27

مظاہرین کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی آرڈر جاری ہونے کے بعد عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں سوچا جائے گا

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے 31 اگست اور یکم ستمبر کو پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں پر فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر اپنا مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ ان کو پاکستان عوام تحریک کی جانب سے دی جانے والی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی آرڈر جاری ہونے کے بعد عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں سوچا جائے گا۔

اس سے پہلے بھی لاہور کی ایک مقامی عدالت کے حکم پر وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اہم وزرا پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

درخواست گُزار نے اپنی درخواست میں ان افراد کی ہلاکتوں کی ذمہ داری وزیرِ اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کے علاوہ چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ پر عائد کی ہے۔

پولیس کی جانب سے اس ضمن میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کا وقوعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اُن کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کو مظاہرین پر فائرنگ کے لیے کوئی اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اعلیٰٰ حکام کی طرف سے کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلانے کے احکامات ملے تھے۔

درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس کی طرف سے نہ صرف مظاہرین پر براہ راست گولیاں ماری گئیں بلکہ زائد المعیاد آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔ اُنھوں نے پوچھا کہ جب ضلعی انتظامیہ نے اہم عمارتوں کی حفاظت کے لیے فوج کو طلب کیا ہوا ہے تو پھر پولیس نے ایسی کارروائی کیوں کی ہے؟

ادھر اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی کے 100 سے زائد کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے مقدمے ختم کر کے اُنھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان افراد کو مختلف علاقوں سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پرگرفتار کیا گیا ہے اور پولیس کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ یہ لوگ شدت پسندی کے کسی واقعے میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک گذشتہ ایک مہینے سے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے دیے ہوئے ہیں جن کا مرکزی مطالبہ وزیرِ اعظم نواز شریف کا استعفیٰ ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply