27

لندن کے دو بابوں کی قبروں پر حاضری

Image caption

چارلز ڈراون اور کارل ماکرس میں بہت سے قدریں مشترک ہیں

لندن کے رنگارنگ تفریحی مقامات اپنی جگہ مگر مجھے وہاں سب سے زیادہ دو بابوں کی قبروں پر حاضری دینے کا شوق تھا۔ ویسے تو یہ دونوں بابے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں لیکن ان میں کئی چیزیں مشترک بھی ہیں۔ دونوں 1880 کی دہائی میں فوت ہوئے، دونوں کی گھنی گھنیری داڑھیاں تھیں اور دونوں سے آدھی دنیا شدید محبت اور آدھی شدید نفرت کرتی ہے۔

یہ باتیں تو کتابوں میں لکھی ہیں لیکن ان کی قبروں پر جا کر معلوم ہوا کہ ان میں ایک اور وجۂ اشتراک بھی ہے، لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید۔

ان میں سے ایک تو ہیں چارلز ڈارون۔ کہیں پڑھ رکھا تھا کہ ان کی قبر ویسٹ منسٹر ایبی کے شاہی چرچ کے اندر واقع ہے۔ شومئی قسمت سے جب میں وہاں پہنچا وہ اتوار کا دن تھا اور چرچ سیاحوں کے لیے بند تھا۔ لیکن دسمبر کے اس دن دھندلی پھوار سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے سینکڑوں برس قدیم چرچ کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھا کہ لوگ پھر بھی قطار بند اندر جا رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ عبادت گزار ہیں اور اتوار کی سروس میں حصہ لینے پہنچے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا، اس لیے ہم نے کیمرا بیگ میں ڈالا اور چرچ کے اندر پہنچ گئے۔

چرچ کیا ہے، برطانوی قوم اور تاریخ کی کھلی کتاب ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے ہر بادشاہ، ہر ملکہ کی تاجپوشی یہیں ہوئی بلکہ ان میں سے اکثر اسی کے احاطے کے اندر دفن ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر سائنس، فلسفہ، ادب اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی درجنوں مشہور شخصیات اسی چرچ کے فرش تلے مدفون ہیں۔ چند نام سنیے اور سر دھنیے اور بتائیے کہ دنیا کے کسی اور کونے میں اتنی مختصر جگہ میں اس قدر انسانی دانش کا اجتماع مل سکتا ہے:

عظیم ماہرِ طبعیات سر آئزک نیوٹن، بابائے انگریزی شاعری جیفری چاسر، شیکسپیئر کو ٹکر دینے والا ڈراما نگار بین جانسن، ایٹم کی ساخت معلوم کرنے والا ردرفورڈ، الیکٹران دریافت کرنے والا جے جے ٹامسن، عظیم ناول نگار چارلز ڈکنز، ٹامس ہارڈی اور رڈیارڈ کپلنگ، ملک الشعرا لارڈ ٹینی سن، جان ڈرائیڈن اور سپینسر، لارڈ میکالے، اور درجنوں دوسرے مشاہیر۔

اس کہکشاں کی چکاچوند میں مجھے اپنے چارلز ڈارون کی قبر کہیں نہیں مل رہی تھی۔ آخر تین چار چکر لگانے کے بعد فرش پر سنگ مرمر کا کتبہ نظر آ گیا۔ اس پر سیاہ سادہ الفاظ میں صرف اتنا کھدا ہے:

CHARLES ROBERT DARWIN BORN 12 FEBRUARY 1809. DIED 19 APRIL 1882.

ڈارون کے نظریۂ ارتقا کی سب سے زیادہ مخالفت اینگلیکن چرچ نے کی تھی اور انھیں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ بلکہ انگریزوں کی دیکھا دیکھی اسی زمانے میں ہندوستان میں جنابِ اکبر الہ آبادی نے بھی پےبہ پے اشعار میں ڈارون پر تیر چلائے تھے:

نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے

جناب ڈارون کو حضرت آدم ؑ سے کیا نسبت

کہا منصور نے خدا ہوں میں

ڈارون بولا بوزنہ ہوں میں

Image caption

کارل مارکس کے مقبرے پر ٹکٹ دینا پڑتا ہے

تو پھر ڈارون کو برطانیہ کے سب سے ممتاز چرچ میں کیوں دفن کیا گیا؟

دراصل ڈارون کو ویسٹ منسٹر میں دفن کروانے میں بااثر سائنس دان ٹامس ہکسلی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس نے اس سلسے میں ایک پیٹیشن شروع کی جس پر بہت سی مقتدر شخصیات، سیاست دانوں اور ارکانِ پارلیمان نے بھی دستخط کیے اور ویسے بھی ڈارون کی موت تک نظریۂ ارتقا دنیا بھر میں پھیل کر اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ انگریز اس پر فخر کرنے لگے تھے۔ چنانچہ پادریوں کو طوعاً و کرہاً یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا۔

یہ تو احوال ہوا ایک بابے کا۔ اب دوسرے یعنی کارل مارکس کی سنیے۔ حضرتِ گوگل نے بتا دیا کہ موصوف لندن کے شمالی حصے میں ہائی گیٹ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہاں جانے کے لیے زیرِ زمین ریل کی نادرن لائن لے کر ہم آرچ وے سٹیشن پر ابھرے اور موبائل فون کے نقشے کے سہارے چلتے گئے۔ یہاں ایک ہلکا سا سانحہ یہ ہوا کہ سٹیشن سے باہر نکلتے ہی لندن کی ٹھنڈی ہوا کے ایک بھیگے جھکولے نے چھتری کے انجر پنجر یوں الٹا کر رکھ دیے کہ اس سے آگے ہمیں اس چھتری کو میر صاحب کی دستار کی طرح دونوں ہاتھوں سے تھام کر سفر کرنا پڑا۔

موبائل فون اور اس کے اندر نقشہ دکھانے والی ایپ دونوں ہی سرمایہ داری نظام کے پروردہ تھے اس لیے انھوں نے ہمیں ایک ایسی جگہ جا کر لا کھڑا کیا جہاں آگے بارہ فٹ اونچی دیوار تھی اور بس۔ ادھر ادھر دیکھا تو ایک فلیٹ کے باہر کھڑے ویل چیئر بردار شخص نے بتایا کہ اگر آپ کے پاس سیڑھی ہے تو آپ یہیں سے جا سکتے ہیں ورنہ دوسری طرف پارک ہے، اس کے اندر سے گھوم کر چلے جائیے۔

ہمارے پاس اس وقت اتفاق سے بارہ فٹ اونچی سیڑھی نہیں تھی، اس لیے ہم تیز تر ہوتی بارش میں گھوم کر پارک کے اندر داخل ہوئے اور کم از کم ایک میل کا چکر کاٹنے کے بعد ہائی گیٹ قبرستان کے صدر دروازے پر پہنچ گئے۔

یہاں ایک ادھیڑ عمر انگریز نے مسکرا کر استقبال کیا اور مطلع کیا کہ اندر جانے کے لیے چار پاؤنڈ کا ٹکٹ خریدنا ہو گا۔ بحث کی گنجائش نہیں تھی، ویسے بھی بارش میں شدت آتی جا رہی تھی اور ہماری چھتری کی حالت کسی مفلس کی قبا سے بھی بدتر تھی، اس لیے ٹکٹ کٹا کر قبرستان میں داخل ہو گئے اور کئی لہردار فٹ پاتھوں اور صدیوں پرانے گمبھیر درختوں کے نیچے سے ہوتے ہوئے منزل پر جا پہنچے۔

ڈارون کے برعکس مارکس کی قبر خاصی بڑی ہے، بلکہ اسے مقبرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک اونچے کتبے پر مارکس کا مجسمہ بھی نصب ہے۔ لوحِ مزار پر مارکس کا آفاقی فقرہ رقم ہے:

WORKERS OF ALL LANDS UNITE

کئی ملکوں سے کامریڈ آئے ہوئے تھے اور اپنے رہنما کے مقبرے کے آگے کھڑے ہو کر تصویریں کھنچوا رہے تھے۔ ہم نے بھی پولینڈ کے ایک نوجوان کو کیمرا تھما کر دو چار تصویریں بنائیں اور واپس چل دیے۔

اس دوران ذہن میں یہ سوال گردش کرتا رہا کہ کارل مارکس کی قبر پر ٹکٹ کا کیا مطلب بنتا ہے۔ کیا وہ ساری زندگی اسی سرمایہ داری نظام کو زمیں بوس کرنے کی کوششوں میں نہیں لگے رہے؟ اگر کارل مارکس کو یہ بات اپنی زندگی میں پتہ چلتی کہ مرنے کے بعد یہ نظام ان کی قبر سے بھی پیسے کمانے کی کوشش کرے گا تو ان کا کیا ردِ عمل ہوتا؟

پھر اچانک خیال آیا کہ ڈارون کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ کیا ڈارون کو یہ بات پسند آتی کہ ان کی قبر پر عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے آنے والوں کو چرچ کی گھنٹیوں اور پادریوں کی مناجاتوں سے گزر کر وہاں آنا پڑتا ہے؟

ڈارون کی سوانح سے پتہ چلتا ہے کہ نظریۂ ارتقا وضع کرنے کے بعد انھوں نے گرجا سے فاصلہ رکھا تھا۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ اتوار کی اتوار ڈارون اپنے اہلِ خانہ کو چرچ کی طرف لے جاتے۔ خانوادہ چرچ کے اندر داخل ہو جاتا اور ڈارون چہل قدمی جاری رکھتے۔

انھی امور پر غور و فکر کرتے کرتے محسوس ہوا کہ چھتری پر بارش کے قطروں کی تھاپ سنائی نہیں دے رہی۔ اوپر دیکھا تو لندن کا موسم زمانے کی ہوا کی طرح بدل چکا تھا اورسہ پہر کا نحیف سورج مٹیالے بادلوں کی پرتیں چیر کر مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ہم نے شکستہ چھتری کی پسلیاں سمیٹ کر اسے کوڑے دان میں پھینکا اور اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گئے۔

(کارل مارکس کی 135ویں برسی کے موقعے پر لکھی گئی تحریر)



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply