27

’مان جاؤ نا‘: ٹریلر سے ہٹ کر فلم

فلم

تصویر کے کاپی رائٹ
Maan Jao Na

عام طور پر فلم بینوں کا رونا یہ ہوتا ہے کہ جو توقعات فلموں کے ٹریلر اُجاگر کرتے ہیں وہ فلم پوری نہیں کرپاتیں۔ مطلب یہ کہ فلمساز اپنی فلم کے بہترین حصے جوڑ کر دو منٹ کا ٹریلر تو عمدہ بنا لیتے ہیں، لیکن جب یہی چیزیں آپ دو یا ڈھائی گھنٹے لمبی فلم میں دیکھتے ہیں تو حالات کچھ پھُسپھُسے سے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ مسئلہ ’مان جاؤ نا‘ کا نہیں ہے۔ تقریباً دو ہفتے پہلے سینیما گھروں میں پیش کی گئی اس پاکستانی فلم کا ٹریلر اِتنا ٹھُس تھا کہ بقول ایک مشہور پروڈیوسر، یہ ٹریلر مثال بنا کر فلمسازی کے طلبہ کو دکھانا چاہیے کہ ٹریلر کیسے نہیں بنانا چاہیے۔

مزید پاکستانی فلموں پر تبصرے اور تجزیے پڑھیے

’ورنہ‘۔۔۔ سر پکڑ کر بیٹھیے

‘کراچی سے لاہور’ ایک اکتا دینے والا طویل سفر

کلچر کلیش ، مردانگی اور پاکستانی سنیما کی نئی ہِٹ

پرچی کا پرچہ

بظاہر اس ٹریلر میں سوائے رنگوں کی خوبصورتی اور ہلے گُلے کے، اور کچھ زیادہ نہیں تھا۔ اس کو دیکھنے کے بعد مجھے یقین تھا کہ یہ فلم زیادہ چلنے والی نہیں۔ فلم کے باکس آفس پر بھی حالات کچھ ایسے ہی رہے۔

لیکن شاید اسی لیے، جب میں نے ’مان جاؤ نا‘ کو سینیما میں جا کر دیکھا تو کم از کم انٹرمشن تک مجھے ایک خوشگوار حیرانی ہوئی۔ فلم ٹریلر سے کہیں بہتر اور سُلجھی ہوئی محسوس ہوئی اور اس کی کہانی اور سکرین پلے مربوط لگا۔

یہ نہیں تھا کہ فلم میں خامیاں نہیں تھیں — لیکن اداکاری کی کمزوریوں اور ہدایتکاری کی کوتاہیوں کے باوجود، کہانی کا سر پیر بھی نظر آتا تھا اور ایک لحاظ سے فلم کی ایک کمزوری، یعنی کسی بڑے سٹار کا فلم میں نہ ہونا اس کے حق میں بھی جاتا تھا کیونکہ نئے اور کم عمر اداکار فلم کو ایک تازہ پن بھی بخشتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Maan Jao Na

فلم کی کہانی رانیہ (الناز نوروزی) کے گِرد گھومتی ہے جو اپنی کم عمری کے باوجود اپنے خیالوں میں بہت پُختہ ہے۔ اور وہ خیالات یہ ہیں کہ اس نے کبھی شادی نہیں کرنی۔ وہ اپنے باپ (آصف رضا میر) اور پھوپھی (اسما عباس) کے ساتھ رہتی ہے اور لگتا ایسا ہے کہ اس کی ماں اس کے بچپن ہی میں وفات پا گئی تھی حالانکہ فلم میں اس پر کبھی گفتگو نہیں ہوتی۔

تو نہ صرف اس کے اپنے سامنے گھر میں کسی خوش باش شادی شدہ جوڑے کی مثال موجود نہیں بلکہ وہ ہمیشہ اس بات کو بھی یاد کرتی ہے کہ اس کی پھوپھی کو (جس نے اسے ماں کی طرح پالا ہے) پھوپھی کے شوہر نے مار پیٹ کر گھر سے نکالا تھا۔

دوسری طرف رانیہ کا بچپن کا دوست فارس (عدیل چودھری) ہے جو ہمیشہ اس کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتا ہے، لیکن جو اصل میں رانیہ سے محبت کرتا ہے اور اس کو اپنے دل کی بات بتانے سے قاصر ہے۔ جب رانیہ کی پھوپھی اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر ایک رشتہ دار سے کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو رانیہ گھر سے بھاگ پڑتی ہے اور فارس کی مدد لیتی ہے۔

دونوں فارس کی موٹربائیک پر شہر سے باہر نکل جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رانیہ کا ہونے والا منگیتر ایک انتہائی کمینہ آدمی ہے جو اپنی بےعزتی کا بدلہ لینے پر تُلا ہوا ہے، چاہے اس کا مطلب زبردستی کی شادی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ رانیہ اور فارس کا پتہ لگانے کے لیے اُن کے دوستوں عاصم (ایاز سمو) اور سارا (ہاجرہ یامین) کو بھی اغوا کروا لیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Maan Jao na

چلیں، یہاں تک تو کہانی سیدھی سادی بھی تھی اور اس کا رُخ سمجھ میں آنے والا بھی تھا۔

لیکن انٹرمشن کے بعد فلم ایک نئے رُخ پر ہی نکل پڑتی ہے۔ جب فارس آخر کار اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے تو رانیہ اُسے دھتکار دیتی ہے اور دونوں میں دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ آہستہ آہستہ رانیہ اپنے باقی دوستوں سے بھی دور ہو جاتی ہے اور فارس کی زندگی میں ایک نئی لڑکی (غنا علی) آجاتی ہے۔

’اگر شادی کی تو زندگی ختم ہو جائے گی‘

اب رانیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے پرانے منطق کو بھُلا کر فارس کو واپس حاصل کرنے کی تگ ودو شروع کردیتی ہے۔

فلم کو دیکھتے ہوئے مجھے یکدم یہ خیال آیا کہ فلمسازوں نے کہانی کو ایک ایسے کونے میں دھکیل دیا تھا کہ جہاں سے نکلنا مشکل ہوگیا تھا اور کرداروں کے اس معمے سے چھُٹکارا صرف اسی طرح ممکن تھا جیسا کہ بچپن میں کبھی ہم کہانیاں لکھا کرتے تھے جن کی آخری سطر میں یہ انکشاف ہوتا تھا کہ جو کچھ پہلے ہوا تھا وہ سب ایک خواب تھا۔

بدقسمتی سے ’مان جاؤ نا‘ کا اختتام بھی کچھ ایسا ہی ناقابلِ یقین ہے، جو نہایت ہی غیر مطمئن کن ہے۔

شاید اگر ’مان جاؤ نا‘ کی کہانی زیادہ حقیقت پسند ہوتی تو اس کی دیگر اور کمزوریاں نظرانداز کی جا سکتیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ فلم کی عکسبندی اچھی ہے اور اس کی موسیقی بھی بُری نہیں ہے لیکن یہ تو ’کرُو فلمز‘ جیسی کمپنی سے، جو اس فلم کی پروڈیوسر ہے اور جو بیشمار اشتہاری فلموں پر کام کر چکی ہے، توقع کی جا سکتی تھی۔

سوائے آصف رضا میر کے، کوئی اور اداکار اپنے کردار میں کشش پیدا نہیں کر پایا اور عموماً اُن کی ڈائیلاگ ڈیلیوری کچھ عجیب سا تاثر چھوڑتی ہے۔

یہ بات خاص طور پر الناز نوروزی پر واضح تھی، جو خوش شکل تو ہیں لیکن شاید ایرانی نژاد ہونے اور جرمنی میں رہنے کی وجہ سے کبھی اردو بول چال میں ماہر نہیں لگتیں۔ عدیل چودھری بھی، جو کہ ٹی وی کے ڈراموں میں کام کر چُکے ہیں، زیادہ وقت ’ہیرو‘ لگنے میں صرف کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Maan Jao Na

اس کے علاوہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک گجر خاندان میں رانیہ کے باپ صاف اردو اور پھوپھی ٹھیٹھ پنجابی کیوں بولتے ہیں جبکہ رانیہ کا لہجہ اُن دونوں سے مُختلف ہے۔

پھر وِلن منگیتر صاحب انگلینڈ میں رہتے ہیں اور وہاں دودھ کی فیکٹریاں چلاتے ہیں، تو چلیں اُن کا لہجہ تھوڑا عجیب ہونا سمجھ میں آتا ہے لیکن اُن کے کراچی کے گوالوں سے اتنے قریبی تعلقات کیونکر ہیں کہ وہ اُن کے باڑوں میں لوگوں کو یرغمال رکھ سکیں، یہ بات قیاس سے باہر لگتی ہے۔

ایک اور مثال ہدایتکار عابث رضا کی یا لکھاری اسما نبیل اور احسن رضا فردوسی کی کمزوری کی: جب رانیہ اور فارس موٹربائیک پر بھاگ نکلتے ہیں تو کبھی وہ سرگودھا کے قریب بھیرہ اور کبھی وہ خیرپور کے قریب کوٹ ڈیجی پہنچ جاتے ہیں جیسے کہ یہ سب شہر کراچی کے آزوُ بازوُ میں ہوں۔

لگتا یوں ہے کہ اِن جگہوں کا انتخاب کیمرہ مین اسراد خان نے کیا تھا اور اِن کو کہانی میں بعد میں فِٹ کیا گیا۔

ہدایتکار عابث رضا اور فلم کے لکھنے والے سب ٹی وی پر ڈرامے بناتے ہیں۔ میں اُن کے کام سے واقف نہیں ہوں، لیکن سنا ہے کہ وہ ٹی وی پر اچھا کام کرتے ہیں۔ شاید وہ اپنی پہلی فلم بناتے ہوئے فلم کی توقعات کے بوجھ تلے دب گئے۔

’مان جاؤ نا‘ کے ٹریلر میں کامیڈین علی گُل پیر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ فلم کے مرکزی وِلن ہوں گے لیکن فلم میں اُن کا رول صرف پہلے دو تین سین تک ہی محدود ہے۔

شاید یہ صرف اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ پروڈیوسروں کا خیال تھا کہ اس سے پبلک کی فلم دیکھنے میں دلچسپی بڑھ جائے گی۔ یہ کوشش تو ناکام ہوئی لیکن فلمسازوں کا اس بات پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ کم از کم اس حوالے سے فلم ٹریلر کے مطابق نہیں تھی۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply