32

ماڈل ٹاؤن تصادم:گلو بٹ پر فرد جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

لاہور میں حفاظتی رکاؤٹیں ہٹانے پر پولیس کے ساتھ تصادم میں مہناج القرآن کے 14 کارکن ہلاک ہو گئے تھے

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ماڈل ٹاون میں تصادم کے دوران توڑ پھوڑ کرنے کے مقدمے میں گلو بٹ پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

گلو بٹ 17 جون کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں مہناج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے۔

نجی ٹیلی ویثرن چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں انھیں مہناج القران سیکریٹریٹ کے آس پاس کھڑی گاڑیاں ڈنڈے مار کر توڑتے اور پھر پولیس اہکاروں کے مصافحہ کرتے دکھایا گیا تھا۔

عدالت میں تفتیشی افسر نے بتایا کہ گلو بٹ نے 17 جون کو ماڈل ٹاون میں توڑ پھوڑ کی اور خوف و ہراس پھیلایا۔اس حوالے سے مقدمے کا چلان جمع کروایا جا چکا ہے جس میں گلو بٹ قصوروار قرار پا چکے ہیں۔

دوران سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج کے استفسار پرگلو بٹ نے جرم قبول کرنے سے انکار کیا اور خود پر لگے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔

گلو بٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ جھڑپ کے دوران اس علاقے سے گزر رہے تھے۔ ان کا توڑ پھوڑ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ٹوٹنے والی گاڑیوں کے مالکان نے اس حوالے سے کوئی شکایت درج کروائی ہے۔ پولیس نے ان کے خلاف یہ مقدمہ ازخود درج کیا۔

عدالت نے گلو بٹ پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔

17 جون کو پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کارکنوں کے دوران حفاظتی بیرئیر ہٹانے پر جھڑپ ہوئی تھی جس میں پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply