29

ملک بھر سے ایک دن میں پولیو کے 13 نئے کیسز


تصویر کے کاپی رائٹ
AP

Image caption

پشاور میں گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد محکمہ صحت حکام نے پولیو کے خلاف مہم میں کئی گنا اضافہ کیا ہے

پاکستان میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں اور قبائلی علاقوں سے ایک ہی دن میں پولیو کے 13 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ہی اس سال ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 158 تک پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد میں وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز کے ای پی آئی مینیجر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی طرف سے جاری کردی اعلامیے میں 13 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تمام کیسز ایک ہی دن میں سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 158 ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان میں سات کیسز فاٹا سے رپورٹ ہوئے ہیں اور تین کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ایک ایک کیس تینوں صوبوں یعنی بلوچستان، پنجاب اور سندھ سے سامنے آیا ہے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ بلوچستان سے جن بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے کیا ان کو قطرے نہیں پلائے گئے تھے؟ تو اس پر ڈاکٹر رانا نے بتایا کہ اکثر اوقات ایسے علاقوں میں والدین بچوں کو پولیو کی ویکسین پلانے سے انکار کر دیتے ہیں اور ہو سکتا ہے یہ بھی ایسا ہی کیس ہو۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ دو برسوں یعنی 2012 اور 2013 میں پولیو کے کل 151 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں سال میں نو مہینوں کے دوران اب تک یہ تعداد 158 تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے انسداد پولیو کے کئی مہمیں چلائی گئی ہیں تاہم اس کے باوجود پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی نہیں آ رہی۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ بے گھر ہونے والے بعض خاندان بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔

پولیو ٹیموں پر حملوں کی وجہ سے بھی حکومت کو اس مرض پر قابو میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پشاور میں گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد محکمہ صحت کے حکام نے پولیو کے خلاف مہم میں کئی گنا اضافہ کیا ہے اور گذشتہ چند ماہ کے دوران پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں، جس سے پشاور کی حد تک صورتحال کچھ حد تک بہتر بتائی جاتی ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply