30

ورلڈ کپ ٹرافی کی کراچی میں نمائش

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

۔۔۔آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔آفریدی کی ٹرافی کے ساتھ سیلفی بنا رہے ہیں

سنہ 2015 میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کی ٹرافی کرکٹ کھیلنے والے مختلف ممالک کا سفر کرتی ہوئی پاکستان پہنچی ہے جہاں لاہور کے بعد جمعرات کو کراچی میں اسے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

کراچی میں ٹرافی کو بانی پاکستان کے مزار پر لے جایا گیا جہاں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد نے اسے عوام کے سامنے پیش کیا۔

اس کے علاوہ ٹرافی کراچی کے ایک سکول میں بھی لے جائی گئی جہاں سینکڑوں بچوں نے قومی پرچم لہرا کر ٹرافی کا استقبال کیا۔

بدھ کو لاہور میں عوامی رونمائی کے بعد ٹرافی بدھ کی شام کراچی لائی گئی تھی۔

کراچی میں اس وقت قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ بھی جاری ہے اور بدھ کی شب ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے کرکٹرز نے اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ٹرافی کو بانیِ پاکستان کے مزار پر لے جایا گیا جہاں جاوید میانداد نے اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں

پاکستانی کرکٹ کے شائقین پانچ سال سے بین الاقوامی کرکٹ کو ترس رہے ہیں۔ اس دوران پاکستان سے 2011 کے عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی بھی واپس لے لی گئی۔

یہ شائقین دوبارہ اپنے سامنے کب بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ ہوتا دیکھ سکیں گے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تاہم فی الوقت ان شائقین کو عالمی کپ کی چمکتی ٹرافی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کی صبح ٹرافی کی لاہور میں مینار پاکستان پر رونمائی کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھنے کے لیے موجود تھی۔

اس موقع پر موجود قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ 1992 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقدہ عالمی کپ پاکستان نے جیتا تھا اور اب یہ عالمی ایونٹ دوبارہ انھی دو ملکوں میں منعقد ہو رہا ہے اور پاکستانی قوم ایک بار پھر ٹیم سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
urdu

Image caption

پاکستان نے 1992 میں آسٹریلیا میں پہلی بار ورلڈ کپ جیتا تھا، اب بھی پوری کوشش کریں گے: مصباح الحق

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے عہدہ برا ہونے کی بھرپور کوشش کریں گے۔‘

عالمی ایونٹ کی ٹرافی مینار پاکستان سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر قذافی سٹیڈیم لائی گئی جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے اسے خوش آمدید کہا۔

اس ٹرافی کا سفر تین جولائی سے شروع ہوا تھا اور وہ نو ممالک سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچی ہے۔

یہاں سے یہ جنوبی افریقہ جائے گی اور پھر زمبابوے، متحدہ عرب امارات اور ویسٹ انڈیز سے ہوتے ہوئے ورلڈ کپ کے میزبان ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس کا سفر اختتام کو پہنچے گا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply