23

نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے پاکستان میں نئی ایپ

چوکس

تصویر کے کاپی رائٹ
Google Playstore/Chaukas

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ایکشن پلان میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خاتمے پر سب سے کم کام کیا گیا ہے جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔

اسی حوالے سے نیکٹا نے ایک نئی موبائل ایپ متعارف کروائی ہے جس کا مقصد نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کرنے میں عوام کی مدد کرنا ہے۔

’چوکس‘ کے نام سے متعارف کروائی گئی اس ایپ میں صارف کو آپشنز دی گئی ہیں کہ وہ اس ایپ کے ذریعے کوئی بھی تصویر، ویڈیو یا لکھا ہوا مواد نیکٹا کو بھیج سکتے ہیں، جس کے ذریعے حکام کو امید ہے کہ شہری کسی بھی نفرت انگیز مواد یا تقاریر کی فوری اطلاع دے سکیں گے۔

اس ایپ میں صارفین کے لیے معلوماتی ویڈیو بھی شامل ہے جو کہ انھیں یہ سکھاتی ہے کہ اس ایپ کو استعمال کیسے کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’قومی ایکشن پلان سست روی کا شکار ہے‘

’کونسی طاقتیں ان تنظیموں کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں؟‘

‘لوگ بات نہیں کرتے تھے کہ یہ دہشتگردوں کا ساتھی ہے’

چیئرمین نیکٹا نے بی بی سی بتایا کہ نفرت انگیزمواد کی روک تھام کے لیے آن لائن نفرت آمیز مواد کو بلاک کرنے کے، مواد ضبط ہونے، چھاپہ خانوں کو سیل کرنا کافی نہیں اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت کو عوام کی مدد بھی درکار ہے۔

انھوں نے اس ایپ کی تیاری کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا۔

رجسٹریشن

یہ موبائل ایپ استعمال کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو نئے صارف کے طور پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے، جو آپ اپنے ای میل اور فون نمبر کے ذریعے ہو سکتے۔ ایپ میں لاگ ان ہونے کے لیے آپ اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ فیس بک یا ٹوئٹر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Google Playstore/Chaukas

کس قسم کا مواد

اس ایپ میں آپ کو چار قسم کے نفرت انگیز مواد کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس میں تصاویر یا ویڈیوز، آواز اور تحریری مواد کے علاوہ نفرت آمیز مواد پر مبنی ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے کی سہولت موجود ہے۔

ایپ صارفین کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی تحریری، تصویری یا ویڈیو کی شکل میں نفرت انگیز مواد شیئر کر سکیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سوشل میڈیا پر کوئی بھی تصویر یا ویڈیو شیئر کرتے ہیں، اپنے موبائل سے وہ مواد اپ لوڈ کریں اور اس کے بارے میں چند جملوں میں تفصیل لکھیں اور بھیج دیں۔

مواد اپ لوڈ کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے

جب صارفین کسی نفرت انگیز مواد کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں تو اس درخواست پر کیا عمل ہوا یا اس کی کیا حیثیت ہے، وہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ’مین مینو‘ میں ‘ہسٹری’ کا ٹیب موجود ہے۔ جس میں آپ کے درخواست کے ’سٹیٹس‘ کے بارے میں معلومات درج ہوں گی۔

نیکٹا کے چیئرمین احسان غنی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس عمل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’آپ دیکھتے ہیں کہ مسجد میں، مدرسے میں، راستے میں کہیں پر بھی آپ کو نظر آتا ہے کہ یہ (چیز) نفرت آمیز مواد کے زمرے میں آتی ہے، تو وہ ویڈیو، آڈیو، تصاویر، آپ وہ اپ لوڈ کر کے آپ ہمیں رپورٹ دیں، اور ہم صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ان کے خلاف ایکشن لیں گے۔‘

یہ ایپ ایپل اور اینڈروئیڈ دونوں قسم کے سمارٹ فونز پر استعمال کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں بیشتر لوگوں کو شکایت رہی ہے کہ حکومت مختلف گروہوں اور افراد کی جانب سے مذہب اور نسلی تعصب کی بنیاد پر پھیلائے جانے والے پیغامات کا سدباب کرنے میں ناکام رہی ہے، اب یہ ایپ اس مسئلے پر قابو پانے میں کس قدر مددگار ثابت ہوسکتی ہے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا صارفین اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کریں گے اور کیا وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہو جائیں گے کہ حکومتِ پاکستان ان کی شکایات کو اس کے خلاف پروفائلنگ کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply