عامر کی حاضر دماغی نے سیریز بھی جتوا دی اور رینکنگ بھی دلوا دی 93

عامر کی حاضر دماغی نے سیریز بھی جتوا دی اور رینکنگ بھی دلوا دی

عامر کی حاضر دماغی نے سیریز بھی جتوا دی اور رینکنگ بھی دلوا دی

سکور بورڈ پہ 182 ہو اور تعاقب کے لیے 120 گیندیں ہوں تو دنیا کی کوئی بھی ماڈرن ٹی ٹونٹی سائیڈ جیت کے لیے فیورٹ ٹھہرے گی۔ جب کہ یہاں، کوئی بھی ماڈرن ٹی ٹونٹی سائیڈ نہیں تھی، نمبر ون ٹی ٹونٹی ٹیم تھی جو اپنے ہوم گراونڈ میں کھیل رہی تھی۔

بیٹنگ لائن اپ میں گپٹل، ولیمسن اور راس ٹیلر جیسے آزمودہ بلے باز تھے کہ جن میں سے کوئی ایک بھی ٹک جائے تو کوئی بولر، کوئی کپتان صبر کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ لوئر آرڈر میں گرانڈ ہوم اور سینٹنر جیسے پاور ہٹر بھی موجود تھے۔

اس سے سوا یہ کہ دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی پہ پھیلے اس قسط وار ٹور کے سبھی میچ نیوزی لینڈ جیت چکا تھا، سوائے ایک پچھلے ٹی ٹونٹی کے۔ اور وہ جیت بھی ایسی تھی کہ جسے اس سیریز کے تناظر میں محض ایک ’اپ سیٹ‘ ہی کہا جا سکتا تھا۔

اور اس پہ طرہ یہ کہ کچھ روز پہلے جب مکی آرتھر سے پوچھا گیا کہ نتائج میں بہتری کے لیے وہ کیا پلاننگ کر رہے ہیں، تو ان کا زہر خند جواب کچھ یوں تھا، ’ہم صرف واپسی کی فلائٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

ان قرائن و شواہد کے بعد کوئی بھی ممکنہ وجہ نہیں تھی کہ نیوزی لینڈ آج کا میچ اور سیریز نہ جیت پاتا۔

لیکن ہدف بھلے 182 ہو یا صرف 82، جب مخالف اٹیک میں شاداب خان ہو، تو تمام تجزیوں کو ایک بار پھر خوب کھنگالنا پڑتا ہے۔ چلیں، شاداب خان کے خلاف تو یہ حکمت عملی طے کی جا سکتی ہے کہ صرف سنگل ڈبل نکال کر 24 گیندیں کھیل لی جائیں، ہدف کے لیے باقی بولرز کا پیچھا کیا جائے۔

لیکن جب باقی بولرز بھی رمان رئیس، عامر یامین اور محمد عامر ایسے ہوں تو پھر کھیلیں گے کس سے، اور عزت کسے دیں گے؟ اور کیسے دیں گے؟

یوں تو ہر فارمیٹ کی کرکٹ ہی “چانس” کے عنصر سے جڑی ہے، مگر جوں جوں کھیل کا دورانیہ کم ہوتا جاتا ہے، قسمت کا عنصر بڑھتا جاتا ہے۔ ٹیسٹ میں غلطیوں کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے، ون ڈے میں خاصی کم، اور ٹی ٹونٹی میں نہ ہونے کے برابر۔

پاکستان نے اپنی اننگز کے آخری پانچ اوورز میں 60 رنز بنائے۔ جب کہ نیوزی لینڈ کو آخری پانچ اوورز میں 72 رنز چاہیے تھے کہ وہ میچ بھی جیت جاتے، سیریز بھی اور نمبر ون رینکنگ بھی برقرار رہتی۔

سولہویں اوور کے آغاز تک میچ مکمل طور پہ پاکستان کی گرفت میں آ چکا تھا۔ تمام بڑے بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے۔ اور تو اور، گرانڈ ہوم کا خطرہ بھی ٹل چکا تھا۔ اور کریز پر تھے بھی تو کون؟ راس ٹیلر، جو بنیادی طور پہ ایک دھیمے مزاج کے ٹیسٹ بیٹسمین ہیں۔ ٹی ٹونٹی میچ کے ایسے مرحلے میں، جہاں مطلوبہ رن ریٹ پندرہ سے بھی تجاوز کر چکا ہو، انہیں بھیجنا ہی حماقت ہے۔

حالانکہ رمان رئیس کی اس گیند میں کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، اس پہ زیادہ سے زیادہ آن سائیڈ کی فیلڈ سے کھیل کر ایک سنگل لیا جا سکتا تھا۔ لیکن راس ٹیلر سبک قدموں سے کریز سے باہر نکلے، گیند کی لائن میں آئے اور بنا کسی مشقت، گیند کو مڈ وکٹ باونڈری کے پار پھینک دیا۔ یہ کیوی اننگز کا سب سے خوبصورت چھکا تھا۔

جہاں کیویز کو آخری پانچ اوورز میں 72 رنز چاہیے تھے، وہاں پہلے ہی اوور میں سترہ رنز بن گئے۔ اگلے اوور میں راس ٹیلر نے پھر ایک چھکا جڑ دیا۔ سرفراز کی باڈی لینگوئج پست ہونے لگی۔ ایک بار تو لگا کہ شاید اب پاکستان میچ میں واپس نہیں آ پائے گا۔

لیکن پھر تحیر کا ایک ایسا لمحہ آیا جہاں گراونڈ پہ موجود کسی بھی کھلاڑی، کسی بھی امپائر، کراوڈ کے کسی بھی تماشائی کو یہ پتا ہی نہیں چلا کہ ہوا کیا ہے۔

شاداب خِانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionشاداب خان نے دورہ نیوزی لینڈ میں شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کیا

ٹیلر نے قدموں کا استعمال کیا، گیند ان کی ٹانگوں کے بیچ سے گزر کر سرفراز کے گلوز میں گئی، سرفراز نے دوسرے اپنڈ پہ رن آوٹ کرنے کے لیے تھرو پھینکا مگر نشانہ چوک گیا۔ عامر نے سرفراز سے ریویو لینے کو کہا۔ سرفراز یہ سمجھے کہ عامر ٹیلر کے خلاف “فیلڈنگ میں رکاوٹ” کا ریویو لے رہے ہیں۔ امپائرز بھی یہی سمجھے۔

لیکن پھر اس لمحے کے تحیر کو سمجھنے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی۔ اور معلوم ہوا کہ وہ گیند راس ٹیلر کے بلے کو چھو کر سرفراز کے گلوز میں گئی تھی۔ جب کہ سرفراز نے کوئی اپیل ہی نہیں کی تھی۔ سرفراز ہی کیا، کسی بھی فیلڈر نے اپیل نہیں کی۔ یہاں تک کہ پاکستان نے ریویو بھی کسی اور گمان میں لیا تھا۔

ٹیلر جب پویلین کی جانب چلنا شروع ہوئے تو ایک شکستہ مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے جا رہے تھے۔ کرکٹ قوانین کے احترام میں وہ پویلین کو نکل تو پڑے مگر جاتے ہوئے بھی سرفراز سے مصر رہے کہ گیند نے ان کے بلے کو چھوا تک نہیں تھا۔ وہ سر جھٹکتے جا رہے تھے کہ آج ٹیکنالوجی انہیں دھوکہ دے گئی۔

مگر حقیقت وہی تھی جو بڑی سکرین پہ نظر آئی۔ اور عامر سے بہتر اس بات کا ادراک کسے ہو سکتا تھا کہ جب 2016 کے دورہ آسٹریلیا پہ دو بار سٹیون سمتھ ان کی گیندوں پہ کیچ آوٹ ہوئے تو گراونڈ میں شور ہی اتنا تھا کہ نہ انہوں نے اپیل کی نہ ہی سرفراز نے۔ اور میچ کے بعد کہیں سمتھ نے بتایا کہ وہ دونوں بار آوٹ تھے مگر پاکستان نے اپیل ہی نہیں کی۔

لیکن آج عامر کی حاضر دماغی نے پاکستان کو ایک سیریز بھی جتوا دی، نمبر ون رینکنگ بھی دلوا دی اور خوفناک ٹور کے بعد واپسی کا سفر خوشگوار رکھنے کی وجہ بھی دے دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply