15

فاٹا بل کی منظوری کے خلاف احتجاج، اسمبلی کا گھیراؤ

پشاور، احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ
Waheed ullha

Image caption

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے خلاف پشاور میں مذہبی جماعت کے کارکنوں اور قبائلی رہنماؤں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے اور مظاہرین نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کر لیا ہے۔

اتوار کو پشاور میں صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب فاٹا کو خیر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے کی توسیق کے لیے صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کی توثیق کے لیے قرارداد منظور کی جائے گی اور فاٹا اصلاحات بل پاس کیا جائے گا۔

اس بارے میں مزید جانیے

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی قومی اسمبلی سے منظوری

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات کیا ہیں؟

فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق

یاد ہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے وفاق کے زیر انتظام قبائیلی علاقوں کو خیبر پختونخوا اور صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو اپنے اپنے صوبوں میں ضم کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تھی۔

حکومتی جماعت مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف سمیت مختلف اپوزیشن کی جماعتوں نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی لیکن جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس انضمام کی مخالفت کی تھی۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق جے یو آئی کے سینکڑوں کارکن اتوار کی صبح خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے سے گزرنے والی اہم شاہراہ خیبر روڈ پر ٹائر جلاکر اسے ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Waheed Ullha

احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھاپائی اور تلخ کلامی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران کارکنوں کی طرف سے صوبائی اسمبلی کی مرکزی گیٹ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر کے ان کی یہ کوشش ناکام بنادی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے کچھ گولے بھی پھینکے۔

احتجاج کے دوران موجود مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر روڈ تقریباً دو گھنٹوں تک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور اس دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔ آخری خبریں آنے تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر پتھراؤ بھی کیا۔

یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام ف ابتدا ہی سے فاٹا انضممام کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

جے یو آئی خیبر پختونخوا اسمبلی میں حذب مخالف کی سب سے بڑی جماعت ہے لہذا یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان کے ممبران صوبائی اسمبلی سے منظوری کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply