12

میڈلز اور اسناد مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے: بشیر بلوچ

بشیر بلوچ

55 سال تک لوک گائیکی کرنے والے صوبہ بلوچستان کے معروف گلوکار بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ جو میڈل اور اسناد مجھے ملی ہیں اچھا نہیں لگتا ہے کہ میں ان کو سڑک پر رکھ کر بھیک مانگوں۔

مختلف زبانوں میں لوک گیت گانے والے گلوکار کا کہنا ہے کہ ان کو دو صدارتی ایوارڈز سمیت مجموعی طور پر 135 ایوارڈز اور اسناد ملی ہیں۔

بشیر بلوچ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت 72 سال کے ہیں جبکہ ان کے دونوں بیٹے بہت چھوٹے ہیں۔ ’اگر میرے بچے جوان ہوتے تو وہ کسی سے بھی مدد کی درخواست نہیں کرتے بلکہ میرے بچے کوئی ملازمت کرکے میری خدمت کرتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ تنگ دستی کے باعث وہ اپنے بچوں کے لیے مناسب کپڑے تک نہیں خرید سکتے۔

اپنے مہمان خانے میں بڑی تعداد میں رکھے جانے والے میڈلز اور اسناد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بادشاہی کے دن گزرگئے، غریبی کے یہ دن بھی گزر جائیں گے لیکن وہ یہ بات کسی طرح بھی مناسب نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے میڈلز اور اسناد کو سڑک پر پھیلاکر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔

بشیر بلوچ کے مطابق وہ حکومت سے بڑی رقم نہیں مانگتے بلکہ اتنا مانگتے ہیں کہ جس سے ان کو اور ان کے بچوں کو دو وقت کی روٹی مل جائے۔ ’میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بڑھاپے میں میرا ساتھ دیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 55 سال تک وطن کی خدمت کی، اس کے لیے گیت گائے، وہ اس کی قیمت نہیں مانگتے بلکہ روٹی کا ایک ٹکڑا مانگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’اگر مجھے یہ روٹی کا ایک ٹکڑا دیں تو میں بھیک مانگنے سے بچ جاؤں گا۔‘

وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے لیے 25 یا 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی عزت کے ساتھ گزار سکیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply