انھیں خطے میں امن و استحکام کی یقین دہائی کروائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج کے مابین مشترکہ عسکری مشقیں ہوتی ہیں

جنگی مشقیں کیا ہیں؟

جنوبی کوریا میں 30 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ ان کی کورین افواج کے ساتھ بڑے پیمانے پر عسکری مشقیں ہوتی ہیں۔

کم جونگ سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے مشترکہ عسکری مشقیں ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عسکری مشقیں جنھیں عموماً ’وار گیمز‘ کہا جاتا ہے، یہ جنوبی کوریا کی افواج اور وہاں موجود امریکی افواج کے مابین ہوتی ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشقیں ‘مہنگی’ بھی ہیں اور شمالی کوریا کے لیے’اشتعال انگیز’ بھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘پہلے سے طے کی گئی مشقیں مستقبل میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرت تک روک لی گئی ہیں۔‘

ایک برس کی لفظی جنگ اور دھمکیوں کے تبادلے کے بعد ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر بھی دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا جبکہ امریکہ اور شمالی کوریا تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اعلامیے پر دستخط کے بعد امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر عائد پابندیاں اٹھانا چاہتے ہیں تاہم یہ اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک امریکہ تو خطے کے جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے بارے میں اعتماد نہیں ہو جاتا۔

اجلاس کے بعد دونوں عالمی رہنماؤں نے ’جامع‘ دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے دو قوموں کے درمیان نئے تعلق کے آغاز کا اعادہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ کے ساتھ ملاقات بہت خوشگوار رہی

ٹرمپ کم ملاقات میں کیا طے پایا

بی بی سی کی لارا بکر کا کہنا ہے کہ اس اعلامیے کے مطابق امریکہ اور شمالی کوریا اپنے ملکوں کے عوام کی خوشحالی اور امن کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے نئے تعلقات شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اعلامیے کے مطابق جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے امریکہ اور شمالی کوریا مشترکہ جدوجہد کریں گے اور اپریل 2018 کے پنمنجوم اعلامیے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا۔

نامہ نگار کے مطابق معاہدے کے تحت امریکہ اور شمالی کوریا پرعزم ہیں کہ جنگی قیدیوں اور لڑائی میں لاپتہ ہونے والوں کو تلاش کیا جائے گا اور جن کی شناخت ہو چکی ہے انھیں فورًا ملک واپس بھیجا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

دونوں رہنماؤں نے مسکراتے ہوئے گرمجوشی کا اظہار کیا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply