22

‘مجھے کیوں نکالا’ سے ‘مٹی پاؤ‘ تک

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

نواز شریف کے حامی ان کے نا اہل کیے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں

‘پہلی بات ہی آخری تھی اس سے آگے بڑھی نہیں۔ ‘ منیر نیازی مرحوم کا یہ شعر شاید نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ نا اہلی سے پہلے اور نا اہلی کے بعد ان کے کئی جملے مشہور ہوئے ہیں لیکن ‘مجھے کیوں نکالا’ کی گونج پاکستانی سیاست میں ہمیشہ رہے گی۔ اس سے پہلے ان کا جملہ ‘میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا’ بہت مقبول ہوا اور شاید ان کو مہنگا بھی پڑ گیا تھا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے وزارتِ اعظمیٰ چھین لی اور بعد میں پارٹی کی صدارت۔ اب ‘میرا نام ہی باقی بچا ہے محمد نواز شریف۔ اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لیں۔’ اس کے علاوہ جنوری میں احتساب عدالت کی ایک پیشی کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں نیب کیس میں کچھ نہیں۔ انھوں نے ماضی کی ایک فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بالکل اس طرح ہے کہ ‘فلم پہلے ہفتے بہت زبردست چلی ، پھر اگلے ہفتے زبردستی چلائی گئی۔’

مزید پڑھیے

نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف کا متبادل کون؟

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

’گو نواز گو سے گون نواز گون‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

پیش ہیں پاکستان کے سیاستدانوں کے چند مشہور جملے۔

شہباز شریف: جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مرحوم حبیب جالب کی نظم ‘اس دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا’ کو اپنی ایک تقریر میں استعمال کیا تو بہت سے سننے والے مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

آصف زرداری کا نعرہ پاکستان کھپے بہت مقبول ہوا

آصف علی زرداری: محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری کا نعرہ ‘پاکستان کھپے’ نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان کا جملہ ‘شریفوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ میں نے مشرف کو دروازہ دکھا کہ انھیں شیر بنایا ہے’ بھی بہت مقبول ہوا۔

آصف زرداری کا اینٹ سے اینٹ بجا دینا والا فقرہ بھی مشہور ہوا اور اس کے بعد وہ کافی عرصے تک ملک سے باہر بھی رہے۔

پرویز مشرف: سابق آرمی چیف، سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کو جملوں کا ‘آرمی چیف’ کہا جا سکتا ہے۔ شاید کسی آرمی چیف کے جملوں کو اتنا زیادہ نہ دہرایا گیا ہو جتنا کہ پرویز مشرف کے۔ دوست تو اکثر یہ کہہ کر ایک دوسرے کو چھیڑتے ہیں کہ ‘میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں’۔

عمران خان: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا نعرہ ‘تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے’۔ اس کے علاوہ ‘ایمپائر کی انگلی’ اور ‘سونامی آ گئی ہے’ بھی کافی مقبول ہوئے۔

الطاف حسین: ویسے تو ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین ہر جملہ ہی مثال دینے اور نعرہ بننے کے قابل ہے لیکن جو سب سے زیادہ محضوظ کرتا ہے وہ ہے ‘او جاگیردارا’۔

چوہدری شجاعت حسین: صحافی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کا ‘مٹی پاؤ’ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

چوہدری نثار: ‘بچے صرف بچے ہوتے ہیں، وہ رہنماؤں کے طور پر قبول نہیں کیے جا سکتے۔’

اسلم رئیسانی: ‘ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے یونیورسٹی کی ہو یا تھرما میٹر کی۔’



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply