11

’صوتی حملہ‘: کینیڈا نے کیوبا سے سفارتکاروں کے خاندان واپس بلا لیے

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

کینیڈا اور کیبوا میں 70 سال سے سفارتی تعلق قائم ہے

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں کینیڈا کے دس باشندوں میں غیر واضح طبی مسائل کے بعد کینیڈا نے اپنے سفارتکاروں کے خاندانوں کو کیوبا سے واپس بلا لیا ہے۔

ان دس افراد میں دماغی مسائل سامنے آئے جن کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دی۔

ان افراد میں بچے بھی شامل ہیں اور انہیں چکر آنا، متلی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔

اسی بارے میں

کیوبا میں امریکی سفارت خانے پر ’صوتی حملہ‘

کینیڈا کے طبی ماہر کے مطابق یہ ایک نئی طرز کی دماغی چوٹ ہے جو اس بیماری کی وجہ بن رہی ہے۔

یہ بیماری کیوبا میں کینیڈا کے سفارتی عملے اور ان کے خاندان پر اثر انداز ہوئی ہے۔

کینیڈا کا کہنا ہے کہ اسے لگتا ہے کہ صوتی حملہ اس بیماری کی وجہ بنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

سنہ 1959 میں کیوبا میں انقلاب کے بعد امریکہ کی طرح کینڈیا نے ہوانا کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم نہیں کیے تھے

گذشتہ برس ہوانا میں امریکی سفارتی عملے کو بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکہ نےہ گذشتہ ستمبر میں ہوانا سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلاتے ہوئے اپنے شہریوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ کیوبا کا سفر نہ کریں۔

اس کے مطابق 21 سفارتی اہلکار زخمی ہوئے۔

امریکی اہلکاروں کے مطابق اس کا شکار ہونے والے بعض افراد میں اب بھی یہ علامات دوبارہ پیدا ہو رہی ہیں۔

کیوبا نے ماضی میں امریکی سفارتخانے میں سانک اٹیک یعنی صوتی حملے سے انکار کیا تھا۔

کیوبا کے وزیر اعظم نے اکتوبر میں کہا تھا کہ یہ الزامات سیاسی ساز باز کا نتیجہ ہیں اور اس کا مقصد باہمی تعلقات کو خراب کرنا ہے۔

کینیڈا کے دس لاکھ شہری ہر سال کیوبا جاتے ہیں تاہم گلوبل افییر کینیڈا کے مطابق کسی سیاح میں ایسی علامات کے شواہد نہیں ملے۔

سنہ 1959 میں کیوبا میں انقلاب کے بعد امریکہ کی طرح کینڈیا نے ہوانا کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم نہیں کیے تھے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply